17/10/2024
شہید حکیم محمد سعید
نشانِ امتیاز، پاکستان (بعد از شہادت، 2002ء) ، ستارۂ امتیاز، پاکستان (1966ء)
ایک عظیم انسان، ممتاز دانش ور، ماہر طبیب، ماہرِ تعلیم، علِمِ جدید کے عَلم بردار، دردمند مصلح، انسانیت کے ناقابلِ فراموش خیرخواہ اور محسن۔ (9 جنوری 1920ء - 17 اکتوبر 1998ء)
قیامِ پاکستان کے بعد نہایت محدود سرمائے اورمعمولی اثاثے کی مدد سے انہوں نے 1948ء میں ہمدرد پاکستان کی بنیاد ڈالی۔ پھر چند ہی برسوں میں ہمدرد کی دوائیں مقبول اور گھر گھر عام ہو گئیں ۔طبِ مشرق کے شعبہ میں ہمدرد کا نام بین الاقوامی شہرت کا حامل بن گیا۔ ان کے جذبہ اور لگن ، ایک عظیم مقصد کی تکمیل کی خواہش اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ان کی بصیرت ،خصوصاً طبِ مشرق اور تعلیم کے میدان میں درخشاں خدمات کا باعث بنی۔
شہید حکیم محمد سعید کو انقرہ (ترکی) کی ایک جامعہ نے 1952ء میں فارمیسی میں ڈاکٹریٹ کی سند پیش کی۔ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر،ہمدرد لیبارٹریز کے چئیرمین، واقف متولی، مدینۃ الحکمہ کے بانی، ہمدرد یونی ورسٹی کے چانسلر، ہمدرد پبلک اسکول کے صدر، ہمدرد بنگلہ دیش کے واقف متولی، مطب ہائے ہمدرد میں طبیبِ اعلا اور متعدد وقیع سوسائٹیوں اور اداروں کے سربراہ کے طور پر انہوں نے وسیع تر خدمات انجام دیں۔ اردو اور انگریزی میں طب، فلسفہ، صحت، سائنس، قدرتی ادویہ، سماجی مسائل اور سفر و سیاحت کے موضوعات پر 189 سے زائد کتابیں تحریر اور ادارت کیں۔ ان کے علاوہ پانچ سو سے زائد مضامین سائنس، ادویہ سازی، تاریخ اور اسلام کے موضوعات پر تحریر کیے۔ انہوں نے پاکستان میں سائنس کے فروغ کے لیے، یونیسکو اور ڈبلیو ایچ او سمیت کئی بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ انہوں نے 1991ء میں ہمدرد یونیورسٹی قائم کی جو جدید تعلیم کا ایک باوقار ادارہ ہے۔ ایک جید اور حاذق طبیب کی حیثیت سے انہوں نے پچاس برسوں کے دوران میں ، پاکستان، یورپ، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں لاکھوں مریضوں کا کام یاب علاج کیا۔ بحیثیت گورنر صوبہ سندھ انہوں نے 19 جولائی 1993ء تا 23 جنوری 1994 ء کےمختصر سے عرصہ میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔
ان کی بصیرت اور جدو جہد کا مرکزی نکتہ، پاکستان کی خوش حالی اور اس کے مستقبل کا تحفظ تھا۔ ایک رفاہی ادارے کا قیام، حب الوطنی کی سرپرستی، خدمتِ انسانیت اور قومی تعمیرِ نو ان کے مقاصد میں شامل تھے۔ انہوں نے ترقی کے لیے تعلیم کو محور بنانے پر زور دیا اور اس غرض سے ہمدرد کو ایک ممتاز تحقیقی مرکز کی شکل دی جہاں جڑی بوٹیوں اور طبِ مشرق میں جدید تحقیق پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
افسوس ناک طور پر 17 اکتوبر 1998ء کی صبح حکیم محمد سعید کی زندگی کا رخشندہ چراغ گل کر دیا گیا۔ وہ آرام باغ کراچی میں واقع اپنے مطب تشریف لے جارہے تھے کہ سفاک قاتلوں نے گولیاں برسا کر انہیں شہید کردیا ۔ وہ اپنے پیچھے ایک عظیم میراث چھوڑ گئے جو اَن گنت انسانوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دلاتی ہے۔