LuWilma Store

LuWilma Store Fight for Rights specially for women exactly

13/06/2023

جون دو ہزار اٹھارہ کی ایک پوسٹ
پسندیدہ بندے کیسے ہوتے ہیں؟

تزئین حسن

قران کی تلاوت کے دوران بہت جگہ شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ دین کی حفاظت کرنے کا دعویٰ رکھنے والوں نے دین کی بہت سی تعلیمات کو ارادتاً یا غیرارادتاً ہم سے دور رکھا ہے- اسلام کس قدر فطری مذہب ہے لیکن ہم بچپن سے اس کو جن لوگوں کے ذریعے سمجھتے رہتے ہیں انکی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں- وہ کچھ مخصوص آیات اور احادیث کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں اور بعض کو عوام الناس سے دور رکھنے میں ہی معاشرے کی بہتری سمجھتے ہیں- یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہی طبقہ ہے جو قران کا ترجمہ پڑھنے کے خلاف ہے یا قران کو خود سمجھ کر پڑھنے کی مخالفت کرتا ہے اور اگر نہیں کر سکتا تو کم از کم یہی کہہ کر اسکی حوصلہ شکنی کرتا ہے کہ قران کا سب سے پہلا حق اسکی تلاوت ہے- حالانکہ قران خود جگہ جگہ یہ بات واضح کرتا ہے کہ اس کتاب کو آسان کر دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو- ایسا ہی ایک احساس آج ستائیسویں شب سورہٴ شوریٰ میں پسندیدہ بندوں کی نشانیاں پڑھتے ہوے ہوا جس میں کہا گیا کہ "یہ لوگ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اسکا مقابلہ کرتے ہیں- آگے یہ بھی کہا گیا کہ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے اور ایسے لوگوں پر ملامت نہیں جو زیادتی کے بعد بدلہ لیں- ملامت کے مستحق تو وہ ہیں ظلم کریں- بدلے کی اجازت کے بعد آخر میں صبر کی ترغیب بھیدلائی گئی "البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے- آیات نمبر ٣٩-٤٣

وَالَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ
"اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں"
(QS. Ash-Shuraa 42: Verse 39

وَجَزٰٓ ؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ۗ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ
"برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا"
(QS. Ash-Shuraa 42: Verse 40)

وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ
"اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی-"
(QS. Ash-Shuraa 42: Verse 41)

اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ يَبْغُوْنَ فِى الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
"ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے"
(QS. Ash-Shuraa 42: Verse 42)

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ
"البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے"
(QS. Ash-Shuraa 42: Verse 43)

26/05/2023

خواتین کو بڑھاپے میں بے بسی ،خود رحمی اور تنہائ کا احساس چڑچڑا بنا دیتا ہے ، وہ گھر والوں کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں۔ وہ اکثر شکوہ کرتی ہیں کہ ہم نے خود کو اولاد کے لیے برباد کر دیا مگر ان کے پاس آج ہمارے لیے وقت نہیں۔ آپ کو کسی نے مجبور نہیں کیا تھا۔ آپ نے خود کو فارغ جان کر اپنی خدمات پیش کی تھیں ۔اپنی انرجی کو اپنی زندگی تک محدود رکھیں ۔ اپنے شیر خوار پوتے ، پوتیوں نواسے نواسیوں کی کبھی کبھار بے بی سیٹر بننے میں کوئ حرج نہیں لیکن کل وقی ڈیوٹی انجام نہ دیں ۔ اب آپ اپنی زمہ داریوں سے فارغ ہو چکی ہیں ۔ بیٹی اور بیٹے کو خود مینیج کرنے دیں ۔ آج آپ نے بے بی سٹنگ کا کام شروع کر دیا ۔ لیکن کل جب آپ کے قوی کمزور اور شیر خوار بچے بڑے ہو کر خود کی دیکھ بھال کے قابل ہوں گے تب شاید اعصاب، قوی کی کمزوری اور تنہائ آپ سے زندگی کی دلچسپی چھین کر آپ کو چڑچڑا بنا دے ۔ آپ کو سہارے کی ضرورت ہو لیکن کسی کے پاس فرصت نہ ہو ، اس لیے اب وقت ہے کہ ہر وہ کام کریں جس میں آپ کی خوشی اور سہولت ہو۔
گھومیں پھریں ، بہن بھائیوں، پرانی سہلیوں اور رشتے داروں کے گھر جائیں ۔ اپنی زندگی جینے کا بھلا پھر کب وقت ملے گا۔

17/02/2023

پہاڑی علاقے سے تعلق ہے۔ جب میں بچہ تھا (دل اب بھی بچہ ہے) تو ہماری خوبصورت وادی میں بعض مرد کھیتوں ، دکانوں اور دفتروں میں کام کرتے تھے۔ بعض ان تینوں میں سے کسی ایک جگہ کام کرتے تھے، اور بعض کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ عورتیں کھیتوں، مویشی خانوں، کیاریوں میں کام کرنے، پہاڑیوں پرسے جلانے کے لئے لکڑی لانے، بچوں کی دیکھ بھال کرنے، کھانا پکانے، کپڑے دھونے، جھاڑو پونچھا کرنے کے بعد بھی "دن بھر کچھ نہ کرنے" کے طعنےسنتی تھیں۔

"آخر تم دن بھر کرتی کیا ہو"، ایک ایسا مکرر سوال تھا جو ہمارے گھروں اور خاندانوں میں روزانہ نہیں تو ہفتے میں ایک بار خواتین سے ضرور پوچھا جاتا تھا۔
اس ماحول میں پروان چڑھنے کے بعد بچپن سے ہی ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ عورتیں جو کچھ بھی کرتی ہیں، وہ کام نہیں ہے۔ اصل کام تو مرد کرتے ہیں، پھر چاہے وہ دن بھر آوارہ گردی ہی کیوں نہ ہو!

میں نے کراچی میں پانچ سال "چھڑا لائف" گزارنے کے بعد اسلام آباد میں سات سال "نیم چھڑا" لائف گزارا، مگرمحکمہ کچن میں میری کارکردگی صفر تھی۔ کراچی میں چھوٹے بھائیوں نے مدد کی، اور اسلام آباد میں بھائیوں اور بہنوں نے۔ کچن میں میری اپنی ذاتی صلاحیت نوڈل پانی میں ڈال کر ابالنے اور چائے بنانےتک محدود تھی۔

نیو یارک شہروارد ہونے کے بعد ابتدا کے کچھ مہینے بیروزگاری کے تھے۔ اکا دکا کام مل جاتا تھا چند گھنٹوں، دنوں، کےلئے۔ باقی وقت ایک مسلسل بیکاری۔ اس بیکاری کے عالم میں بھی لیکن گھر کے باورچی خانے میں ہاتھ بٹانا میری ترجیحات میں شامل نہ تھا۔ "یہ عورتوں کا کام ہے" والا نظریہ ، میری تمام "عقلی ، فکری و علمی دلیلوں" کے باوجود بھی کسی چور کی طرح خیال سینیما کے کونے کھدروں میں بیٹھے مجھے باروچی خانے سے دور رکھ رہا تھا۔ (اس کا احساس بعد میں ہوا)۔
بیوی بیچاری دفتر جاتی تھی۔ وہاں سے آنے کے بعد کھانا بناتی تھی۔ بچوں کو کھلاتی تھی۔ برتن دھوتی تھی، اور تین بچوں (بشمول اس کے جس کا دل اب بھی بچہ ہے) کے نخرے الگ سے برداشت کرتی تھی۔

میرے ذمے ایک کام تھا۔ بڑے بیٹے کو سکول لیجانا (20منٹ کی واک) اور دوپہر کو اسے واپس لانا۔ ایک روز معمول کے مطابق بیٹے کے ساتھ گھر پہ موجود تھا۔ کوئی مہمان بھی آیا ہوا تھا۔ بیوی دفتر سے واپس آئی، اور کچن میں چلی گئی۔ کچھ لمحوں کے بعد شکایت بھرے لہجے میں کہا، "آپ نے کچرہ بھی باہر نہیں پھینکا ہے اب تک۔ آتش فشاں پھٹ پڑا۔ میری مردانگی پر چوٹ پڑی تھی شائد۔ "میں کیوں لیجاوں؟ یہی کام رہ گیا ہے میرا؟"۔ وہ خاموش رہی (شائد اسلئے کہ گھر میں مہمان موجود تھا)۔ میں باروچی خانے سے نکل بیٹھک میں داخل ہوا۔ تھوڑی دیر بعد اپارٹمنٹ کا داخلی دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی۔ آواز سُن کر مجھے اندازہ ہوگیا کہ بیوی کچرا کچن سے اُٹھائے چار منزلہ عمارت کے عقب میں موجود کچرے خانے تک لے گئی ہے۔

بیچاری ابھی دفتر سے آئی تھی، اور ابھی ہی کچرہ لئے چار منزل نیچے چلی گئی۔ اتنا کچھ تو کر رہی ہے ہم سب کے لئے۔ اگر میں کچرہ لیجاتا باہر تو کونسی قیامت آجاتی۔ ذہن میں سوالات گونجنے لگے۔ ندامت کے احساس نے شدت سے گھیر لیا۔
کافی دنوں ، اور گفتگو کے مختلف ادوار، کے بعد گاوں میں گزارے بچپن کے دن اور ان سے جڑی یادیں اور احساسات یاد آگئے۔ خیال آیا کہ گاوں اور خاندان میں بھی تو یہی ہوتا ہے۔ دن بھر گھر میں کام کرنیوالی عورت کی مدد کرنے کےلئے کوئی تیار نہیں ہوتا ہے۔ عورت کھیت میں آلو بھی اگارہی ہے، گندم کو پانی بھی دے رہی ہے، کیاریوں میں سبزیاں بھی اُگا رہی ہے۔ اور سب یہی توقع لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ عورت ہی تمام کام کرنے کے بعد گھر جاکر کھانا پکائے گی اور دیگر تمام امورِ خانہ داری سرانجام دے گی۔

ان حالات میں عورتوں پر جتنا دباو پڑتا ہے اور اس دباو کے جو اثرات پڑتے ہیں ان کی کئی مثالیں میں بہت قریب سے اپنے بچپن میں دیکھا چکا تھا۔ اور مجھے ان مثالوں سے ہمیشہ الجھن ہوتی تھی۔ اس سماجی مزاج کو بچپن میں پسند نہ کرنے کے باوجود بھی میں خود اسی سماجی ڈگر پر چل پڑا تھا۔ یادوں پر شائد وقت نے غبار ڈال دیا تھا!

لڑکپن میں ایک دن امی نے کوئی چھوٹا موٹا کام کرنے کا حکم دیا۔ میں نے تکمیل سے انکار کردیا۔ تھوڑی دیر بعد امی خود کام نمٹا کر واپس آئی۔ میں یونہی بیٹھا ہواتھا۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کہا، "دیکھ رہی تھی کہ فضول بیٹھے رہنے کے بعد تمہارے سر پر اب تک سینگ نکل آئے ہیں یا نہیں۔" امی کے کاٹ دار جملے نے مجھے پریشان کردیاتھاکچھ لمحوں کے لئے، لیکن ان کی طنزیہ مسکراہٹ نے ہنسا بھی دیا تھا۔
جانوروں کے سروں پر سینگ خوبصورتی اور رعب اور رتبے کی علامت ہوتے ہیں۔ مارخور کے سینگ ہی اس کی اصل شان ہیں۔ ورنہ مارخور اور دوسرے بکروں میں کوئی زیادہ فرق تو نہیں ہوتا! امی کے جملے میں موجود سر پر سینگ نکل آنے والے محاورے کا مقصد یہ تھا کہ فارغ بیٹھنے سے بندے کی عزت نہیں بڑھتی۔
میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ عورتوں سے ہماری توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ ہم اگر فکری اور عقلی، دلیلی، سطح پر ان کی مدد کرتے بھی ہیں تو امورِ خانہ داری کے عملی میدان میں آکر ارادی و غیر ارادی طور پر ہمارے ہاتھ پتھر اور پیر شل ہوجاتےہیں۔ اور اگر ہم گھر میں کچھ کام کرے بھی تو رویہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے پوری امت پر احسان کر رہے ہیں!

عورت مارچ کو گالیاں شوق سے دیں۔ گالیوں کی تربیت آپ کو نامور محقق ، دانشور، لکھاری، فلسفی ، ہدایتکار و تجزیہ نگار خلیل الرحمن قمر کی اقدار ، تہذیب اور شائستگی بھری باتوں سےمفت مل سکتی ہے۔ عورت مارچ کے ہر جملے کے ساتھ آپ کا اور ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں ہے، لیکن یہ کہنا بھی غلطہ ہے کہ عورتوں کو اپنی زندگی پر اختیار نہیں ہونا چاہیے، اور انہیں اپنے حق میں بولنے، لکھنے، چیخنے اور چلانے کا حق نہیں ہے۔ ہم اور آپ، سب، جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں صنفی مساوات فکری سطح پر ہوں بھی تو عملی سطح پر صفر ہے۔

مارچ میں شامل ہونے کے لئے بیشک سڑکوں پر مت نکلیں۔ پوسٹرز بھی مت بنائیں۔ بینرز بھی مت بنائیں۔ لیکن اپنے ، اپنے خاندانوں، اور اپنی سماج کے رویے پر غور کرنے کی کوشش میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔

یہاں آمد کے چند ماہ بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ دھیرے دھیرے امورِ خانہ داری میں حصہ لوں گا۔ برتن دھونے سے شراکت کا آغازکیا۔ ہمت بڑھی تو چند کوششوں کے بعد کھانا پکانا بھی کسی حد تک سیکھ گیا۔ بچوں اور گھر کی صفائی میں بھی ہاتھ بٹانے کی کوشش کرتا ہوں۔

فارغ اوقات میں بعض اوقات اپنے سر پر ہاتھ پھیر کر دیکھتاہوں کہ سینگ تو نہیں نکل آئے ہیں، اور کبھی کبھار پیچھے ہاتھ پھیر کر بھی دیکھتا ہوں کہ کام کرنے کی وجہ سے دُم تو نہیں نکل آئی ہے!
نور پامیری
آوارہ خیال (نیویارک، 4 مارچ 2020)

https://youtu.be/2l9n11Ya0Dk
10/02/2023

https://youtu.be/2l9n11Ya0Dk

If these videos bring value to you please support the project Flashback Zindagi via JazzCash, Easypaisa, Raast Payment (0300-6163603) Sajida Asghar Arain was...

29/01/2023
08/01/2023

تب کیا کریں؟ جب کوئی اپنے خاوند کی شکائتیں کرے

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LuWilma Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share