Bint e Hawa

Bint e Hawa جدائی موت سے زیادہ سخت ہے۔

ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو صبر کے معنی نہیں پتا لیکن آ ج کے دور میں ہر ایک صبر کیے ہوئے ہے۔ایسا میں نہیں کہہ رہی بلکہ ی...
27/06/2025

ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو صبر کے معنی نہیں پتا لیکن آ ج کے دور میں ہر ایک صبر کیے ہوئے ہے۔
ایسا میں نہیں کہہ رہی بلکہ یہ ہم سب کہتے ہیں۔

* میں کب سے صبر کر رہا ہوں۔
* میں صبر کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔
* مجھ سے صبر نہیں ہو رہا ہے۔
*میں مزید صبر نہیں کر سکتا ۔

ہم زندگی کے کسی نہ کسی موڑپر ایسے جملے کہے جاتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ شاید جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے، ہمارا صبر جواب دے رہا ہے ۔
انسان ہمت ہار جاتا ہے۔
ہم میں سے بہت سے ہیں یا شاید سب ہی کہیں نہ کہیں ا کر ہمت ہار دیتے ہیں ۔امید چھوڑ دیتے ہیں۔
ہم اللہ سے دعا مانگتے ،
مدد مانگتے ہیں،
کامیابی مانگتے ہیں۔
اور پھر امید رکھتے ہیں کہ ہمیں سب مل جائے اور بہت جلدی مل جائے۔
ہم ایفرٹس کم کرتے ہیں، جلد بازی زیادہ دکھاتے ہیں۔
بے شک اللہ نے انسان کو جلد باز پیدا کیا ہے۔
اللہ کو معلوم ہے کہ جو مخلوق اس نے تخلیق کی ہے ،جلد باز ہے۔ اسی لیے تو اللہ قران میں فرماتا ہے بار بار فرماتا ہے،
" نا امید نہ ہو،
ہمت نا ہارو ،
غمگین نہ ہو "۔
کبھی دل چاہتا ہے کہ اللہ سے مانگیں، اور بہت سارا مانگیں ۔پھر اللہ کی ذات پر یقین بھی ہوتا ہے۔ وہ دے گا ضرور دے گا۔
انشاءاللہ
اس کے لیے کچھ ناممکن نہیں وہ چاہے تو ابھی کہ ابھی جو مانگا ہے وہ بھی دئےدے۔ اور بن مانگی چیزیں بھی دئے دے۔
دن گزرتے جاتے ہیں اور دنوں کا گزرنا ہمارے یقین میں ڈراڑیں ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔دل میں منفی خیالات کا طوفان سا آ جاتا ہے۔ جہاں ابھی کچھ دن پہلے تک خوش و خضو ع کے ساتھ اللہ سے مانگتے رہے ہیں اب وہم، برے خیالات، اور وسوسےہی وسوسے ہوتے ہیں ۔
پتہ ہے ایسے حالات میں اللہ کیا فرماتا ہے ؟
اللہ فرماتا ہے ،
"نا امید نہ ہو"۔
اللہ کو تو پتہ ہے نا کہ اس کا بندہ اس کی بندی جلدباز ہے ۔
اللہ فرماتا ہے ،
"نا امید نہ ہو"۔
اس آ یت کا خیال ہمیں مضبوطی بخشتا ہے۔
لیکن نہیں یہ دل بھی تو کسی کی نہیں سنتا ۔
پتہ ہے اس جگہ آ کر ہم سب غلط ہوتے ہیں ،کہ یہ دل کسی کی نہیں سنتا ۔
دل تو اللہ کا گھر ہے۔ پھر ہمارے دل کیوں بجھ رہے ہیں؟ کیوں ہمارے دلوں پر اتنی گہری تہہ جم چکی ہے؟
پتہ ہے ہمارے دل سیاہ ہو چکے ہیں ۔
سیاہ سے بھی زیادہ سیاہ
ہمارے دل کی جگہ اب نفس نے لے لی ہے ۔
ہاں وہی نفس جو غلط کاموں کی طرف اکساتا ہے۔
ایسے حالات میں جب انسان کمزور پڑ رہا ہوتا ہے ،تو اس کا نفس اس پر حاوی آ جاتا ہے۔ فورا سے نہیں
آہستہ آہستہ ۔
بندہ مانگنا نہیں چھوڑتا۔ بندہ مانگتا ہے۔ لیکن بے توجہہی سے ۔
پھر نمازوں میں دل نہیں لگتا۔وضو کرتے ہوئے اکتاہٹ ہوتی ہے۔
اور پھر رفتہ رفتہ ہم وہی اپنی پرانی زندگی میں لوٹ جاتے ہیں۔ وہی زندگی جس زندگی میں دل کی جگہ نفس نے لئے لی تھی ۔
ایسے میں قران مجید کی ایک ایت کا مفہوم یاد آ تا ہے کہ ،
"انہوں نے اپنے نفس کو خدا بنا لیا"۔
ویسے ہی بات مانی جیسے اللہ کی بات ماننی چاہیے تھی۔
ہم لوٹ آتے ہیں اپنی پرانی زندگی کی طرف۔
لیکن بے سکونی کے ساتھ۔
ایسے میں زندگی چند دنوں کے لیے تو خوشگوار ہوگی ۔لیکن آہستہ آہستہ وہی افسردگی، وہی بے سکونی ،وہی اسودگی ہم پر حاوی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
ایسے میں ہمارے پاس دو راستے ہوتے ہیں ۔
*یا تو اللہ کی طرف لوٹ چلو۔
* یا اسی راستے پر چلتے رہو ۔
پھر شیطان ہمارا نفس ہمیں اکساتا ہے۔ ہمیں یاد دلواتا ہے کہ ہم سے اللہ کی نافرمانی ہو گئی ہے ۔
ہمیں ڈراتا ہے ۔
ہمیں معاف نہیں کیا جائے گا۔
اخر کو ہمارا نفس ہمیں اللہ کی رحمت کی طرف کیوں نہیں لے جاتا ۔
کیوں ہمارا نفس ہمیں توبہ کی طرف نہیں بلاتا؟
کیا ہمارا نفس ان نفوس میں شامل نہیں ہے جن سے کہا جائے گا
"اے اطمینان والی روح
تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش
بس میرے خاص بندوں میں شامل ہو جا
اور میری جنت میں چلی جا"
اب سوال یہ ہے ،جب حالات ہمیں چاروں شانے چت کردیں تو کیا کریں؟
سب سے پہلے اللہ سے معافی مانگے بے شک وہ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔
پھر صبر سے کام لیں ۔
میں نے پڑھا تھا کہ صبر میں شکوہ نہیں ہوتا ۔
ہم سب کا صبر کب کرتے ہیں؟
"جہاں ہم بے بس ہو جاتے ہیں"
"ہمارے پاس کوئی اپشن نہیں ہوتا"
" ہر راہ بند نظر آ تی ہے"
" ہم دعائیں کرتے ہیں، ہماری دعاؤں کا جواب نہیں آتا"
" جب ہم مشقت کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں ،لیکن پھل نہیں ملتا"
" جب ہم روتے ہیں ،گڑگڑاتے ہیں اور ہماری گڑ گڑ اہٹوں کو محفوظ کر دیا جاتا ہے"
"جب آزمائشیں ہمیں توڑ دیتی ہیں "
"جب ہمارے کام نہیں بنتے "
ہم تب کہتے ہیں،" میں تو صبر کر رہا ہوں ،میں نے تو صبر کیا ہے!"۔
اے انسان یہ تو نے کیا کیا؟
یہ کیا کہہ دیا!
اپنا صبر تو نے خود ضائع کر دیا ؟
صبر
تو خاموش التجاؤں کا نام ہے،
خاموش جدوجہد کا نام ہے،
تابعداری کا نام ہے ۔
کیونکہ
صبر میں شکوہ نہیں ہوتا ،
شکایات نہیں ہوتیں۔
اللہ پر یقین رکھیں۔
جب اللہ نے کہا ہے کہ نا امید نہ ہو ،غمگین نا ہو۔
تو کیوں ٹینشن لے رہے ہیں؟
تو کیوں ناامید ہو رہے ہیں؟
صبر کریں۔
اور اگر لگے تھک رہے ہیں ،تو اللہ کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ جائیں ۔
بالکل خاموش ، اپنے آ پ کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔
اللہ کے حضور سجدہ کریں۔ اپنا سر اللہ کے اگے جھکا دے تاکہ وہ رب اپ کا سر کسی کے اگے جھکنے نہ دے۔
اپنے رب سے اپنے دل کا حال کہیں ۔
ہو سکے تو مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔
آ پ کی دعاؤں کی طلبگار،
زینب

#و #بس #بس

26/06/2025
جون کے اختتام پر موسم جہاں کچھ لمحوں کے لیے دلفریب ہوجا تا ہے ،وہیں فضا میں موجود ابر آ لود  دل و دماغ پر عجیب اثرات چھو...
24/06/2025

جون کے اختتام پر موسم جہاں کچھ لمحوں کے لیے دلفریب ہوجا تا ہے ،
وہیں فضا میں موجود ابر آ لود دل و دماغ پر عجیب اثرات چھوڑ رہے ہیں۔
اس وقت اگر میں کھڑکی کے باہر دیکھوں تو آ سمان مسلسل اپنے رنگ بدل رہا ہے۔ کالے بادل آسمان پر چھا جاتے ہیں تو ہوا ان کا رخ بدلنے میں جت جاتی ہے ۔
ایسے میں ماحول میں موجود تناؤ کو محسوس کرو تو دل بیٹھ جاتا ہے۔
ایسے میں ملکی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو ہر جانب بے سکونی ہے، جنگ ہی جنگ ہے،. خون ہی خون ہے۔
آج کے دور میں اگر کسی ایک خطے میں امن نہیں تو پوری دنیا بے امنی اور بے سکونی کا شکار ہوگی۔ ایران اور اسرائیل کے تعلقات جب ابتدا میں خراب ہوئے تو یہ سب میرے لیے خود ساختہ اور جھوٹ تھا ۔لیکن آہستہ آہستہ حالات سنگین ہوتے چلے گئے ۔اور آج ایران کے ساتھ جہاں پاکستان روس اور چائنہ نے اتحاد کیا وہیں اسرائیل کے ساتھ امریکہ نے بھی گٹھ جوڑ کر لیا ہے ۔میرے نزدیک تو یہ تیسری عالمی جنگ کی ابتدا ہے تو دوسری جانب صرف توجہ ہٹانے کے لیئے ہے۔ ان دنوں جہاں سوشل میڈیا پر MEMES اور کچھ حد تک سنجیدہ گفتگو جاری ہے ، اور مضوع گفتگو ایران اور اسرائیل ہے ،وہیں ہم فلسطین کو فراموش کر چکے ہیں۔ہم غزہ کو فراموش کر چکے ہیں۔ ماحول کا تناؤ بادلوں کا آ نا اور بغیر بر سے چلے جان،ہوا کا بادلوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا یہ سب بہت عجیب ہے۔
پچھلی رات جب ہر سو سناٹا تھا۔ پنکھے کی اواز مجھے جہازوں کی اواز کی مانند لگی، تو دل گھبرا گیا ۔پھر خیال ان فلسطینیوں کا آ یا ،غز ہ کے وہ بچوے یاد آ ئے،جو صبح و شام ناصرف جہازوں کی تیز آوازوں کے درمیان لمبے عرصے سے موجود ہیں، بلکہ میزائلوں کی بدولت تباہی ،بربادی اور نسل کشی کا بھی شکار ہیں ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔ ا آج ہمیں اپنے آنے والے گھنٹوں کی، اپنے کل کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔
کیونکہ تیسری عالمی جنگ کی ابتدا ہو چکی ہے۔
تیسری عالمی جنگ کی ابتدا ہو چکی ہے، تو ہمیں تیار رہنا ہوگا ۔
ہمیں تیار رہنا ہوگا،
اپنوں کو کھونے کے لیے،
اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کے لیے،
جنگ کے لیے ،
اپنے دفاع کے لیے۔
ا اپنی آ رام و سکون، بے فکری کی زندگی سے باہر آ جائیں ۔
اللہ سے دعا کریں،🤲🏻🤲🏽
سلامتی کی،
امن کی ۔
حکمت عملی تیار کریں۔اپنے آ نے والے کل کی۔
اللہ آ پ کو اور ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
امین
از قلم زینبجون کے اختتام پر موسم جہاں کچھ لمحوں کے لیے دلفریب ہوجا تا ہے ،
وہیں فضا میں موجود ابر آ لود دل و دماغ پر عجیب اثرات چھوڑ رہے ہیں۔
اس وقت اگر میں کھڑکی کے باہر دیکھوں تو آ سمان مسلسل اپنے رنگ بدل رہا ہے۔ کالے بادل آسمان پر چھا جاتے ہیں تو ہوا ان کا رخ بدلنے میں جت جاتی ہے ۔
ایسے میں ماحول میں موجود تناؤ کو محسوس کرو تو دل بیٹھ جاتا ہے۔
ایسے میں ملکی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو ہر جانب بے سکونی ہے، جنگ ہی جنگ ہے،. خون ہی خون ہے۔
آج کے دور میں اگر کسی ایک خطے میں امن نہیں تو پوری دنیا بے امنی اور بے سکونی کا شکار ہوگی۔ ایران اور اسرائیل کے تعلقات جب ابتدا میں خراب ہوئے تو یہ سب میرے لیے خود ساختہ اور جھوٹ تھا ۔لیکن آہستہ آہستہ حالات سنگین ہوتے چلے گئے ۔اور آج ایران کے ساتھ جہاں پاکستان روس اور چائنہ نے اتحاد کیا وہیں اسرائیل کے ساتھ امریکہ نے بھی گٹھ جوڑ کر لیا ہے ۔میرے نزدیک تو یہ تیسری عالمی جنگ کی ابتدا ہے تو دوسری جانب صرف توجہ ہٹانے کے لیئے ہے۔ ان دنوں جہاں سوشل میڈیا پر MEMES اور کچھ حد تک سنجیدہ گفتگو جاری ہے ، اور مضوع گفتگو ایران اور اسرائیل ہے ،وہیں ہم فلسطین کو فراموش کر چکے ہیں۔ہم غزہ کو فراموش کر چکے ہیں۔ ماحول کا تناؤ بادلوں کا آ نا اور بغیر بر سے چلے جان،ہوا کا بادلوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا یہ سب بہت عجیب ہے۔
پچھلی رات جب ہر سو سناٹا تھا۔ پنکھے کی اواز مجھے جہازوں کی اواز کی مانند لگی، تو دل گھبرا گیا ۔پھر خیال ان فلسطینیوں کا آ یا ،غز ہ کے وہ بچوے یاد آ ئے،جو صبح و شام ناصرف جہازوں کی تیز آوازوں کے درمیان لمبے عرصے سے موجود ہیں، بلکہ میزائلوں کی بدولت تباہی ،بربادی اور نسل کشی کا بھی شکار ہیں ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔ ا آج ہمیں اپنے آنے والے گھنٹوں کی، اپنے کل کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔
کیونکہ تیسری عالمی جنگ کی ابتدا ہو چکی ہے۔
تیسری عالمی جنگ کی ابتدا ہو چکی ہے، تو ہمیں تیار رہنا ہوگا ۔
ہمیں تیار رہنا ہوگا،
اپنوں کو کھونے کے لیے،
اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کے لیے،
جنگ کے لیے ،
اپنے دفاع کے لیے۔
ا اپنی آ رام و سکون، بے فکری کی زندگی سے باہر آ جائیں ۔
اللہ سے دعا کریں،🤲🏻🤲🏽
سلامتی کی،
امن کی ۔
حکمت عملی تیار کریں۔اپنے آ نے والے کل کی۔
اللہ آ پ کو اور ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
امین
از قلم زینب

ہم تھک چکے ہیں😞  اپنے آپ سے ،ہم تھک چکے ہیں😞 اپنے آپ کو قائل کرتے کرتے،اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کرتے کرتے ، میں خود تھک چکی...
22/06/2025

ہم تھک چکے ہیں😞
اپنے آپ سے ،
ہم تھک چکے ہیں😞
اپنے آپ کو قائل کرتے کرتے،
اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کرتے کرتے ،
میں خود تھک چکی ہوں😢
میں نے اپنے آپ کو مائل کرنے کی کوشش کی تو جانا میں تو بے بس ہوں ۔
میں نے چاہا کہ
میں بند کر دوں اپنے دل کے سارے دروازے اس شخص پر، جس کا گمان
صبح و شام میرے دل و دماغ پر حاوی ہے ۔جو دور ہو کر بھی مجھ سے قریب ہے۔
میں نے اپنے آپ پر جبر کرنا چاہا تو معلوم ہوا،
میں تو اپنے آپ پر سے اختیار پہلے ہی کھو چکی ہوں۔
میں نے اسے گڑگڑا کر مانگا ہے۔
میں نے اپنے رب پر ام الیقین کیا ہے ۔
توکل کیا ہے۔
لیکن میں تھک چکی ہوں۔☹️
آخر ہم خود کے ساتھ اتنے ظالم کیوں ہوتے ہیں؟
ہم لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں؟
آخر ہم خود کو اپنے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ میں سوچتی ہوں کہ ہمیں ایک بار خود کو آ زاد کر کر دیکھنا چاہیئے ۔
صرف گہرا سانس لینا ہے۔😯 اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیں 😩
رونا آ رہا ہے ؟😓
تو رو دیں۔🤧
ہنسی آرہی ہے؟
زور زور سے ہنسیں ۔
اپنے اندر کا غبار باہر نکالیں۔
اگر آپ نہیں بھول پا رہے کسی شخص کو ،کسی چیز کو تو یار چھوڑ دو نا،
لوگوں کو ،
چیزوں کو، ان کے حال پر ۔
اگر نہیں چھوڑ پا رہے، اپنے دل کو سمجھاؤ۔
کسی پریشانی میں ہو ،تو یار کیوں خود کو اذیت دے رہے ہو ؟
پتہ ہے کیا ہوتا ہے جب ہم باتیں اپنے اندر رکھنے رکھ جاتے ہیں؟😕
کیا ہوتا ہے جب ہم اپنے آپ کو مجبور کر دیتے ہیں ؟
ہم ڈپریشن کے مریض بن جاتے ہیں۔
ہمیں انزائٹی ہوتی ہے ،سٹریس ہوتا ہے۔
اپنے آپ کو آزاد کرو ۔
رات صرف سونے کے لیے نہیں ہوتی۔ راتیں صرف موبائل پر رات بھر جاگ کر اسکرولنگ کرنے کے لیے نہیں ہوتیں۔
راتیں ہوتی ہیں،
اپنے آ پ کو پہچاننے کے لیے۔
بات کریں اپنے آپ سے، خود سے۔
کبھی خود سے اپنے حال دریافت کیا ہے ؟
کبھی ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ میں کس حال میں ہوں؟
اپنا نام لے کر خود سے پوچھا ؟
نہیں پوچھا ۔
کیونکہ ہم شروع سے اپنے آپ پر ظلم کرنے کے عادی ہیں۔
راتوں کو سو کر نہ گزارا یں ۔
راتیں تو اپنے آ پ سے پہچان کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
راتیں تو ٹوٹنے، بکھرنے اور پھر جڑنے کے لیے ہوتی ہیں۔
میں سوچتی ہوں اگر راتیں نہ ہوتیں، تو میں زندہ کیسے رہتی ؟
اگر راتیں نہ ہوتی، اندھیرا نہ ہوتا ،رات کا سناٹا نہ ہوتا ،تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں، صبح کی روشنی مجھے توڑ دیتی۔
میں راتوں کو جاگتی ہوں۔ اپنے رب سے باتیں کرتی ہوں ۔
اعتراف کرتی ہوں اپنی غلطیوں کا اپنے گناہوں کا ۔😞
اور پھر رات کے کسی حصے میں ایک لمحے کے لیے تصور کرتی ہوں اگر میں مر گئی صبح میری آنکھ نہ کھلی تو کیا ہوگا میرا؟
ایک لمحے کے لیے سوچیں ملک الموت سر پر آ پہنچے ہیں، میرے اور آپ کے پاس کیا ہے اخرت کے لیے؟
کچھ بھی تو نہیں ہے!
ابھی بھی وقت ہے اپنے آپ کو وقت دیں ،چیزوں کو وقت دیں۔
یقین مانیں وقت کو بھی وقت لگتا ہے۔
وقت بھی وقت لیتا ہے ۔
خود کو آزاد کر دیں۔
اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیں۔
معافی مانگ لیں۔ وہ معاف کر دے گا۔
انشاءاللہ ۔
کیا ٹینشن ہے؟
وہ تو اللہ ہے ، رب ہے ہمارا۔
تم ایک قدم اس کی جانب بڑھا ؤ وہ ، وہ دو قدم آگےبڑھاتا ہے۔
اپنے آپ کو ازاد کر دیں ۔
اپنے اپ کو اللہ کے حوالے کر دیں وہ آ پ کو گرنے نہیں دے گا۔
انشاء اللہ ۔
اج کل تو موسم ویسے ہی اتنا خوبصورت ہے انجوائے کریں۔

#زینب
https://youtu.be/4VSQUi-woco

یہ کیا ہو رہا ہے منظر کیوں بدل رہا ہے اچانک یہ سب کیا ہے نظروں کے سامنے کا منظر دھندلا سا کیوں ہے کچھ بھی تو صاف نہیں ہے...
21/06/2025

یہ کیا ہو رہا ہے منظر کیوں بدل رہا ہے اچانک یہ سب کیا ہے نظروں کے سامنے کا منظر دھندلا سا کیوں ہے کچھ بھی تو صاف نہیں ہے ۔
یہ سکول کے یونیفارم میں ملبوس لڑکا یہ ابھی میرے پاس سے ہو کر گزرا ہے۔ ادونوں وجود ایک دوسرے کی انکھوں میں دیکھ رہے ہیں ۔
ہاں وہ خواب دیکھ رہی ہے منظر کچھ نمایاں ہونا شروع ہو ا ہے۔صنف ناز ک کرسی پر براجمان ہیں جبکہ وہ مضبوط سائے دار درخت کے مانند دھوپ اور صنف نازک کے درمیان حائل ہے۔ صنف نازک مسلسل انکھوں میں انکھیں ڈال کسی بات پر حامی بھر رہی ہیں تو سامنے کھڑے وجود کی انکھیں چمک رہی ہیں۔جبکہ سارے منظر کو ان دونوں سے کچھ فاصلے پر موجود وجود نمکین پانی سے لبریز انکھیں لیکن ہونٹوں پر اداس مسکراہٹ سجائے دیکھ رہی ہے۔ ہاں یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی تو بنے ہیں۔
" ارم تم کر لو یقین " اس نے جیسے خواب میں اپنے عکس کو بولتے سنا ۔
وہ یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس کے جسم کی کپکپہاہٹ اور ہاتھ تیزی سے سر دبا رہے ہیں ۔لیکن نہیں کوئی فائدہ نہیں وہ نیند میں تیزی سے گردن کو ادھر ادھر ہلا رہی ہے ۔
"ہاں ارم یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنائے گئے ہیں۔کیوں یقین نہیں کر لیتی"اس نے ایک بار پھر خواب میں اپنے عکس کو بولتے سنا۔
وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے تو پیچھےاس کے کلاس فیلو بیٹھے ہیں۔ اس منظر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ نم انکھیں نمکین پانی سے بھرتی جا رہی ہیں اور اندیشہ ہے کہ بس اب سیلاب آ نے کو ہے ۔لیکن نہیں وہ خوش ہے وہ اپنے اصولوں سے ہٹنے والی نہیں تھی "محبوب کی رضا میں راضی رہنا چاہیے"یہ ہی تو کہا کرتی تھی۔
ا ارم خوابوں میں تو اپنے اصولوں کو توڑ دو۔ یہ توخواب ہے اپنی مرضی سے جو چاہے دیکھو۔ لیکن روکو پھر وہ خواب تو نہیں ہوا۔ وہ تو الوژن ہوا۔ یومہ طے تھا ارم حمید خوابوں میں بھی اپنے اصول نہیں توڑے گی۔
یہ کیا ایک بار پھر منظر دھندلاتا جا رہا ہے۔ وہ اب جاگ چکی ہے۔ ایک جھٹکے سے وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تھی ۔دونوں ہاتھ سر میں دیے ہوئے، بالوں کو بری طرح سے پکڑے ہوئے ۔تنفس کافی تیز تھا ۔
ابھی کیا ہوا کچھ یاد نہیں صرف سر درد سے پھٹنے کو ہو رہا ہے۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر میں درد کی ایک ٹیس اٹھی۔
" میں نے ابھی کیا دیکھا" کچھ لمحوں پہلے دیکھا گیا خواب اب یادداشت میں کہیں نہیں تھا۔ اس خواب نے اپنی نشانی میں کچھ چھوڑا تھا، تو تھا سر کا شدید درد ۔
کچھ یاد کرنے کی کوشش کی تو بے سود آ خر دماغ کو اس پر ترس آ ہی گیا ۔لیکن یہ کیا دماغ نے اپنا معاوضہ وصول کیا ،کسی تھکے ہارے مزدور کی طرح۔
درد کی شدید لہر ایک بار پھر اسے اذیت دینے میں کامیاب ہوئی تھی ۔
اس نے اپنے اعتراف کا جائزہ لیا تو سب گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے۔
ہاں وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی، جہاں گرمی کے دنوں میں سارا خاندان بجلی کے زیادہ بلوں کے ڈر کی وجہ سے کبھی چھت پر چلے جاتے تو کبھی پورا خاندان ایک کمرے میں جمع ہو جاتا تھا۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔کمرے میں حبس بڑھتا جا رہا تھا ۔آ گے پیچھے سےراہ فرار ڈھونڈنی چاہی تو لاحاصل۔
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اگر غلطی سے کسی کے اوپر پاؤں رکھا جاتا تو وہ اس کمرے میں موجود خاموشی کو ختم کرکہ اپنے لیے مشکلات پیدا کرنا بالکل نہیں چاہتی تھی۔
وہ چاہتی تھی کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے۔
وہ جائے کسی دوسرے کمرے میں اور جا کر روئے چیخیے، چلائے ۔لیکن لا حاصل!
آ نسو متواتر بہہ رہے تھے ۔آ خر ہچکیوں کا منہ تو وہ بند کیے ہوئی تھی لیکن کب تک ؟اب مزید اس سے ہچکیوں کی آ وازبند نہیں کی جا رہی تھی ۔اس کا دم تیزی سے گھٹ رہا تھا ۔ا سے اس کمرے سے باہر جانا تھا۔
لیکن نہیں اگر وہ اس کمرے سے باہر چلی گئی اور رات کو اسے کسی نے روتا دیکھ لیا؟ نہیں
وہ اپنے کردار پر باتیں نہیں سنیں گی۔
وہ اس کی خاموش محبت تھا ۔
وہ اسے کسی کے سامنے یوں پیش نہیں کرے گی۔
بھلے اس کمرے میں اس کا دم ہی کیوں نہ گھٹ جائے۔
اس نے انکھوں سے بہتےپانی پر قابو پانے کی کوشش کی،
لیکن ناکام جو پردہ ابھی اپنی جگہ ساکت کھڑکی کی زینت بنا ہوا تھا ،اخر کو ہوا کے ٹھنڈے جھونکے نے اسے ہلا ہی دیا تھا ۔
صرف یہی نہیں،
ہوا کا جھونکا اس کے چہرے پر پھیلے بالوں کو ہٹانے میں کامیاب ہوا تھا ۔اگر کوئی اس وقت اس لڑکی کو دیکھ لئے، تو یقینا وہ اس بات پر ایمان لے ائے گا کہ چڑیلیں روتی بھی ہیں۔پردہ ہوا کے جھوکے سے ہٹا تو ہر دفعہ کیطرح انکھیں کھڑکی سے نظر آ تے آسمان پر ٹھہر گئی۔ آ سمان اج بھی ویسے ہی تھا ہمیشہ کی طرح صاف مسکراتا ہوا ۔قدرت اسے دیکھ رہی تھی ،مسکرا رہی تھی ۔اب ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہو چکی تھی۔ایسالگتا تھاجیسے قدرت اس لڑکی سے مخاطب ہو۔ یوں جیسے اسے کہا جا رہا ہو کہ اسے زندہ رہنا ہے یہ حبس زدہ ماحول اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اسے زندہ رہنا پڑے گا ۔
کیونکہ وہ حالات سے لڑنے کے لیے بنائی گئی ہے ۔حالات اس کاکچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔
وہارم حمید ہے ۔وہ حالات سے مقابلہ کرے گی۔
اب منظر کچھ یوں تھا کہ جیسے ہی ہوا کا جھونکا آ تا تو اس کی گھوڑتی کالی انکھیں کالے سیاہ اسمان سے ٹکرا جاتیں اور یوں ہوا نے تیسرے فریق کا کردار ادا کرتے ہوئے اس نم کالی انکھوں والی لڑکی اور اسمان کے درمیان کھیل شروع کر دیا۔
چھپن چھپائی کا کھیل۔
وہ مسکرا رہی تھی خالی انکھوں سے۔ اسے ہوا کا یہ کھیل پسند آ رہا تھا۔
اور دیکھو تو قدرت ایک بار پھر اسے زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئی تھی ۔
بھلا قدرت کو بھی کوئی شکست دے سکا ہے
جاری ہے۔
قسط نمبر ۱
ناول: مان
https://youtu.be/jKDedDWmbUE

یہ کیا ہو رہا ہے منظر کیوں بدل رہا ہے اچانک یہ سب کیا ہے نظروں کے سامنے کا منظر دھندلا سا کیوں ہے کچھ بھی تو صاف نہیں ہے...
21/06/2025

یہ کیا ہو رہا ہے منظر کیوں بدل رہا ہے اچانک یہ سب کیا ہے نظروں کے سامنے کا منظر دھندلا سا کیوں ہے کچھ بھی تو صاف نہیں ہے ۔
یہ سکول کے یونیفارم میں ملبوس لڑکا یہ ابھی میرے پاس سے ہو کر گزرا ہے۔ ادونوں وجود ایک دوسرے کی انکھوں میں دیکھ رہے ہیں ۔
ہاں وہ خواب دیکھ رہی ہے منظر کچھ نمایاں ہونا شروع ہو ا ہے۔صنف ناز ک کرسی پر براجمان ہیں جبکہ وہ مضبوط سائے دار درخت کے مانند دھوپ اور صنف نازک کے درمیان حائل ہے۔ صنف نازک مسلسل انکھوں میں انکھیں ڈال کسی بات پر حامی بھر رہی ہیں تو سامنے کھڑے وجود کی انکھیں چمک رہی ہیں۔جبکہ سارے منظر کو ان دونوں سے کچھ فاصلے پر موجود وجود نمکین پانی سے لبریز انکھیں لیکن ہونٹوں پر اداس مسکراہٹ سجائے دیکھ رہی ہے۔ ہاں یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی تو بنے ہیں۔
" ارم تم کر لو یقین " اس نے جیسے خواب میں اپنے عکس کو بولتے سنا ۔
وہ یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس کے جسم کی کپکپہاہٹ اور ہاتھ تیزی سے سر دبا رہے ہیں ۔لیکن نہیں کوئی فائدہ نہیں وہ نیند میں تیزی سے گردن کو ادھر ادھر ہلا رہی ہے ۔
"ہاں ارم یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنائے گئے ہیں۔کیوں یقین نہیں کر لیتی"اس نے ایک بار پھر خواب میں اپنے عکس کو بولتے سنا۔
وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے تو پیچھےاس کے کلاس فیلو بیٹھے ہیں۔ اس منظر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ نم انکھیں نمکین پانی سے بھرتی جا رہی ہیں اور اندیشہ ہے کہ بس اب سیلاب آ نے کو ہے ۔لیکن نہیں وہ خوش ہے وہ اپنے اصولوں سے ہٹنے والی نہیں تھی "محبوب کی رضا میں راضی رہنا چاہیے"یہ ہی تو کہا کرتی تھی۔
ا ارم خوابوں میں تو اپنے اصولوں کو توڑ دو۔ یہ توخواب ہے اپنی مرضی سے جو چاہے دیکھو۔ لیکن روکو پھر وہ خواب تو نہیں ہوا۔ وہ تو الوژن ہوا۔ یومہ طے تھا ارم حمید خوابوں میں بھی اپنے اصول نہیں توڑے گی۔
یہ کیا ایک بار پھر منظر دھندلاتا جا رہا ہے۔ وہ اب جاگ چکی ہے۔ ایک جھٹکے سے وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تھی ۔دونوں ہاتھ سر میں دیے ہوئے، بالوں کو بری طرح سے پکڑے ہوئے ۔تنفس کافی تیز تھا ۔
ابھی کیا ہوا کچھ یاد نہیں صرف سر درد سے پھٹنے کو ہو رہا ہے۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر میں درد کی ایک ٹیس اٹھی۔
" میں نے ابھی کیا دیکھا" کچھ لمحوں پہلے دیکھا گیا خواب اب یادداشت میں کہیں نہیں تھا۔ اس خواب نے اپنی نشانی میں کچھ چھوڑا تھا، تو تھا سر کا شدید درد ۔
کچھ یاد کرنے کی کوشش کی تو بے سود آ خر دماغ کو اس پر ترس آ ہی گیا ۔لیکن یہ کیا دماغ نے اپنا معاوضہ وصول کیا ،کسی تھکے ہارے مزدور کی طرح۔
درد کی شدید لہر ایک بار پھر اسے اذیت دینے میں کامیاب ہوئی تھی ۔
اس نے اپنے اعتراف کا جائزہ لیا تو سب گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے۔
ہاں وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی، جہاں گرمی کے دنوں میں سارا خاندان بجلی کے زیادہ بلوں کے ڈر کی وجہ سے کبھی چھت پر چلے جاتے تو کبھی پورا خاندان ایک کمرے میں جمع ہو جاتا تھا۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔کمرے میں حبس بڑھتا جا رہا تھا ۔آ گے پیچھے سےراہ فرار ڈھونڈنی چاہی تو لاحاصل۔
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اگر غلطی سے کسی کے اوپر پاؤں رکھا جاتا تو وہ اس کمرے میں موجود خاموشی کو ختم کرکہ اپنے لیے مشکلات پیدا کرنا بالکل نہیں چاہتی تھی۔
وہ چاہتی تھی کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے۔
وہ جائے کسی دوسرے کمرے میں اور جا کر روئے چیخیے، چلائے ۔لیکن لا حاصل!
آ نسو متواتر بہہ رہے تھے ۔آ خر ہچکیوں کا منہ تو وہ بند کیے ہوئی تھی لیکن کب تک ؟اب مزید اس سے ہچکیوں کی آ وازبند نہیں کی جا رہی تھی ۔اس کا دم تیزی سے گھٹ رہا تھا ۔ا سے اس کمرے سے باہر جانا تھا۔
لیکن نہیں اگر وہ اس کمرے سے باہر چلی گئی اور رات کو اسے کسی نے روتا دیکھ لیا؟ نہیں
وہ اپنے کردار پر باتیں نہیں سنیں گی۔
وہ اس کی خاموش محبت تھا ۔
وہ اسے کسی کے سامنے یوں پیش نہیں کرے گی۔
بھلے اس کمرے میں اس کا دم ہی کیوں نہ گھٹ جائے۔
اس نے انکھوں سے بہتےپانی پر قابو پانے کی کوشش کی،
لیکن ناکام جو پردہ ابھی اپنی جگہ ساکت کھڑکی کی زینت بنا ہوا تھا ،اخر کو ہوا کے ٹھنڈے جھونکے نے اسے ہلا ہی دیا تھا ۔
صرف یہی نہیں،
ہوا کا جھونکا اس کے چہرے پر پھیلے بالوں کو ہٹانے میں کامیاب ہوا تھا ۔اگر کوئی اس وقت اس لڑکی کو دیکھ لئے، تو یقینا وہ اس بات پر ایمان لے ائے گا کہ چڑیلیں روتی بھی ہیں۔پردہ ہوا کے جھوکے سے ہٹا تو ہر دفعہ کیطرح انکھیں کھڑکی سے نظر آ تے آسمان پر ٹھہر گئی۔ آ سمان اج بھی ویسے ہی تھا ہمیشہ کی طرح صاف مسکراتا ہوا ۔قدرت اسے دیکھ رہی تھی ،مسکرا رہی تھی ۔اب ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہو چکی تھی۔ایسالگتا تھاجیسے قدرت اس لڑکی سے مخاطب ہو۔ یوں جیسے اسے کہا جا رہا ہو کہ اسے زندہ رہنا ہے یہ حبس زدہ ماحول اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اسے زندہ رہنا پڑے گا ۔
کیونکہ وہ حالات سے لڑنے کے لیے بنائی گئی ہے ۔حالات اس کاکچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔
وہارم حمید ہے ۔وہ حالات سے مقابلہ کرے گی۔
اب منظر کچھ یوں تھا کہ جیسے ہی ہوا کا جھونکا آ تا تو اس کی گھوڑتی کالی انکھیں کالے سیاہ اسمان سے ٹکرا جاتیں اور یوں ہوا نے تیسرے فریق کا کردار ادا کرتے ہوئے اس نم کالی انکھوں والی لڑکی اور اسمان کے درمیان کھیل شروع کر دیا۔
چھپن چھپائی کا کھیل۔
وہ مسکرا رہی تھی خالی انکھوں سے۔ اسے ہوا کا یہ کھیل پسند آ رہا تھا۔
اور دیکھو تو قدرت ایک بار پھر اسے زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئی تھی ۔
بھلا قدرت کو بھی کوئی شکست دے سکا ہے
https://youtu.be/jKDedDWmbUE

?
16/06/2025

?

Follow us
13/06/2025

Follow us

06/06/2025

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bint e Hawa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share