26/11/2025
ایک دفعہ 100 عام نسل کے گھوڑوں کے درمیان ایک عربی نسل کا گھوڑا شامل ہو گیا۔ تمام گھوڑوں کا رنگ، جسامت اور شکل ایک جیسی تھی۔ مالک کے پاس کوئی ایسی نشانی نہ تھی جس سے وہ عربی نسل کے گھوڑے کو پہچان سکے۔
اس نے مصر سے ماہر گھڑسواروں کو بلایا تاکہ وہ اس مخصوص گھوڑے کی شناخت کر سکیں، مگر تمام ماہرین ناکام رہے۔
اسی دوران ایک بوڑھا بزرگ وہاں سے گزرا۔ اس نے ساری بات سنی اور کہا:
"میرے پاس ایک ترکیب ہے، میں ابھی اس عربی نسل کے گھوڑے کو تلاش کر سکتا ہوں، مگر میری شرط ہے کہ کوئی کچھ نہیں بولے گا۔"
سب نے حیرت سے شرط مان لی۔
بوڑھے نے ایک ڈنڈا اٹھایا اور ایک ایک کر کے تمام گھوڑوں کو ہلکے ہلکے مارنے لگا۔ تمام گھوڑے خاموشی سے مار برداشت کرتے رہے، مگر ایک گھوڑا ایسا بھی تھا جو ہر ضرب پر بےچین ہو جاتا، غصے سے ٹاپنے لگتا اور اپنی جگہ پر کھڑا نہ رہتا۔
بوڑھا وہیں رکا اور کہا:
"یہ ہے عربی نسل کا اصلی گھوڑا!"
سب حیران ہو گئے اور پوچھا:
"بابا جی! آپ کو کیسے پتا چلا؟"
بوڑھا مسکرایا اور بولا:
"اصلی نسل کا گھوڑا غیرت والا ہوتا ہے۔ وہ تکلیف برداشت نہیں کرتا، ظلم سہہ کر خاموش نہیں رہتا۔ وہ ردعمل دیتا ہے، اپنی خودداری دکھاتا ہے۔"
---
سبق:
جو اصل اور خالص ہوتا ہے، وہ کسی نشان یا شناخت کا محتاج نہیں ہوتا۔