27/06/2025
ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو صبر کے معنی نہیں پتا لیکن آ ج کے دور میں ہر ایک صبر کیے ہوئے ہے۔
ایسا میں نہیں کہہ رہی بلکہ یہ ہم سب کہتے ہیں۔
* میں کب سے صبر کر رہا ہوں۔
* میں صبر کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔
* مجھ سے صبر نہیں ہو رہا ہے۔
*میں مزید صبر نہیں کر سکتا ۔
ہم زندگی کے کسی نہ کسی موڑپر ایسے جملے کہے جاتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ شاید جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے، ہمارا صبر جواب دے رہا ہے ۔
انسان ہمت ہار جاتا ہے۔
ہم میں سے بہت سے ہیں یا شاید سب ہی کہیں نہ کہیں ا کر ہمت ہار دیتے ہیں ۔امید چھوڑ دیتے ہیں۔
ہم اللہ سے دعا مانگتے ،
مدد مانگتے ہیں،
کامیابی مانگتے ہیں۔
اور پھر امید رکھتے ہیں کہ ہمیں سب مل جائے اور بہت جلدی مل جائے۔
ہم ایفرٹس کم کرتے ہیں، جلد بازی زیادہ دکھاتے ہیں۔
بے شک اللہ نے انسان کو جلد باز پیدا کیا ہے۔
اللہ کو معلوم ہے کہ جو مخلوق اس نے تخلیق کی ہے ،جلد باز ہے۔ اسی لیے تو اللہ قران میں فرماتا ہے بار بار فرماتا ہے،
" نا امید نہ ہو،
ہمت نا ہارو ،
غمگین نہ ہو "۔
کبھی دل چاہتا ہے کہ اللہ سے مانگیں، اور بہت سارا مانگیں ۔پھر اللہ کی ذات پر یقین بھی ہوتا ہے۔ وہ دے گا ضرور دے گا۔
انشاءاللہ
اس کے لیے کچھ ناممکن نہیں وہ چاہے تو ابھی کہ ابھی جو مانگا ہے وہ بھی دئےدے۔ اور بن مانگی چیزیں بھی دئے دے۔
دن گزرتے جاتے ہیں اور دنوں کا گزرنا ہمارے یقین میں ڈراڑیں ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔دل میں منفی خیالات کا طوفان سا آ جاتا ہے۔ جہاں ابھی کچھ دن پہلے تک خوش و خضو ع کے ساتھ اللہ سے مانگتے رہے ہیں اب وہم، برے خیالات، اور وسوسےہی وسوسے ہوتے ہیں ۔
پتہ ہے ایسے حالات میں اللہ کیا فرماتا ہے ؟
اللہ فرماتا ہے ،
"نا امید نہ ہو"۔
اللہ کو تو پتہ ہے نا کہ اس کا بندہ اس کی بندی جلدباز ہے ۔
اللہ فرماتا ہے ،
"نا امید نہ ہو"۔
اس آ یت کا خیال ہمیں مضبوطی بخشتا ہے۔
لیکن نہیں یہ دل بھی تو کسی کی نہیں سنتا ۔
پتہ ہے اس جگہ آ کر ہم سب غلط ہوتے ہیں ،کہ یہ دل کسی کی نہیں سنتا ۔
دل تو اللہ کا گھر ہے۔ پھر ہمارے دل کیوں بجھ رہے ہیں؟ کیوں ہمارے دلوں پر اتنی گہری تہہ جم چکی ہے؟
پتہ ہے ہمارے دل سیاہ ہو چکے ہیں ۔
سیاہ سے بھی زیادہ سیاہ
ہمارے دل کی جگہ اب نفس نے لے لی ہے ۔
ہاں وہی نفس جو غلط کاموں کی طرف اکساتا ہے۔
ایسے حالات میں جب انسان کمزور پڑ رہا ہوتا ہے ،تو اس کا نفس اس پر حاوی آ جاتا ہے۔ فورا سے نہیں
آہستہ آہستہ ۔
بندہ مانگنا نہیں چھوڑتا۔ بندہ مانگتا ہے۔ لیکن بے توجہہی سے ۔
پھر نمازوں میں دل نہیں لگتا۔وضو کرتے ہوئے اکتاہٹ ہوتی ہے۔
اور پھر رفتہ رفتہ ہم وہی اپنی پرانی زندگی میں لوٹ جاتے ہیں۔ وہی زندگی جس زندگی میں دل کی جگہ نفس نے لئے لی تھی ۔
ایسے میں قران مجید کی ایک ایت کا مفہوم یاد آ تا ہے کہ ،
"انہوں نے اپنے نفس کو خدا بنا لیا"۔
ویسے ہی بات مانی جیسے اللہ کی بات ماننی چاہیے تھی۔
ہم لوٹ آتے ہیں اپنی پرانی زندگی کی طرف۔
لیکن بے سکونی کے ساتھ۔
ایسے میں زندگی چند دنوں کے لیے تو خوشگوار ہوگی ۔لیکن آہستہ آہستہ وہی افسردگی، وہی بے سکونی ،وہی اسودگی ہم پر حاوی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
ایسے میں ہمارے پاس دو راستے ہوتے ہیں ۔
*یا تو اللہ کی طرف لوٹ چلو۔
* یا اسی راستے پر چلتے رہو ۔
پھر شیطان ہمارا نفس ہمیں اکساتا ہے۔ ہمیں یاد دلواتا ہے کہ ہم سے اللہ کی نافرمانی ہو گئی ہے ۔
ہمیں ڈراتا ہے ۔
ہمیں معاف نہیں کیا جائے گا۔
اخر کو ہمارا نفس ہمیں اللہ کی رحمت کی طرف کیوں نہیں لے جاتا ۔
کیوں ہمارا نفس ہمیں توبہ کی طرف نہیں بلاتا؟
کیا ہمارا نفس ان نفوس میں شامل نہیں ہے جن سے کہا جائے گا
"اے اطمینان والی روح
تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش
بس میرے خاص بندوں میں شامل ہو جا
اور میری جنت میں چلی جا"
اب سوال یہ ہے ،جب حالات ہمیں چاروں شانے چت کردیں تو کیا کریں؟
سب سے پہلے اللہ سے معافی مانگے بے شک وہ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔
پھر صبر سے کام لیں ۔
میں نے پڑھا تھا کہ صبر میں شکوہ نہیں ہوتا ۔
ہم سب کا صبر کب کرتے ہیں؟
"جہاں ہم بے بس ہو جاتے ہیں"
"ہمارے پاس کوئی اپشن نہیں ہوتا"
" ہر راہ بند نظر آ تی ہے"
" ہم دعائیں کرتے ہیں، ہماری دعاؤں کا جواب نہیں آتا"
" جب ہم مشقت کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں ،لیکن پھل نہیں ملتا"
" جب ہم روتے ہیں ،گڑگڑاتے ہیں اور ہماری گڑ گڑ اہٹوں کو محفوظ کر دیا جاتا ہے"
"جب آزمائشیں ہمیں توڑ دیتی ہیں "
"جب ہمارے کام نہیں بنتے "
ہم تب کہتے ہیں،" میں تو صبر کر رہا ہوں ،میں نے تو صبر کیا ہے!"۔
اے انسان یہ تو نے کیا کیا؟
یہ کیا کہہ دیا!
اپنا صبر تو نے خود ضائع کر دیا ؟
صبر
تو خاموش التجاؤں کا نام ہے،
خاموش جدوجہد کا نام ہے،
تابعداری کا نام ہے ۔
کیونکہ
صبر میں شکوہ نہیں ہوتا ،
شکایات نہیں ہوتیں۔
اللہ پر یقین رکھیں۔
جب اللہ نے کہا ہے کہ نا امید نہ ہو ،غمگین نا ہو۔
تو کیوں ٹینشن لے رہے ہیں؟
تو کیوں ناامید ہو رہے ہیں؟
صبر کریں۔
اور اگر لگے تھک رہے ہیں ،تو اللہ کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ جائیں ۔
بالکل خاموش ، اپنے آ پ کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔
اللہ کے حضور سجدہ کریں۔ اپنا سر اللہ کے اگے جھکا دے تاکہ وہ رب اپ کا سر کسی کے اگے جھکنے نہ دے۔
اپنے رب سے اپنے دل کا حال کہیں ۔
ہو سکے تو مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔
آ پ کی دعاؤں کی طلبگار،
زینب
#و #بس #بس