Tarikhpublications.com

Tarikhpublications.com Books to Change Human Vision of Life.

Ayaz Melo,Sindh Museum Hyderabad.From 20 December to 22 December, 2024.
20/12/2024

Ayaz Melo,
Sindh Museum Hyderabad.
From 20 December to 22 December, 2024.

Order Linkhttps://tarikhpublications.com/collections/devendar-issar (ابھی آرڈر کرنے پر  2100  روپے  اور اتوار کے بعد 250...
16/10/2024

Order Link
https://tarikhpublications.com/collections/devendar-issar
(ابھی آرڈر کرنے پر 2100 روپے اور اتوار کے بعد 2500 روپے)

تعارف
ادب کی آبرو | دیوندر اسر
نئی صدی کی دہلیز پر
ابھی بیسویں صدی ختم نہیں ہوئی کہ ادیبوں اور دانشوروں نے ہر فکر شے اور فن کے خاتمے یا موت کا اعلان کر دیا ہے ۔ خدا، انسان ، مذہب ، تاریخ ، نظریہ ، مارکسیت ، فن، ادب اور ادیب نابود یا پوسٹ “ ہو گئے ہیں (احساس مرگ اور لکھنا مستقبل کا)۔ اس عہد مرگ میں دنیا کی تاریخ ایک ایسے موڑ پر آگئی ہے جہاں جدیدیت اور مارکسیت اپنی کامرانیوں کے تمام تر دعووں کے باوجود شکست دریخت کا شکار ہو چکی ہیں۔ لہذا ان کے بعد آنے والے دور کو ما بعد جدیدیت کے عہد سے موسوم کیا جانے لگا ہے۔ کیا یہ احساس مرگ ایک بھولا ہوا بھیانک خواب بن کر رہ جائے گا یا اپنے گرداب میں سب کچھ بہا کر لے جائے گا؟

آخر یہ مابعد جدیدیت کیا ہے ؟ کیسے وجود میں آئی ؟ اس کی شناخت کے خدو خال کیا ہیں ہے (مابعد جدیدیت کا منظر نامہ ) کہیں ایسا تو نہیں کہ جدیدیت نے جو ریڈیکل موڑ لیا ہے ما بعد جدیدیت اُسے از سر نو لکھ رہی ہے ۔ اور ہم جدیدیت کا خاتمہ نہیں بلکہ نئی جدیدیت کا آغاز دیکھ رہے ہیں۔ اُس جدیدیت کا جو کلاسیکی اور صنعتی دور کی جدیدیت سے الگ ہے ۔ کیونکہ جدید کاری ایک نہ ختم ہونے والا مسلسل عمل ہے ۔ (ما بعد جدیدیت یا جدیدیت تحریر ثانی) - نئی صدی میں داخل ہوتے ہوئے ہمارے سامنے یہ اہم سوال ہے کہ کلاسیکی دور کی ماضی پرستی ، جدیدیت کی حال پرستی اور مابعد جدیدیت کی مستقبل پرستی کے بعد پوسٹ ۔ پوسٹ ماڈرن ازم کا منظر نامہ کیا ہوگا ہے

دنیا کی تاریخ میں ہر چند سو سال بعد کمیتی اور کیفیتی طور پر ایسی حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں کہ ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ گزشتہ تاریخ ، معاشرہ ، تہذیب ، فکر اور فن سب بدل گئے ہیں ۔ اور حیات و کائنات کے بارے میں ہمارا رویہ ہمارے معاشی، سماجی اور سیاسی نظام، ہمارا ادب اور فن ، ہمارا ور لڈویو ، ہمارا ظاہر و باطن ، ہماری بنیادی قدریں ۔ غرضیکہ پرانی تعمیریں منہدم ہو جاتی ہیں اور فکر و اظہار کے نئے پیکر اور اُسلوب جنم لیتے ہیں۔ جسے تاریخ کا تسلسل کہا جاتا ہے اس میں مسلسل عدم تسلسل کی صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہر تبدیلی نئی امید، نئے خدشات اور نئے امکانات کو جنم دیتی ہے ۔ جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی تبدیلی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کیا نئی صدی کے دہانے پر ہم ایک بار پھر ایسی ہی تبدیلیوں کے روبرو ہو رہے ہیں۔ سائنس اور ٹکنا لوجی نےانسان اور کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہی نہیں بدلا بلکہ انسان اور کائنات کو ہی بدل دیا ہے ۔

ادب اور جدید ذہن | دیوندر اسر
تعارف
اردو زبان و ادب میں مختلف تحریکات و رجحانات کے زیر اثرمثبت او رمنفی تبدیلیاں ہوتی رہی،جس میں حلقہ ارباب ذوق،ترقی پسند تحریک ،جدیدیت ،مابعد جدیدیت کے اثرات ادب پر زیادہ رہے۔ان تحریکات و رجحانات نے مختلف ادوار میں قلمکاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا،جس سے متاثر ہوکر ادب تخلیق کیا گیا۔جدیدذہانت کے حامل تخلیق کاروں نے جدیدیت کا آغاز کرتے ہوئے، جدید ادب تخلیق کیا ۔پیش نظر اسی ادب کا مطالعہ ہے۔کتاب کے موضوع سے متعلق مصنف دیویندرسرا رقمطراز ہیں۔"یہ کتاب جدید تہذیب اور اس سے پروردہ نئے ذہن کے دائرے میں ہم عصر اد ب کا مطالعہ ہے۔ظاہر ہے کیلنڈر کی کسی تاریخ سے جدید ذہن کے یوم پیدائش کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔جدید ذہن سے مراد وہ ذہنی اور سماجی فضا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد پید اہوئی اور جس نے ادب اور اقدار کو گہرے بحران میں لا پھینکا ہے۔"مصنف نے جدید ادب سے متعلق مختلف موضوعات پر مبنی مضامین کو یکجا کرتے ہوئے ،جدیدیت کی تعریف ،تشریح اورجدید نظریات کی وضاحت کی ہے۔

فکر اور ادب | دیوندر اسر
تعارف
ادب کی ماہیت ، اُس کا منصب اور اُس کی پرکھ ایک دوسرے سے ہمیشہ اس طرح منسلک رہے ہیں کہ انہیں الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے وجود کی شرط ان کا غیر منسلک باہمی رشتہ ہے کسی بھی شے کی پر کچھ کے لئے اس کی ماہیت اور اس کے منصب کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔ اُس شے کی ماہیت سے اس کے منصب کا تعین ہوتا ہے اور اس کی ماہیت کا یہ تقاضا ہے کہ اُس کا مخصوص مقصد حاصل ہو جائے۔ جس کے لئے وہ وجود میں آئی ہے یا لائی گئی ہے ہر شے کی تکمیل اس کے مخصوص استعمال میں ہے جس کو اُس شے کی ماہیت نے جنم دیا ہے۔ لہذا جن کے کچھ کی کسوٹی کا سوال اٹھتا ہے تو نہیں ان با ن باتوں پر غور کر نالازمی ہے کہ امس کرنالازمی شے کی ماہیت کیا ہے ؟ اس ماہیت سے کیا منصب والبتہ ہے ؟ اور اس منصب کی تکمیل کیسے ہو سکتی ہے اس کے بعد ہم عملی طور پر کسی فنی تخلیق کی قدر معبد ما قدر معین کر سکتے ہیں۔ ادب اور فن کی ماہیت ان کے منصب لہندا اسکی پرکھ کے معیار میں ہمیشہ اختلاف الرائے رہا ہے اسلئے من تنقید میں مختلف نظریے کا ر فرما نظر آتے ہیں نظریات کی ایسی کشمکش سے ادبی بحث کے رخ بدلتے رہے ہیں اور ادب میں گونا گوں تجر بے ہوتے رہے ہیں جن سے تخلیقی اور تنقیدی ادب کی ترقی کی نیت نئی راہیں دا ہوتی رہی ہیں۔

ادب اور نفسیات
پیش لفظ
ادب اور نفسیات کے باہمی رشتے کو واضح کرنے کے لئے گوناگوں نظریات کے مطالعے اور تجزئیے کی ضرورت آج کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ ادبی مسائل پر کبت کے دوران میں سماجی، سیاسی، سائنسی، مذہبی اور اخلاقی نکات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب بھی ادیب کی شخصیت اور اس کے تخلیقی عمل پر بحث ہو گی نفسیات کا ذکر نا گزیر ہو گا۔ انسان کا ہر شعور ہی عمل بنیادی طور پر اس کے ذہن سے وابستہ ہے۔ چنانچہ اس کے تخلیقی عمل کو سمجھنے کے لئے اس کی ذہنی ساخت اور اس کے ذہنی عمل کا مطالعہ ضروری ہے۔ علم نفسیات کے ذریعے ہم ادیب کا مطالعہ اس کی انفرادی اور مثالی (ٹائپ) حیثیت سے کرنے کے بعد اس کے تخلیقی عمل کے سرچشے کا راز پا سکتے ہیں۔ اور اس طرح ہم یہ جان سکتے ہیں کہ اس کا تخلیقی عمل ۔ کسی طرح پائے تکمیل کو پہنچا ہے اور اس کا اظہار ایک مخصوص شکل میں ہی کیوں ہوا ہے ؟

ادب میں نفسیاتی صداقت سے کیا مراد ہے ؟ ادبی تخلیقات میں نفسیاتی ٹائپ اور نقطہ نظر کو کیا مقام حاصل ہے ؟ ادیب داخلی یا خارجی محرکات سے جو محسوسات اخذ کرتا ہے ۔ انھیں کسی طرح ذہنی طور پر فن کے پیکر میں ڈھالتا ہے اور پھر کیسے انہیں خارجی شکل میں پیش کرتا ہے ۔ اس کے مختلف ہوتا ہے؟ کیا یہ سوال محض تیکنیک سے متعلق ہے یا اس کی کچھ نفسیاتی وجوہ بھی ہوتی ہیں۔ کسی ادیب کی تخلیقی قوت کو بروئے کار لانے کے لئے کون سے خارجی یا داخلی محرکات ضروری ہوتے ہیں۔ اور مختلف ادیبوں میں ان کی ماہیت یکساں رہتی ہے یا بدل جاتی ہے۔ کیا تخلیقی عمل شعوری ہوتا ہے یا لا شعوری ؟ کیا ادیب نورمل انسان ہوتا ہے یا اب نور مل؟ ادیب اپنی ذہنی ساخت کی مناسبت سے ادب اور سماج سے کس طرح مسلک ہوتا ہے ؟ ادیب اپنی تخلیقات سے کیوں اور کس طرح قارئین پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس نوعیت کے حملہ سوالات کا تعلق ادب اور نفسیات کے باہمی رشتے کے علاوہ علم کے دوسرے شعبوں سے بھی ہے۔ جدید ادب نفسیات کے نئے نظریوں کی روشنی میں فرد اور اس کے ذہنی عمل میں زیادہ سے زیادہ لچسپی لیتے لگا ہے ۔ جدید ادب میں ایک مخصوص نظریہ تو کردار کی ذہنی کیفیت کے بیان ہی کو اپنا مقصود سمجھتا ہے جدید ادب میں ہمیں اکثر اوقات فرد ، اس کے ذہن اس کی لاشعوری قوت اور ذہنی کیفیت کے گوناگوں تجربات کا بیان ملتا ہے ادب میں ان رجحانات کی اشاعت کا باعث فرائیڈ، ژونگ اور ایڈلر کے نظریات ہیں لیکن یہ کہہ دینا صحیح نہیں کہ فلاں ادیب فرائیڈ پرست ہے یار رنگ پریست عموماً ادیب کی تخلیقات میں کم و بیش ان تمام نظریات کی آمیزش ملتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسی ایک ماہر نفسیات سے متاثر ہوا ہو۔
Whatsappp 0333 4189149

پیش نظر کتاب ایک بیش بہا تصنیف ہے۔ بادشاہ خان کی سوانح عمریاں تو کئی شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے پیارے لال صاحب کی تصنیف ...
05/10/2024

پیش نظر کتاب ایک بیش بہا تصنیف ہے۔ بادشاہ خان کی سوانح عمریاں تو کئی شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے پیارے لال صاحب کی تصنیف کردہ سوانح عمری سب سے پہلے منظر عام پر آئی ۔ بعد ازاں انگریزی میں ٹنڈولکر صاحب کی لکھی ہوئی شائع ہوئی اور حال ہی میں جوشی صاحب نے بادشاہ خاں کی سوانح حیات مراٹھی زبان میں شائع کی ہے لیکن یہ کتاب سرحدی گاندھی کی آپ بیتی ہے۔ دوسروں کی نوشتہ سوانح عمریاں تو بے شمار ہو سکتی ہیں، لیکن آپ بیتی یا خود نوشت سرگزشت صرف ایک ہی ہوتی ہے اور جب وہ ایک حق پرست کی آپ بیتی ہوتی ہے تو وہ مستند بالذات ہونے کی وجہ سے لا مثال بن جاتی ہے۔

بادشاہ خان غیر منقسم ہندوستان کی جنگ آزادی کے ہر اول میں ایک سالار تھے۔ ان کے پر شجاعت پر عدم تشدد اہنسا کی وجہ سے ہندوستان نے انہیں سرحدی گاندھی کا لقب دیا تھا۔ اس دور یا نسل کے جو لوگ اس ملک میں اب تک زندہ ہیں، وہ تو خان عبد الغفار خاں کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں لیکن دور حاضرہ کی نئی نسل کے لئے وہ ماضی کی ایک ایسی تواریخی شخصیت بن کے رہ گئے ہیں، جس کی تاریخ دھندلی پڑ چکی ہے۔ اگر نئی نسل کو اس پر نور کردار کی کچھ جھلک نصیب ہو جائے ۔ اس ضو پاش تجلی کا ایک جلوہ میسر آ جائے تو شاید اس کے قدم ظلمت سے نور کی طرف بڑھ سکیں۔

ڈاکٹر طاہر محمود طاہر اردو کے استاد، شاعر محقق اور نصاب ساز ہیں ۔ کئی اداروں میں تدریسی خدمات کے علاوہ اسکول و کالج کے ا...
05/10/2024

ڈاکٹر طاہر محمود طاہر اردو کے استاد، شاعر محقق اور نصاب ساز ہیں ۔ کئی اداروں میں تدریسی خدمات کے علاوہ اسکول و کالج کے اُردو نصابات کی تشکیل ان کے کاموں میں شامل ہے ۔ اُردو غزل میں آزاد ، معری، مثلث ، مطلعیاتی ، دو ہا اور ماہیا غزل کے تجربات میں انھوں نے محبتوں کے سفر میں (۱۹۹۹ء ) نثری غزل کا تجربہ پیش کیا ۔ تحقیق کے حوالے سے سرور انبالوی اور اُردو افسانے پر بالترتیب ایم فل اُردو اور پی۔ ایچ۔ ڈی کی سطح کا کام کیا ہے۔

زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر طاہر محمود طاہر نے معاشرتی نا انصافی کو اُردو افسانے کے حوالے سے ڈوکومنٹ کیا ہے جس کا تعلق بیک وقت انسانی حقوق سے بھی ہے اور سماجی جبر سے بھی ۔ انسان کی تہذیبی تاریخ میں بالا دست طبقات اور ریاست کے طاقت اساس عمل نے عام اکثریت پر خوشحالی و ترقی اور آزادی و عدل کے دروازے بند کر کے انھیں استحصال ، جبریت اور محکوم میں دھکیلے رکھا ۔ جدید دور میں اُردو افسانے کی سو سالہ تاریخ در اصل نو آبادیات اور اس کے مقامی حلیف طبقات کے جبر و استحصال اور ان کے خلاف جدو جہد اور نفرت کی تاریخ بھی ہے۔ ڈاکٹر طاہر محمود طاہر نے اسے سیاسی ، سماجی ، معاشی، ثقافتی ، طبقاتی اور تانیثی حوالوں سےتحقیقی تجزیے کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر روش ندیم

ہندوستان کا تاریخی خاکہ | مارل مارکس | Hindustan ka Tarikhi Khakaہندوستان کا  تاریخی خاکہ مارکس اور اینگلز کی کتاب ، اس ...
04/10/2024

ہندوستان کا تاریخی خاکہ | مارل مارکس | Hindustan ka Tarikhi Khaka

ہندوستان کا تاریخی خاکہ مارکس اور اینگلز کی کتاب ، اس میں مارکس نے ہندوستان کی تاریخ کا خلاصہ پیش کیا ہے ۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ۲۶۴ تا ۱۸۸۵ء تک کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے اور نہایت عمدہ کتاب ہے ۔ اس میں مارکس اور اینگلز نے ہندوستان کی تاریخ سے منسلک واقعات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ کتاب ہندوستان کی تاریخ کا انسائیکلو پیڈیا بن گیا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ سے منسلک واقعات اور خاص طور برٹش پیرڈ پر مارکس کی رائے جاننے کے لیے یہ بڑی اہم کتاب ہے ۔ گو کہ ہندوستان کی تاریخ سے منسلک مختلف واقعات پر مارکس نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان سے جزوی طور پر اختلاف بھی ممکن ہے، مگر اس کتاب میں مارکس اور اینگلز نے جس تاریخیت اور سیاسی بصیرت سے کام لیا ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ہندوستان کا تاریخی خاکہ بہت ہی بہترین کتاب ہے جس کارل مارکس نے ہندوستان کا تاریخی خاکہ پیش کیا یہ کتاب بنیادی طور پر 804 سے لے کر 1857 تک کے تاریخی واقعات احاطہ کرتی ہے جس میں ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور انکی فتوحات خراساں میں مسلمان حکمران خاندان ، محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملے اور اس کی اولاد کا دور حکومت ، غوری خاندان کا عروج ، دہلی کا خاندان غلاماں ، خلجی خاندان تغلخ خاندان ، خاندان سادات ، لودھی خاندان اور بابر کی ہندوستان میں آمد اور اس کے بعد مغلیہ خاندان ، مغلیہ خاندان میں بابر کا عہد حکومت ، ہمایوں کا پہلا اور دوسرا اقتدار ، دہلی میں سوری خاندان ، اکبر کا دور حکومت ، جہانگیر کا عہد حکومت ، شاہجہان کا دور حکومت ، اورنگزیب کا دور اقتدار اور مرہٹوں کا عروج ، یورپی تاجروں کی ہندوستان میں آمد ، اورنگزیب کے جانشین پانی پت کی جنگ مغل اقتدار کا خاتمہ ، پانی پت کے جنگ کے بعد ہندوستان کی حالت ،،۔۔

ہندوستان پر بیرونی حملے ، ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیسے قبضہ کیا ؟ کرناٹک میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کی جنگ ، بنگال کے واقعات ، کلائیو کا دوسرا دور ، مدارس اور بمبئی کی صورتحال ، وان ہسٹنگرز کا نظم و نسق ، برطانیہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے معاملات کیا تھے ، لارڈ کانوالس کی انتظامیہ ، پارلیمانی کاروائیاں ، سرجان شورس کا نظم و نسق ، لارڈ ویلزلےکا دور ، لارڈ کانوالس کا دوسرا دور ، سر جارج بارلو کی انتظامیہ ، لارڈ منٹو کا دور ، لارڈ ہیسنگز کا دور ، ، ایسٹ انڈیا کمپنی کا آخری دور حکومت ، سر چارلس مٹکاف عارضی گورنر جنرل ، لارڈ آک لینڈ ، لارڈ ایلن بروکا دور ، لارڈ ہارڈنگ کا دور ، لارڈڈلہوذی کا نظم و نسق ، لارڈ کنینگ کا دور حکومت ،۔۔



اس کے بعد ہندوستان کی پہلے جنگ ازادی جو ۱۸۵۷ تا ۱۸۵۹ ، ہندوستان میں برطانوی راج ، ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ اور اس کے کاروائیوں کا نتائج ، ہندوستان میں برطانوی راج کے نتائج ، ہندوستانی فوج میں بغاوت ، ہندوستانی میں بغاوت ، ہندوستانی سوال ، ہندوستان سے موصول ہو نے مراسلات ، یورپ کی سیاسی صورتحال ، ہندوستان میں برطانوی آمدنیاں ، دہلی کی تسخیر ، آنے والا ہندوستانی قرضہ ، انڈین بل ، ہندوستان میں محصولات ، صنعتی سرمایہ کا آغاز ، حفاظتی تجارتی پالیسی اور آزاد تجارت ، ہندوستانی تاریخ کے متعلق یاداشتیں کارل مارکس اور اینگلز کے خط ،۔۔۔
Pages 352

جیسا میں نے دیکھا" وہ بھی ایک دور تھا جب آپ کی تحویل سے کلاشنکوف سے زیادہ خطرناک سائیں جی ایم سید کی کسی کتاب کا نکلنا س...
04/10/2024

جیسا میں نے دیکھا" وہ بھی ایک دور تھا جب آپ کی تحویل سے کلاشنکوف سے زیادہ خطرناک سائیں جی ایم سید کی کسی کتاب کا نکلنا سمجھا جاتا تھا۔ اور آج وقت ایسا بدلا ہے کہ وہی کتاب پنجاب میں شائع ہوئی ہے۔
جیسا میں نے دیکھا" کے عنوان سے یہ کتاب، سندھی میں لکھی گئی کتاب "جيئن ڏٺو آهي مون" کا اردو ترجمہ ہے، جسے فکشن ہاؤس نے شائع کیا ہے۔
1960 کے زمانے میں لکھی گئی یہ وہ کتاب ہے جو آج بھی آپ کے سوچنے کے انداز بدل سکتی ہے۔

Iran’s Nuclear Saga Regional Outcomes & Global ResponsesLabeled as 'Rouge_State' Iran's nuclear puzzle remains the most ...
02/10/2024

Iran’s Nuclear Saga Regional Outcomes & Global Responses
Labeled as 'Rouge_State' Iran's nuclear puzzle remains the most debated issue of nuclear non-proliferation community yet to resolve.
Less subjects have received such attention from international non-proliferation arenas as Iran's nuclear program. Labelled as 'rouge state within Middle East, Iran has remained an important regional player and non-Arab power contender surrounded by Arab power rivals. Viewed as a defiant state, Iran also seems to challenge US's interest in the region and beyond. Iran's nuclear program is feared to generate a nuclear arm race in the region and greatly hampering regional security, power balance and international non-proliferation efforts.

Iran's nuclear Saga presents a conceptual and analytical analysis of these threat perceptions at regional and global level. This book endeavors to investigate the possibility of nuclear chain reaction in the region. For this purpose this book has particularly focused to assess the political and security implications with regard to six gulf monarchies called GCC and Israel. The book also offers an in- depth analysis of Iran's nuclear deal brokered among Iran and Western powers in 2015 and its fate.

Dr. Tamknat has served Ministry of Foreign Affairs as an Export Control Officer. She is a trainer and a resource person on disarmament, nuclear non-proliferation and export control related activities. She served as faculty member in department of International Relations in NUML and Fatima Jinnah Women University.

Iran’s Nuclear Saga
Regional Outcomes & Global Responses
Labeled as 'Rouge_State' Iran's nuclear puzzle remains the most debated issue of nuclear non-proliferation community yet to resolve.

قومیں اوج کمال تک پہنچ سکتی ہیں بشر طیکہ ہر شخص قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے یہ فطرت کا ایک غیر متبدل قانو ن ہے ک...
01/10/2024

قومیں اوج کمال تک پہنچ سکتی ہیں بشر طیکہ ہر شخص قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے

یہ فطرت کا ایک غیر متبدل قانو ن ہے کہ انسان اپنی ایک طبعی عمرکے بعد دنیا سے کوچ کرجاتا ہے۔اسی طرح قومیں بھی افراد کی کوتاہیوں کی وجہ سے اپنی تمام حشر سامانیوں، فتح و کامرانی اور شکست و ریخت کے بعد زوال پذیرہوجاتی ہیں۔ موت کے بعد انسان کے عروج و زوال اور شوکت و عظمت کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ مابعدموت انسان کے لئے دنیاکی زندگی کا تصورر بھی محال ہے۔لیکن قوموں کی زندگی اس کلیہ سے مستشنیٰ ہوتی ہے۔ کسی بھی قوم سے وابستہ افراد اپنی سعی و جستجوسے قوم کے مردہ جسم میں روح پھونک سکتے ہیں۔ قوم افراد تیار نہیں کرتی بلکہ افراد کے ہاتھوں قوم کی تعمیر ہوتی ہے۔قوموں کا عروج و زوال اس کے افراد کے علم و شعور سے وابستہ ہوتا ہے۔ قومیں اپنے تمام تر زوال اور شکست و ریخت کے باوجود اوج کمال تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں بشر طیکہ ہر شخص قوم کی تعمیر میں اپنا گرانقدر کردار انجام دے۔

زوال کو عروج میں کیسے بدلیں
علامہ اقبالؒ نے اپنے لیکچر Reconstruction Religion Theory of Islam میں فرمایا کہ ’’مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے‘‘۔مسلمانوں کی فکر کئی صدیوں سے مفلوج اور منجمد ہوچکی ہے۔ یورپ نے چرچ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جس طرح ترقی حاصل کی ہے اسی طرح ہمارے بعض ذی العلم روشن خیال اسکالرز بھی مکمل فکری آزادی کی وکالت کرتے نظرآتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے زوال کی وجہ سائنس سے دوری ہے جب کہ مغرب میں سائنسی علوم کے زوال کا سبب ان کی مذہب سے دوری بنے گا۔ اسی تناظر میں مشہور فلسفی نٹشے کہتا ہے کہ’’جو تہذیب ماضی میں دیوقامت افراد پیدا کررہی تھی وہ اب بالشتے پیدا کر رہی ہے۔‘‘اخلاقی اقدار سے عاری یہ مادیت کے پرستار استعمار کے ہتھیار سے لیس ہوکر انسانی جذبات کی پاسداری کرنے کے بجائے انھیں نفع اور نقصان کے ترازو میں تول کر اللہ کی زمین کو نمونہ جہنم بنانے پر تلے ہیں۔

تاریخ میں فرد کا کردار
جارج پلیخانوف
ترجمہ صابرہ زیدی
صفحات 96

قوم کیا ہوتی ہے ؟ اس کے بننے میں کیا کیا چیزیں اہم ہوتی ہیں اور پھر قوم سے قومیت کا نظریہ کیوں ؟کس طرح اور کس لیے پھوٹتا...
30/09/2024

قوم کیا ہوتی ہے ؟ اس کے بننے میں کیا کیا چیزیں اہم ہوتی ہیں اور پھر قوم سے قومیت کا نظریہ کیوں ؟کس طرح اور کس لیے پھوٹتا ہے اس ساری تاریخی بحث و معلومات پر یہ کتاب مبنی ہے۔ نظریہ قومیت کی ابتدا ٕ ارتقا ٕ اسباب اور اس وقت قومیت کے حوالے سے علمی دنیا میں پاۓ جانے والے مختلف نظریات اور ان کی تفصیل اس تحقیقی کتاب میں موجود ہے۔

قومیت کسی بھی خطے کی اساسی شناخت ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس کے تحت رواج پانے والی تاریخی روایات، اقدار، رسوم، اجتماعی احساس، مشترکہ مفاد اور زبان و اطوار باہم مشترک ہوتی ہیں۔ یہی وہ قومیت کا بنیادی وظیفہ ہے جو باہمی انسلاکات اور اشتراکات پر یقین رکھتا ہے۔

غلام اصغر خان کی کتاب "نظریہ قومیت: عالمی و مقامی تناظر" اپنے موضوع کے حوالے سے ایک اہم متن ہے جس میں انھوں نے مقامیت کی تہہ در تہہ متنوع جہات کو بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر قوم اور قومیت، قومیت کے خصائص و علائم، قومیت کے نامیاتی اجزا، تحریک قومیت کا آغاز و ارتقا، قومیت کے فوائد، قومیت کے نقصانات، قومیت کی اقسام، اسلام کا نظریہ قومیت اور برصغیر میں نظریہ قومیت کا ارتقا و پس منظر جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

نظریہ قومیت عالمی و مقامی تناظر
تحقیق و تصنیف | غلام اصغر خان

سوویت یونین میں سوشلزم کا زوال کیوں آیا ؟ | ایک مارکسی تجزیہ | ایاز علی    اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت یونین ک۱ ا۹ ۱۹می...
10/07/2024

سوویت یونین میں سوشلزم کا زوال کیوں آیا ؟ | ایک مارکسی تجزیہ | ایاز علی

اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت یونین ک۱ ا۹ ۱۹

میں جو انہدام ہوا ، وہ تاریخ کا ایک بڑا حادثہ تھا۔

حادثہ لازمی تو نہیں ہوتا لیکن اس کے لازمی ہونے کے بہت سارے اسباب موجود ہوتے ہیں۔ جدلیات کی سائنس بھی ان اسباب کی تصدیق کرتی ہے۔ اس طرح 1991 میں سوویت یونین ٹوٹ گیا تو اس کے بھی بہت سارے اسباب تھے۔ وہ سیاسی بھی تھے تو معاشی بھی تھے ، وہ فکری بھی تھے تو عملی بھی تھے۔ قطع نظر اس کے سوویت یونین کے انہدام کی وجہ سے آج تک لوگ حیران اور پریشان ہیں۔ امریکی دانشور فو کو یاما ( جنم : 1952 ) نے ششدر ہو کر یہ تک کہہ دیا کہ اب تاریخ کا خاتمہ ہو چکا ہے اور سوویت یونین کے زوال کے بعد اب دنیا میں کوئی بھی تضاد باقی نہیں رہا۔ بہر کیف، دنیا میں بہت سارے لوگ آج تک اس بات کو سمجھ نہ سکے ہیں کہ اکتوبر 1917 میں جو رو__س میں مزدوروں کا انقلاب آیا، جس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ مزدوروں اور کسانوں کو اقتدار و اختیار کا مالک بنایا، جس نے طبقاتی نظام اور طبقاتی تفریق کو ختم کیا، جس نے ہر قسم کے ظلم اور استحصال کا خاتمہ کیا، جس نے انسانی تاریخ میں اجتماعیت کا انوکھا تجربا کیا، جس نے سرمائیدار دنیا کو اچھے میں ڈال دیا، جس کی وجہ سے ایشیا، افریقہ ، اور لاطینی__امریکہ کے ایک سو سے زائد ممالک میں انقلاب آئے، جس نے مظلوم اقوام اور طبقات کا استحصال کرنے والے جاگیر داری۔ سرمایہ داری نظام کو مفلوج کر کے عالمی انقلاب کی تحریک شروع کردی، جس نے دوسری جنگ عظیم میں فتح حاصل کر کے دنیا میں محنت کش طبقے کا اخلاقی مورال بلند کیا، جس نے نو آبادیاتی اقوام کی مدد کی، ان کو آزادی دلائی اور برطانوی سامراج کی کمر توڑ دی، جس نے ہندوستان اور پاکستان کے آزادی کا راستہ ہموار کیا وہ ہی انقلاب پچھتر سالوں کے سفر کے بعد اگست 1991 میں کیوں اپنے خاتمے سے دوچار ہوا؟ سوال یہ ہے کہ سوویت یونین میں آخر سوشلزم کا زوال کیوں آیا؟ کیا یہ سوشلزم کی ناکامی تھی یا یہ صرف سوویت یونین کا زوال تھا ؟ اگر 1991 میں سوویت یونین کا زوال آیا تو کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سوشلزم بطور نظریہ ناکام ہوا یا یہ ناکامی اس نظام کی تھی، جس کو سوویت یونین میں اسٹالن (1878-1953) کی وفات کے بعد روسی کمیونسٹ پارٹی نے قائم کیا تھا؟ ان سولات پر اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ مفصل بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔

باب ۱ : روسی انقلاب اور اس کے فاتح طبقات
باب ۲ : لنین کا دور : انقلاب کے فاتح طبقات میں ٹکراو اور سوشلزم کے لیے خطرہ
باب ۳ : اسٹالن کا دور
باب ۴ : اسٹالین کے بعد روس میں ترمیم پسندی کا ابھار اور سوشلزم کا زوال
باب ۵ : سوویت یونین کے زوال کے اندرونی اور بیرونی اسباب
باب ۶ : نیتجہ
حوالہ جات ، فرہنگ ، کتابیات اور اشاریہ
سوویت یونین میں سوشلزم کا زوال کیوں آیا ؟
ایک مارکسی تجزیہ
مصنف ایاز علی
صفحات 302

Rs.1,200.00

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 10:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00
Friday 10:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 20:00

Telephone

+923334189149

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tarikhpublications.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tarikhpublications.com:

Share

Category