15/01/2024
کتابی پوسٹ===========۶۴
مرزا ہادی رسوا کا "امراؤ جان ادا" اردو کے اولین ناولوں میں سے ہے۔ یہ ناول مرزا ہادی کا سب سے بڑا حوالہ بنا۔
ممبئی یونیورسٹی ڈاکٹر رشید اشرف خان صاحب نے اس ناول کو منظوم شکل میں تقریباً سات ہزار اشعار کی مثنوی میں پیش کیا ہے جس کو پاکستان میں ورلڈ ویو پبلشر نے شائع کیا ہے۔
امراؤ جان ادا ایک طوائف "امراؤ جان" کی کہانی ہے۔جو کہ باقی طوائفوں سے مختلف تھی۔اس کی خوبصورتی کے ساتھ عادات و اطوار بھی باقی طوائفوں سے الگ تھیں۔
وہ خاندانی طوائف نہیں تھی،بلکہ فیض آباد میں اس کے والد ایک بارعب اور اچھی شہرت کی حامل شخص تھے۔ وہ پولیس میں جمعدار تھے۔امراوء کا خاندانی نام امیرن تھا۔ امیرن کے باپ نے دلاور نامی غنڈے کے خلاف گواہی دی جس کی وجہ سے وہ قید ہوا۔جیل سے واپس آ کر دلاور نے جمعدار سے بدلہ لینے کی ٹھانی،اس طرح اس نے آٹھ سالہ امیرن کو اغواء کیا۔پہلے تو وہ اس کو مارنے لگا تھا مگر اپنے ساتھی پیر بخش کے مشورے پر وہ اس کو ایک اور شخص کریم کے ذریعے لکھنؤ میں خانم نامی طوائف کے کوٹھے پر بیچ ڈالتے ہیں۔
لکھنؤ پہنچ کر امیرن، امیرن سے امراؤ جان بن جاتی ہے۔یہاں اس کی تربیت حسینی بوا نامی ایک اور بوڑھی طوائف کرتی ہے۔
اس ناول میں ایک طوائف کے شب و روز اور لکھنوی تہذیب کی عکاسی کی گئی ہے۔
امراؤ جان کی زندگی میں کئی نشیب و فراز آتے ہیں۔ وہ ایک فیضو نامی ڈاکو کے ساتھ خانم کے کوٹھے سے بھاگتی بھی ہے۔ پھر کانپور میں کچھ عرصے اپنا دھندہ کرتی ہے۔ ایک دن فیض آباد وہ رقص کرنے جاتی ہے تو املی کے پیڑ سے اپنے گھر کو جاتی ہے جہاں وہ اپنی ماں اور بھائی سے ملتی ہے۔بھائی کی ناپسندیدگی کی وجہ سے جلد وہ چلی جاتی ہے۔پھر حسینی بوا کے ذریعے سے اسے خانم کے احوال کا پتہ چلتا ہے تو واپس لکھنؤ آتی ہے۔
بالآخر وہ اپنا پیشہ ترک کر کے اپنی باقی زندگی عبادات میں گزارنے لگتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ شاعری بھی کرتی ہے اور "ادا" تخلص رکھتی ہے۔یہ ناول اس کی آپ بیتی ہے جس کو مرزا کے اصرار پر وہ سناتی ہے اور یہ سب بھی ایک مشاعرے میں اس کی داد کے بعد ہوتا ہے۔
ناول کی کہانی تو دلچسپ ہے ہی مگر اس کو منظوم شکل میں بصورت مثنوی پیش کرنا ڈاکٹر رشید اشرف خان صاحب کا ایک کارنامہ ہے اور خود انھوں نے لکھا ہے کہ اس کو مکمل کرنے کے لیے ان کو پانچ سال لگے۔
شاعری کی ساخت سے تو میں واقف نہیں اس لیے رائے نہیں دے سکتا مگر ہم کو نظر آتا ہے کہ ڈاکٹر رشید اشرف نے اس بات کا مکمل خیال رکھا ہے اور کہیں بھی کہانی سے ہٹ کر کوئی بے وزن شعر نہیں کہا۔