Al_Hamd_Publications Books

09/08/2023

شوکت تھانوی (3 فروری 1904ء – 4 مئی، 1963ء)ایک صحافی،ناول نگار، ڈراما نگار،افسانہ نگار، مزاح نگار، ادیب اور شاعر تھے۔[3][4] انھوں نے ادب کی ہر صنف میں نام کمایا مگر ان کی اصل شہرت مزاح نگاری اور خاص طور پر روزنامہ جنگ میں لکھے گئے ان کے مزاحیہ کالم ہیں۔ نام محمد عمر اور شوکت تخلص کرتے تھے۔ شوکت تھانوی کے نام سے مشہور ہوئے۔

سوانح حیات
اتر پردیش (یو پی) کے مشہور قصبے تھانہ بھون کے رہنے والے تھے۔ ضلع متھرا کے مقام بندرابن میں 1907ء میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔[5][6][7] کچھ دنوں بعد ان کے والد انسپکٹر جنرل پولیس ہو کر بھوپال چلے گئے۔ شوکت نے بھوپال ہی میں ہوش سنبھالا۔ پھر والد لکھنؤ آ گئے۔ کچھ دنوں علی گڑھ میں بھی رہے مگر والد کی وجہ سے تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر معاش کی فکر کرنی پڑی۔ صحافت سے دلچسپی تھی۔ ہندوستان کے کئی مشہور اخباروں سے وابستہ رہے۔ ان میں ہمدم، ہمت، ہفت روزہ سرپنچ زیادہ مشہور ہیں۔ اسی ہفتہ وار اخبار نے انہیں مزاح نگار کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ ان کے مضامین سودیشی ریل، سودیشی ڈاک وغیرہ اب تک دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی آ گئے اور مختلف اخبارات سے وابستہ رہے۔ ریڈیو پاکستان سے ان کا مستقل فیچر (قاضی جی) بہت مقبول ہوا۔ آخری دنوں میں (جنگ) راولپنڈی ایڈیشن کے ایڈیٹر تھے۔ 1963ء میں انتقال ہوا۔ شوکت تھانوی شاعر بھی تھے، ان کا مجموعہ کلام (گہرستان) کے نام سے شائع ہوا۔

تصانیف
نمبر عنوان نوعیت صفحات ناشر سن اشاعت دیگر معلومات
1 سودیشی ریل
2 قاضی جی
3 کارٹون
4 شیش محل 112 ادبا و شعرا پر مضامین 216 نسیم بُک ڈپو۔ لکھنؤ 1981
5 قاعدہ و بے قاعدہ
6 گہرستان شاعری 208 اشاعت العلوم پریس۔ لکھنؤ
7 شوکتیاں لاہور،ا ُردو بُک سٹال 1954
8 بیربل و ملا دو پیازہ
9 مسٹر
10 بید کی کرسی
11 سسرال
12 راجا صاحب
13 دیکھا جائے گا
14 بھابی ناول 324 ادارۂ فروغِ اُردو،لاہور 1962 بار دوم
15 تیسرا آدمی 11 افسانے 283 مکتبہ اُردو، لاہور، س ن
16 منشی جی
17 میر صاحب
18 لاٹری کا ٹکٹ
19 غزالہ (ناول)
20 سانچ کو آنچ (ناول)
21 رقاصہ
22 دوزح
23 حامد مرحوم
24 جوڑ توڑ
25 مغالطہ
26 کہا مرزا غالب نے
27 سچ
28 مضامین شوکت
29 سُسرال ناول 192 ادارۂ فروغِ اُردو۔ لاہور، س ن،
30 سیلاب تبسم (مزاح)
31 دنیائے تبسم (مزاح) 227 حالی پبلشنگ ہاؤس۔ دہلی، بار سوم س ن،
32 دُنیا کی بات یکم ستمبر 1937ء
33 نورتن
34 مونڈی کاٹے
35 مولانا
36 بقراط (ناول)
37 طوفان تبسم (مزاح)
38 شرمناک افسانے
39 معما خاتون
40 مسکراہٹیں
41 شیطان کی ڈائری
42 ڈھونگ
43 خانم خان
44 بڑبھس
45 بکواس (ناول) اُردو بُک اسٹال۔ لاہور
46 مجھے خرید لو
47 کنیا
48 دل پھینک لکھنؤ، صدیق بکڈپو 1942
49 انشاء اللہ
50 پہیلی بیگم (مزاحیہ ناول)
51 مسٹر چارسو بیس
52 ہم زلف
53 داماد
54 بیگم صاحبہ (ناول)
55 گرگٹ
56 بیوی
57 خدا نخواستہ (ناول)
58 پگلی
59 برقِ تبسم (مزاح)
60 مابدولت (خود نوشت)
61 کچھ یادیں کچھ باتیں
62 بحرِ تبسم (مزاح)
63 موج تبسم (مضامین)
64 لاہوریاتشوکت تھانوی (3 فروری 1904ء – 4 مئی، 1963ء)ایک صحافی،ناول نگار، ڈراما نگار،افسانہ نگار، مزاح نگار، ادیب اور شاعر تھے۔[3][4] انھوں نے ادب کی ہر صنف میں نام کمایا مگر ان کی اصل شہرت مزاح نگاری اور خاص طور پر روزنامہ جنگ میں لکھے گئے ان کے مزاحیہ کالم ہیں۔ نام محمد عمر اور شوکت تخلص کرتے تھے۔ شوکت تھانوی کے نام سے مشہور ہوئے۔

سوانح حیات
اتر پردیش (یو پی) کے مشہور قصبے تھانہ بھون کے رہنے والے تھے۔ ضلع متھرا کے مقام بندرابن میں 1907ء میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔[5][6][7] کچھ دنوں بعد ان کے والد انسپکٹر جنرل پولیس ہو کر بھوپال چلے گئے۔ شوکت نے بھوپال ہی میں ہوش سنبھالا۔ پھر والد لکھنؤ آ گئے۔ کچھ دنوں علی گڑھ میں بھی رہے مگر والد کی وجہ سے تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر معاش کی فکر کرنی پڑی۔ صحافت سے دلچسپی تھی۔ ہندوستان کے کئی مشہور اخباروں سے وابستہ رہے۔ ان میں ہمدم، ہمت، ہفت روزہ سرپنچ زیادہ مشہور ہیں۔ اسی ہفتہ وار اخبار نے انہیں مزاح نگار کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ ان کے مضامین سودیشی ریل، سودیشی ڈاک وغیرہ اب تک دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی آ گئے اور مختلف اخبارات سے وابستہ رہے۔ ریڈیو پاکستان سے ان کا مستقل فیچر (قاضی جی) بہت مقبول ہوا۔ آخری دنوں میں (جنگ) راولپنڈی ایڈیشن کے ایڈیٹر تھے۔ 1963ء میں انتقال ہوا۔ شوکت تھانوی شاعر بھی تھے، ان کا مجموعہ کلام (گہرستان) کے نام سے شائع ہوا۔

تصانیف
نمبر عنوان نوعیت صفحات ناشر سن اشاعت دیگر معلومات
1 سودیشی ریل
2 قاضی جی
3 کارٹون
4 شیش محل 112 ادبا و شعرا پر مضامین 216 نسیم بُک ڈپو۔ لکھنؤ 1981
5 قاعدہ و بے قاعدہ
6 گہرستان شاعری 208 اشاعت العلوم پریس۔ لکھنؤ
7 شوکتیاں لاہور،ا ُردو بُک سٹال 1954
8 بیربل و ملا دو پیازہ
9 مسٹر
10 بید کی کرسی
11 سسرال
12 راجا صاحب
13 دیکھا جائے گا
14 بھابی ناول 324 ادارۂ فروغِ اُردو،لاہور 1962 بار دوم
15 تیسرا آدمی 11 افسانے 283 مکتبہ اُردو، لاہور، س ن
16 منشی جی
17 میر صاحب
18 لاٹری کا ٹکٹ
19 غزالہ (ناول)
20 سانچ کو آنچ (ناول)
21 رقاصہ
22 دوزح
23 حامد مرحوم
24 جوڑ توڑ
25 مغالطہ
26 کہا مرزا غالب نے
27 سچ
28 مضامین شوکت
29 سُسرال ناول 192 ادارۂ فروغِ اُردو۔ لاہور، س ن،
30 سیلاب تبسم (مزاح)
31 دنیائے تبسم (مزاح) 227 حالی پبلشنگ ہاؤس۔ دہلی، بار سوم س ن،
32 دُنیا کی بات یکم ستمبر 1937ء
33 نورتن
34 مونڈی کاٹے
35 مولانا
36 بقراط (ناول)
37 طوفان تبسم (مزاح)
38 شرمناک افسانے
39 معما خاتون
40 مسکراہٹیں
41 شیطان کی ڈائری
42 ڈھونگ
43 خانم خان
44 بڑبھس
45 بکواس (ناول) اُردو بُک اسٹال۔ لاہور
46 مجھے خرید لو
47 کنیا
48 دل پھینک لکھنؤ، صدیق بکڈپو 1942
49 انشاء اللہ
50 پہیلی بیگم (مزاحیہ ناول)
51 مسٹر چارسو بیس
52 ہم زلف
53 داماد
54 بیگم صاحبہ (ناول)
55 گرگٹ
56 بیوی
57 خدا نخواستہ (ناول)
58 پگلی
59 برقِ تبسم (مزاح)
60 مابدولت (خود نوشت)
61 کچھ یادیں کچھ باتیں
62 بحرِ تبسم (مزاح)
63 موج تبسم (مضامین)
64 لاہوریات

09/08/2023

عصمت چغتائی ہندوستان کی ایک مشہور اردو مصنفہ، جنہوں نے افسانہ نگاری، خاکہ نگاری اور ناول نگاری میں نام پیدا کیا۔ اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ جبکہ جودھ پور میں پلی بڑھیں، جہاں ان کے والد،مرزا قسیم بیگ چغتائی، ایک سول ملازم تھے۔ راشدہ جہاں، واجدہ تبسم اور قراۃالعین حیدر کی طرح عصمت چغتائی نے بھی اردو ادب میں انقلاب پیدا کر دیا۔ عصمت چغتائی لکھنؤ میں پروگریسیو رائٹرز موومنٹ سے بھی منسلک رہیں۔

تعارف
عصمت چغتائی کی پیدائش 21 اگست، 1915ء میں ہندوستان کے شہر بدایوں میں ہوئی۔ اور 77 سال کی عمر میں 1991ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔[2]

عصمت چغتائی کا ادبی خاندان
عصمت چغتائی کے نانا کا امراؤ علی تھا جن کا شمار اردو کے ابتدائی دور کے ناول نگاروں میں ہوتا تھا۔ ان کے دو ناول خاص طور پر 'رزم بزم' اور 'البرٹ بل' اپنے وقت میں بہت مقبول ہوئے تھے۔ان کے بھائی مرزا عظیم بیگ چغتائی اردو کے مشہور مزاح نگار تھے

فلمی سفر
'ضدی' یہ فلم 1948ء میں عصمت چغتائی نے لکھی تھی۔ 1950ء میں آرزو فلم کے انھوں نے مکالمے بھی لکھے اور اسکرین پلے بھی جب کہ کہانی بھی عصمت چغتائی کی ہی تھی۔ 1958 ء میں سونے کی چڑیا فلم کی کہانی بھی انھوں نے ہی لکھی۔1974 ء میں ایک فلم آئی تھی جس کا نام 'گرم ہوا' تھا جو عصمت چغتائی کے ایک افسانہ کو بنیاد بنا کر بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے مکالمے اور اسکرین پلے کیفی اعظمی اور شمع زیدی نے تحریر کیے تھے۔ اس کے علاوہ عصمت چغتائی نے فلم جنون اور فلم 'محفل' کے بھی مکالمے تحریرکئے۔ [3]

عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری
عصمت چغتائی نے خواتین اور ان سے جڑے مسائل پر لکھا ہے۔ ان کے افسانے اور ناول متوسط طبقہ کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا پہلا افسانہ ”گیندا“ ہے۔ اس افسانے میں انھوں نے کئی اہم موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ اس افسانہ کا مرکزی کردار گیندا ہے۔ یہ ایک نہایت غریب لڑکی ہے۔ اس کی سہیلی ایک اوسط درجہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ کہانی اسی لڑکی کی زبانی سنائی گئی ہے۔ دونوں بچپن سے ساتھ کھیلتے ہیں۔ گیندا کی بچپن میں ہی شادی ہوجاتی ہے اور وہ بیوہ بھی ہو جاتی ہے۔ کھیل کے دوران میں جب گیندا کو سیندور دیا جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ”بدھوا کاہے کو سنگھار کرے“۔ گیندا کی سہیلی کا بھائی گیندا کو ماں بنادیتا ہے۔ کسی طرح لڑکے کو دہلی بھیج دیا جاتا ہے۔ سال دیڑھ سال بعد گیندا کی سہیلی واپس آتی ہے تو گیندا کی گود میں بچہ ہوتا ہے۔

عصمت چغتائی ترقی پسند ادب سے وابستہ تھیں۔ ترقی پسند ادب کے بارے میں ان انھوں نے کہا:

” ایسا ادب جو انسان کی ترقی چاہے۔ انسان کی بھلائی چاہے۔وہ ادب وہ آرٹ جو انسان کو پیچھے نہ دھکیلے۔ انسان کو دنیا کی اچھی سمت پر چلائے۔ وہ ادب جو انسان کو صحت، علم اور کلچر حاصل کرنے میں مدد دے اور جو ہر انسان کو برابر کا حق دینے پر یقین رکھتا ہو۔ انسان کی زندگی کے عروج کا قائل ہو۔ انسان کوگندگی سے نکال کر صاف و شفاف علم کی طرف پہنچادے۔ مکمل طور پر انسان کی بھلاسئی چاہے۔ اس کے سوچنے کے انداز پر ایسا اثر ڈالے کہ بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھے۔ اندھیرے میں جانے کی بجائے اجالے کی طرف آئے۔وہ ادب ترقی پسند ہے۔ جب ہم ترقی پسند ادب کہتے ہیں تو اس کی وسعت لامحدود ہے۔ قصہ، کہانی، نظم، غزل غرض کہ ہر فکر و عمل کے کارہائے نمایاں جن سے انسان کی فلاح وبہبود مقصود ہو وہی دراصل ترقی پسند ادب ہے۔ “
لحاف
1934ءمیں انہوں نے لحاف کے نام سے کہانی لکھی۔ لحاف کے بارے میں عصمت چغتائی اپنی آپ بیتی میں لکھتی ہیں کہ

” لحاف سے پہلے اور لحاف کے بعد میں نے جو کچھ لکھا اس پر کسی نے غور نہیں کیا۔لحاف کا لیبل اب بھی میری ہستی سے چپکا ہوا ہے۔ لحاف میری چڑ بن گیا۔ میں کچھ بھی لکھوں لحاف کی تہوں میں دب جاتا۔ لحاف نے مجھے بڑے جوتے کھلوائے۔ “
[4]

چوتھی کا جوڑا
”چوتھی کا جوڑا“عصمت چغتائی کا نمائندہ افسانہ ہے۔ یہ ایک غریب بیوہ بی اماں کے خاندان کی کہانی ہے۔ دو بیٹیوں کی ماں گھر میں زری کا کام کرکے اپنی اور بیٹیوں کی کفالت کرتی ہے۔ کبریٰ بڑی لڑکی ہے جس کی عمر کافی بڑھ چکی ہے اور اس کی شادی کی فکر میں وہ گھلی جا رہی ہے۔ جب کہ چھوٹی بیٹیا وحیدہ ہے۔ زری اور کترن کے کام میں بی اماں بہت زیادہ ماہر تھی اور محلہ کی عورتیں جن کپڑوں میں مکمل سلائی نہ ہوتی وہ لاکر بی اماں کے حوالے کردیتے اور وہ اس طرح سے کترن کرتی کہ کپڑا برابر ہوجاتا۔ یہ مہارت وہ استقلال کے ساتھ کرتی اور محلہ کی عورتیں حیرت سے اس کا منہ تکتی۔ بی اماں کی مہارت کے بعد عصمت چغتائی نے اس بیوہ کی دلی خواہش کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اپنی بیٹی کی شادی کی خواہش دل میں لیے وہ بار بار چوتھی کا جوڑا بناتی اور پرانا ہونے پر اسے ادھیڑ کر پھر سے نیا کردیتی۔ بی اماں کی کیفیت کو وہ اس طرح بیان کرتی ہیں:

” دوپہر کا کھانا کھانے کے بی اماں ایک بڑا صندوق کھول کر بیٹھ جاتی جس میں رنگ برنگے ڈوپٹے ، شادی اور چوتھی کے جوڑے وغیرہ ہوتے ۔ اسے دیکھ کر وہ کبریٰ کی شادی کے بارے میں سوچتی۔ محلہ کی کتنی دلہنوں کے لےے جوڑا تیار کرنے والی بی اماں اپنی بڑی بیٹی کبریٰ کے لےے جوڑا تیار کرتی اور جب وہ پرانا ہوجاتا تو اسے ادھیڑ دیتی اور پھر سے نیا جوڑا بناتی۔جب محلہ چار عورتیں جمع ہوں تو مختلف مسائل پر گفتگو بھی ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی کبھی کبھی بیہودہ مذاق بھی ہوتے تھے۔ “
ان مذاقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لطیف انداز میں عصمت چغتائی لکھتی ہیں۔

جب محلہ کی عورتیں جمع ہوجاتی اور مذاق کرنے لگتی تو کم عمر اور کنواری لڑکیوں کو دور بیٹھادیاجاتا۔ جب زور دار قہقہہ بلند ہوتا تو وہ لڑکیاں سوچنے لگتی کہ ہم کب اس طرح کا قہقہہ لگاسکیں گے۔ اس چہل پہل سے دور کبریٰ مچھروں والی کوٹھڑی میں سرجھکائے بیٹی رہتی۔ کبریٰ کی عمر بڑھ رہی ہے اور مچھروں والی کوٹھڑی میں پڑی رہتی ہے۔ اس کی چھوٹی بہن حمیدہ اس کہانی کا اہم کردار ہے اکثر جملے عصمت چغتائی نے اسی کے ذریعہ سے کہلوائے ہیں۔ حمیدہ کے ابو کی کی تفصیلات بھی حمیدہ کے ذریعہ سے ہی بتلائی گئی ہیں:

” حمیدہ چھوٹی بیٹی ہے اور اسے اپنے ابو کی یاد آتی ہے۔ اب کتنے دبلے پتلے تھے جیسے محرم کا علم ، ایک بار جھک گئے تو سیدھے کھڑا ہونا دشوار تھا۔ صبح ہی صبح نیم کی مسواک توڑ لیتے اور پھر حمیدہ کو گھٹنے بٹھا کر نہ جانے کیا سوچتے ہوئے مسواک کرتے ، مسواک کا کوئی پھونسڑا حلق میں چلے جاتا تو کھانستے ہی چلے جاتے۔ حمیدہ بگڑ کر ان کی گود سے اتر آتی۔ “
بی اماں کے شوہر کی بیماری کا تذکرہ عصمت چغتائی نے مکالمہ کے ذریعہ لکھا ہے :

” کچھ دوادارو کیوں نہیں کرتے ، کتنی بار کہا تم سے۔ “
” بڑے شفاخانے ڈاکٹر کہتا ہے سوئیاں لگواﺅ۔ روز تین پاﺅ دودھ اور آدھی چھٹاک مکھن کھاﺅ۔ “
” ”اے خاک پڑے ان ڈاکٹروں کی صورت پر بھلا ایک تو کھانسی اوپر سے چکنائی، بلغم نہ پیدا کردے گی۔ حکیم کو دکھاﺅ کسی کو۔”دکھاﺅں گا“ یہ کہہ کر وہ حقہ گڑگڑاتے۔ گھر کے اہم فرد کے انتقال کے بعد گھر کے حالات بالکل بدل جاتے ہیں۔ “
عصمت چغتائی نے ان تبدیلیوں کو اپنے مخصوص انداز میں اس طرح بیان کیا ہے :

” ابا ایک دن چوکھٹ پر گرگئے اور انھیں اٹھانے کے لےے کسی حکیم یا ڈاکٹر کا نسخہ نہ آسکا۔ اور حمیدہ نے میٹھی روٹی کی ضد کرنی چھوڑدی۔ اور کبریٰ کے پیغام نہ جانے کدھر راستہ بھول گئے۔ جانو کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اس ٹاٹ کے پردے کے پیچھے کسی کی جوانی آخری سسکیاں لے رہی ہے اور ایک نئی جوانی سانپ کے پھن کی طرح اٹھ رہی ہے مگر بی اماں کا دستور نہ ٹوٹا وہ اسی طرح روز دوپہر کو سہ دری میں رنگ برنگ کپڑے پھیلاکر گڑیوں کا کھیل کھیلا کرتی ہیں۔ “
کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتاہے جب حمیدہ کے منجھلے ماموں کا بیٹاراحت اس بیوہ کے گھر میں ایک امید کی کرن بن کر آتا ہے۔ بیوہ بی اماں یہ سمجھتے ہے کہ اس کے بھائی کا بیٹا یہاں آیا ہے تو ہو سکتا ہے اس کا داماد بن جائے۔ اپنے گہنے اور زیورات بیچ کر یہ بیوہ راحت کے لے ے راحت کا سامان مہیا کرتی ہے تاکہ وہ مہمان نوازی سے خوش ہو اور کبریٰ سے شادی کرلے۔ عصمت چغتائی حمیدہ کی زبانی راحت کے آنے کی تفصیلات اس طرح فراہم کرتی ہیں:

” ایک دن منجھلے ماموں کا تار آیا کہ ان کا بڑا لڑکا راحت پولیس کی ٹریننگ کے سلسلہ میں آرہا ہے۔ بی اماں کو تو بس ایک دم جیسے گھبراٹ کا دورہ پڑ گیا جانو راحت نہیں، چوکھٹ پر بارات آئی کھڑی ہو اور انھوں نے ابھی دلہن کی مانگ کی افشاں بھی نہیں کتری ہول سے ان کے تو چھکے چھوٹ گئے۔ جھٹ اپنی منہ بولی بہن بندو کی ماں کو بلا بھیجا۔ “
راحت کے آنے کے بعد کبریٰ کی شادی کے لے ے آس لگاکر گھر کو صاف کرتی ہے۔ مختلف قسم کے پکوان کی تیاری کرتی ہے۔ اس کی تفصیلات دیکھیے:

” تھوڑا سا چونہ منگاکر کبریٰ نے اپنے ہاتھوں سے کمرہ پوت ڈالا۔ کمرہ تو چٹاہو گیا مگر اس کی ہتھیلیوں کی کھال اڑ گئی اور جب وہ شام کو مسالا پیسنے بیٹھی تو چکر کھاکر دوہری ہوگئی۔ ساری رات کروٹیں بدلتے گزری ایک توہتھیلیوں کی وجہ سے دوسرے صبح کی گاڑی سے راحت آرہے تھے۔ راحت کے آنے اطلاع پاکر حمیدہ بھی خوش ہوتی ہے۔ اور خوشی میںوہ فجر کی نماز پڑھ کر دعا مانگی ”اللہ میرے اللہ میاں، اب کے تو میری آپا کا نصیبا کھل جائے، میرے اللہ میں سو رکعت نفل تیری درگاہ میں پڑھوں گی ۔کبریٰ وہی کوٹھری میں چھپی رہتی ہے جب راحت صبح سوئیوں اور پراٹھوں کا ناشتا کرکے بیٹھ میں چلے جاتے تو کبریٰ نئی دلہن کی طرح پیررکھتی کوٹھڑی سے نکلتی اور جھوٹے برتن اٹھالیتی۔ “
کبریٰ اور حمیدہ میں مذاق بھی ہوتا ہے۔

لاؤ! میں دھوؤں بی آپا، حمیدہ نے شرارت سے کہا ”نہیں وہ شرم سے جھک گئی “

حمیدہ چھیڑتی رہی، بی اماں مسکراتی رہیں اور کریپ کے دوپٹے پر پلوٹانکتی رہیں۔

بیوہ کے گھر میں روز دعوتیں ہو تو پھر گھر کے سامان کہاں گھر میں رہتے ہیں۔ پھول پتا اور چاندی کی پازیب فروخت کرکے وہ راحت کے لے ے پراٹھے، کوفتے، پلاﺅ وغیرہ کا انتظام کرتی اور خود پانی سے روکھا نوالہ نگلتی۔ داماد کے لے ے گوشت اور مچھلے کھلاتیں۔

عصمت چغتائی حمیدہ کے ذریعہ ہونے والے داماد کے لے ے جو گہما گہمی ہے اس کی نشان دہی اس طرح کرتی ہیں:

” ہم بھوکے رہ کر داماد کو کھلارہے ہیں، بی آپا صبح سویرے اٹھ کر جادو کی مشین کی طرح کام پر جٹ جاتی ہے۔ نہار منہ پانی کا گھونٹ پی کر راحت کے لےے پراٹے تلتی ہےں۔ دودھ اونٹاتی ہیں تاکہ موٹی سی ملائی پڑے اس کا بس نہیں تھا کہ وہ اپنی چربی نکال کر ان پراٹھوں میں بھردے اور کیوں نہ بھردے آخر کو ایک دن وہ اس کا اپنا ہو جائے گا جو کچھ کمائےگا، اس کی ہتھیلی پر رکھے گا۔ پھل دینے والے پودے کو کون نہیں سینچتا۔.۔.؟ “
اتنا ہی نہیں وہ راحت کے کپڑے دھوتی، بدبودار موزے دھوتی، ناک صاف کیے ہوئے رومال بھی دھوتی گھر کو جھاڑو لگاتی۔ راحت کے بارے میں دیکھیے

” راحت صبح سویرے انڈے پراٹھے ڈٹ کر کھاتا اور شام کو آکر کوفتے کھاکر سوجاتا اور بی اماں کی منہ بولی بہن کھسر پھسر کرتیں۔ “
راحت کچھ بات نہیں کرتا تو بی اماں ان کی سہیلی وحیدہ کو کہتی ہے کہ وہ راحت سے بات کرے۔ وحیدہ راحت سے مذاق کرنے لگتی ہے۔ ساتھ ہی ڈرتی بھی ہے تو بی اماں کہتی ہے ”وہ تجھے کھاتھوڑے ہی جائے گا“۔ وہ نہیں چاہتی کہ راحت سے مذاق کرے لیکن اپنی بہن کی خوشی کے لیے وہ مذاق کرتی۔ بی اماں کی سہیلی کا نسخہ کام کرتا ہے اور راحت دن کا زیادہ تر وقت اب گھر پر ہی رہنے لگا۔ حد تو یہ ہوئی کہ وہ کوفتوں کو کھلی اور بھوسا کہتا۔ وحیدہ سوچنے لگتی کہ ہم اسے گرماگرم کوفتے کھلا رہے ہیں اور خود روکھا ساکھا کر رہے ہیں اور یہ اس طرح کی باتیں کرتا ہے۔ پھر وہ اپنی بہن کے لے ے یہ بھی برداشت کرتی ہے۔ دل میں سوچتی ہے

” بی آپا تو چولہے میں جھنکی رہتیں۔ بی اماں چوتھی کے جوڑے سیا کرتیں اور راحت کی غلیظ آنکھیں تیر بن کر میرے دل میں چبھا کرتیں۔ بات بے بات چھیڑنا کھانا کھاتے وقت کبھی پانی تو کبھی نمک کے بہانے سے اور ساتھ ساتھ جملہ بازی میں کھسیا کر بی آپا کے پاس جابیٹھتی جی چاہتا، صاف کہہ دوں کسی کی بکری اور کون ڈالے دانہ گھاس، اے بی مجھ سے تمہارا بیل نہ ناتھا جائے گا مگر بی آپا کے الجھے ہوئے بالوں پر چولہے کی اڑتی ہوئی راکھ ۔.۔. نہیں!۔.۔. میرا کلیجا دھک سے رہ گیا میں نے ان کے سفید بال لٹ کے نیچے دبادیئے۔ ناس جائے اس کمبخت تڑے کا بے چاری کے بال پکنے شروع ہو گئے“۔

بی آپا اور بی اماں وحیدہ کو بلا کراس کی تفصیل پوچھتے کہ بتا تو سہی کہ راحت کیا کہہ رہے تھے۔ ”اور کیا کہہ رہے تھے“ اور وحیدہ جھوٹ موٹ کی باتیں بناکر انھیں خوش کرتی کہ وہ پکوان کی تعریف کر رہے تھے۔ بی آپا اپنا سوئٹر راحت کی نذر کردیتی ہے۔ جب وحیدہ کہتی ہے کہ وہ سوئٹر پہن لے تو کبریٰ کہتی ہے کہ ویسے بھی چولہے کے پاس جھلسن رہتی ہے۔

راحت کی حرکتیں بڑھنے لگتی ہے اور وہ وحیدہ کا ہاتھ پکڑتا ہے جس سے چوڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ جب وہ اپنی بی اماں سے شکایت کرتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ کیاہوا موم کی بنی ہوئی ہو ذرا ہاتھ لگایا اور پگھل گئیں۔ خیر تو بھی چوتھی میں بدلہ لیجیو کسر نکالیو کہ یاد کریں میاں جی۔

منہ بولی بہن آکر اسے بہنوئیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے ہتھکنڈے بتانے لگتی۔ چھ مہینے تک کھانے کھلانے کے بعد بھی جب راحت شادی کی بات نہیں کرتا تو بی آپا حمیدہ کو مولوی صاحب کا دم کیا ہوا ملیدہ دیتی ہے تاکہ وہ راحت کو کھلائے۔

وحیدہ ملیدہ لے کر راحت کے پاس جاتی ہے۔ راحت سے کہتی ہے کہ یہ ملیدہ ہے۔ راحت منہ کھول دیتا ہے۔ وہ منہ میں نیاز کا ملیدہ ڈالنے کے لے ے آگے بڑھتی ہے۔ راحت اسے دبوچ لیتا ہے اور وحیدہ کی عزت کو تار تار کردیتا ہے۔ راحت کی واپسی کے بعدگھر کا نقشہ عصمت چغتائی نے وحیدہ کی زبانی اس طرح کھینچا ہے:

” صبح کی گاڑی سے راحت مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتا ہوا روانہ ہو گیا۔ اس کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی اور اسے جلدی تھی اس کے بعد اس گھر میں انڈے نہ تلے گئے، پراٹھے نہ پکے اور سوئٹر نہ بنے گئے۔ دق جو ایک عرصہ سے بی آپا کی تاک میں بھاگی بھاگی پیچھے آرہی تھی ایک ہی جست میں انھیں دبوچ بیتھی اور انھوں نے جھکا کر اپنا نامراد وجود اس کی آغوش میں سونپ دیا۔ “
بی اماں جو اپنی بیٹی کبریٰ کی شادی کا ارمان دل میں لیے چوتھی کا جوڑا تیار کرتی ہے وہ اسی لڑکی کے لے ے کفن تیار کرتی ہے۔ افسانے کے آخر میں عصمت چغتائی نے اس مسئلہ کی انسانوں ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے لکھا ہے:

” کفن کے لٹھے کی کان نکال کر انھوں نے چوہراتہہ کیا اور ان کے دل میں ان گنت قینچیاں چل گئیں۔ آن ان کے چہرے پر بھیانک سکون اور موت بھرا اطمینان تھا۔ جیسے انھیں پکا یقین ہو کہ اور جوڑوں کی طرح یہ چوتھی کا جوڑا سینتا نہ جائے گا[5] “
عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں بہت سارے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ جذبات نگاری، مکالمہ نگاری، منظر نگاری کے بہترین نمونے ان کے افسانوں میں نظر آتے ہیں۔

عصمت کی ناول نگاری
ان کے مشہورِ زمانہ ناولوں میں ضدی، معصومہ، ٹیڑھی لکیروغیرہ شامل ہیں۔ ٹیرھی لکیر کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

وفات
عصمت چغتائی سن1991ءمیں 77سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔مسلمان تھیں لیکن انہوں نے مرنے کے بعد اپنی لاش کو جلانے کی وصیت کی تھی۔

09/08/2023

اورنگزیب خان (پیدائش ۲۴ دسمبر، ۱۹۱۹ء - وفات ۱۱ جولائی، ۲۰۰۱ء) جو قتیل شفائی کے نام سے جانے جاتے ہے، پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔[4] قتیل شفائی خیبر پختونخوا ہری پورہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور پاک و بھارت کی بے شمار فلموں کے لیے گیت لکھے۔[5]

ابتدائی زندگی اور کیرئر
قتیل شفائی ۱۹۱۹ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔[6] ان کا خاندانی پس منظر ہندکوان ہے۔ انہوں نے ۱۹۳۸ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انہوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحییٰ شِفا کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔[7] ۱۹۳۵ میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباو بنا۔ انہوں نے کھیل کے سامان کی ایک دوکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انہوں نے اپنے چھوٹے سے قصبہ سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں ۱۹۴۷ء میں انہوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا نغمہ لکھنے لگے۔[7] ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں انہوں حکیم یحییٰ کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔[7]

فلمی دنیا
۱۹۴۸ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم "تیری یاد" کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر ۲۰۱ فلموں میں ۹۰۰ سے زائد نغمات تحریر کئے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم "قصہ خوانی" شامل تھی۔ انہوں نے اردو میں بھی ایک فلم "اک لڑکی میرے گائوں کی" بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں بہت مرتبہ بمبئی کا بھی سفر کیا اور 'سر'، 'دیوانہ تیرے نام کا'، ’بڑے دل والا' اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی' جیسی بہت سی بھارتی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنہیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا۔

کلام کی خصوصیات
قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجہ کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں معاشرتی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے اور انہیں صفِ اوّل کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

نمونہ کلام
بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں

اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تیری وفا صنم‘

۔++++++

’حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گِرتا

ٹوٹے بھی جو تارہ تو زمیں پر نہیں گِرتا‘

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا

لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

۔۔۔

’اے دِل کسی کی یاد میں

ہوتا ہے بے قرار کیوں‘

سنہ ۱۹۴۶ میں نذیر احمد نےآپ کو لاہور بلایا اورماہنامہ ’ادبِ لطیف‘ میں بطور معاون مدیر کے کام کرنے کو کہا۔

’آ میرے پیار کی خوشبو

منزل پہ تجھے پہنچائے

آ میرے پیار کی خوشبو‘

ہفت روزہ اسٹار میں آپ کی پہلی غزل چھپی، اِس کے بعد آپ کو ایک فلم کے گیت لکھنے کو کہا گیا۔

آپ نے پہلی مرتبہ فلم ’تیری یاد‘ کے گیت لکھے۔ اِس کے بعد یہ سفر آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

’حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

اُن کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں‘

++++++++

وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ

پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

++++++++

آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام

کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

++++++++

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا

++++++++

اعزازت
صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی ۱۹۹۴ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایوارڈ، نقوش ایوارڈ۔ نیز بھارت کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے "قتیل اور ان کے ادبی کارنامے" کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

فلمی نغمہ نگاری
پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

تصانیف
۱۔ ہریالی

۲۔ گجر

۳۔ جل ترنگ

۴۔ روزن

۵۔ جھومر

۶۔ مطربہ

۷۔ چھتنار

۸۔ گفتگو

۹۔ پیراہن

۱۰۔ آموختہ

۱۱۔ ابابیل

۱۲۔ برگد

۱۳۔ گھنگرو

۱۴۔ سمندر میں سیڑھی

۱۵۔ پھوار

۱۶۔ صنم

۱۷۔ پرچم

۱۸۔ انتخاب (منتخب مجموعہ)

کلیات
رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
وفات
۱۱ جولائی ۲۰۰۱ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

منسوبات
لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلہ کا نام محلہ قتیلؔ شفائی رکھ دیا گیا۔[حوالہ درکار]

09/08/2023

شاہد احمد دہلوی (پیدائش: 22 مئی 1906ء — وفات: 27 مئی 1967ء) اردو کے صاحب طرز ادیب، ادبی مجلہ ساقی کے مدیر، مترجم اور ماہرِ موسیقی تھے۔ وہ ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے اور مولوی بشیر الدین احمد کے فرزند تھے۔

حالات زندگی
شاہد احمد دہلوی 22 مئی 1906ء کو دہلی برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1][2][3] ان کا تعلق اردو کے ایک اہم ادبی و علمی خانوادے سے تھا۔ وہ ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے اور مولوی بشیر الدین احمد کے فرزند تھے۔ جنوری 1930ء میں انہوں نے دہلی سے اردو کا ایک باوقار جریدہ ساقی جاری کیا۔ 1936ء میں وہ ادب کی ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے اور اس کی دہلی شاخ کے سیکریٹری بن گئے۔ تقسیم ہند کے بعد شاہد احمد دہلوی نے کراچی منتقل ہو گئے، یہاں انہوں نے ساقی کا دوبارہ اجرا کیا جس کا سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔[2]

ادبی خدمات
وہ اردو کے ایک بہت اچھے نثرنگار تھے۔ ان کے خاکوں کے مجموعے گنجینۂ گوہر ، بزم خوش نفساں، بزم شاہد اور طاق نسیاں کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دلی کی بپتا اور اجڑا دیار کے نام سے مرحوم دلی کے حالات قلم بند کیے۔ وہ ایک اچھے مترجم بھی تھے اور انہوں نے انگریزی کی لاتعداد کتابیں اردو زبان میں منتقل کیں۔[2]

فن موسیقی
شاہد احمد دہلوی کو موسیقی میں بھی کمال حاصل تھا۔ انہوں نے دہلی گھرانے کے مشہور استاد، استاد چاند خان سے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ شاہد احمد دہلوی تقسہم ہند کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے تھے، جہاں وہ ایس احمد کے نام سے موسیقی کے پروگرام پیش کرتے رہے۔ انہوں نے موسیقی کے موضوع پر بھی لاتعداد مضامین قلم بند کیے جن کا مجموعہ مضامین موسیقی کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکا ہے جسے اردو کے ممتاز محقق و شاعر عقیل عباس جعفری نے مرتب کیا ہے۔[2]

اعزازات
حکومت پاکستان نے شاہد احمد دہلوی کو ان کی ادبی خدمات کے صلہ میں 14 اگست، 1963ء کو صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔[2]

تصانیف
گنجینۂ گوہر (خاکے)
بزمِ خوش نفساں (خاکے)
بزم شاہد (خاکے)
طاق نسیاں (خاکے)
دلی کی بپتا (دلی کی یاداشتیں)
اجڑا دیار (مضامین)
سرگزشت ِعروس (ناول)
بچوں کی دلچسپیاں (جی فریڑرک کیوڈر) (ترجمہ)
بچوں کی جنسی تعلیم (لیسٹراے کرکنڈال) (ترجمہ)
خودشناسی (ولیم سی میجر) (ترجمہ)
بچوں کی نشو و نما ( ولارڈسی اولسن، جون لی ولن) (ترجمہ)
بچوں کا خوف ( ہیلن راس) (ترجمہ)
انتخاب معاش (ہمفریز جے انتھی) (ترجمہ)
دھان کا گیت (مس آئی لن چانگ) (ترجمہ)
غریب لڑکے جو نامور ہوئے (یولٹن) (ترجمہ)
بچوں میں جذبہ عداوت (سپل سکلونا ) (ترجمہ)
بچوں کے جذباتی مسائل (اوسپرجن، سٹوراٹ ایم قچ ) (ترجمہ)
بچوں کی معاشرتی زندگی (ایلس وٹنرمین) (ترجمہ)
والدین اور معلمین (ایوایچ گرانٹ) (ترجمہ)
آپ کے بچے کی وراثت (ایل گارٹن) (ترجمہ)
نرگس جمال (مارس مترلنک) (ترجمہ)
حیرت ناک کہانیاں (نتھینیل ہوتھورن) (ترجمہ)
انوکھی کہانیاں (نتھینیل ہوتھورن) (ترجمہ)
فاؤسٹ (جان ولف کانگ گوئٹے) (ترجمہ)
پروین و ثریا (مارس مترلنک) (ترجمہ)
پھانسی (اندریف) (ترجمہ)
مضامین موسیقی (ترتیب عقیل عباس جعفری)
وفات
شاہد احمد دہلوی 27 مئی 1967ء کو پاکستان کے کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں گلشن اقبال کے قبرستان میں سپردِ خاک ہیں۔[1][2][3][4]

مزید دیکھیے
ماہنامہ ساقی
حوالہ جات
^ ا ب شاہد احمد دہلوی، بائیو ببلوگرافی ڈاٹ کام، پاکستان
^ ا ب پ ت ٹ ث عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 272
^ ا ب بدلتے وقت کی کہانی، ڈاکٹر رؤف پاریکھ، روزنامہ ڈان پاکستان، 3 جون 2008ء
پروفیسر محمد اسلم، خفتگانِ کراچی، ادارہ تحقیقات پاکستان، دانشگاہ پنجاب لاہور، نومبر 1991، ص 132

09/08/2023

Address

Old Anar Kaly Chunk
Lahore
5400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al_Hamd_Publications Books posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al_Hamd_Publications Books:

Share

Category