Kitab Ghar Online

Kitab Ghar Online ہر قسم کی کتابیں اب آپ کی دسترس میں اور انتہائی کم قیمت کتاب گھر آن لائن" میں"

06/04/2026
الحمد للہ ڈراما رائٹنگ تکنیک پر اہم کتاب " ابن اس کے مشہور ڈرامے" تیار ہو کر ہمارے پاس پہنچ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ کتاب خاص طور...
16/09/2025

الحمد للہ
ڈراما رائٹنگ تکنیک پر اہم کتاب
" ابن اس کے مشہور ڈرامے" تیار ہو کر ہمارے پاس پہنچ گئی ہے
۔۔۔۔۔۔
یہ کتاب خاص طور پر ان احباب کے لیے لکھی گئی ہے ، جو ڈراما لکھنے کے شوقین ہیں ۔
ٹی وی ڈراما ، فلم ،اسکرین پلے لکھ کر نام ، دولت ،شہرت کمانا چاہتے ہیں ۔
یا محض ۔۔ اپنی ذات کی تکمیل کے لیے ، ایک ہنر سیکھنا چاہتے ہیں ،
اسکرین پلے رائٹنگ کی تکنیک ،سمجھنے ، سیکھنے اور برتنے کا طریقہ جاننا چاہتے ہیں ۔
سمجھنا چاہتے ہیں کہ ڈراما لکھنے کا طریقہ کیا ہوتا ہے ۔
کیسے وہ اپنی کہانی کو اسکرین پلے میں ڈھال سکتے ہیں ۔
کیسے براہ راست ایک مربوط اسکرین پلے تیار کرسکتے ہیں ۔
اس ضمن میں وہ لوگ ، وہ ذہین اور سمجھ دار لکھاری جو چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی لکھا ہوا مکمل اسکرپٹ مل جائے جس کی کرافٹنگ دیکھ کر وہ سمجھ جائیں کہ اسکرین پلے کیا ہوتا ہے ، کیسے لکھا جاتا ہے ۔۔۔۔ ان کی آسانی کے لیے کئی اہم مضامین کے علاؤہ کچھ مکمل اسکرپٹ بھی اس کتاب میں موجود ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
کتابوں کی تعداد محدود ہے ۔
یہ عام قارئین کے پڑھنے کی چیز تو ہے ہی ۔مگر اہل قلم خواتین و حضرات کا اوزار ہے ۔۔۔ ان کا مکتب ہے ۔
۔۔۔۔۔
مجھے کامل یقین ہے کہ سمجھ دار لکھنے والے پورے دھیان سے اس کتاب کو صرف ایک مرتبہ پڑھ لیں ۔۔ تو وہ ڈراما رائٹر بن جائیں گے ۔
ان کی سمجھ میں سب کچھ آجائے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی کاپی طلب کرنے کے لیے دیے گئے نمبر پر رابطہ کیجیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کہ کتاب کم تعداد میں شایع کی گئی ہے اس لیے عام بازار میں دستیاب نہیں ۔
صرف اسپیشلی آن لائن منگوائی جا سکتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
رابطہ : 03212043587( واٹس ایپ )
قیمت : 1950 روپے
ڈاک خرچ فری آس پبلی کیشن ۔اردو بازار ۔کراچی

عدلیات ۔۔۔۔۔ از عادل علی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آس پبلی کیشن کی نئی کتاب شایع ہوگئی ۔۔۔۔آٹو گراف کاپی حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجی...
18/08/2025

عدلیات ۔۔۔۔۔ از عادل علی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آس پبلی کیشن کی نئی کتاب
شایع ہوگئی ۔۔۔۔
آٹو گراف کاپی حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
گئےزمانوں میں عدل کے لیے تلوار ہی ہو اکرتی تھی ۔غدر سے عدل تک ہر کارنامہ تلوار ہی کا مرہون منت تھا۔گردشِ زمانہ کے بعد تلوار کی جگہ قانون نے لے لی ۔۔عدل کے لیے اَب قانون سے وُہی کام لیا جاتاہے ،جو پہلے کبھی تلوار سے لیا جاتا تھا۔
عادل علی ؔنے عدل کے لیے ،بلکہ "عادلیات" کے لیے تلوار یا قانون کی بہ جائے۔۔قلم کا سہارا لیا ہے ۔۔قلم کو اپنی تلوار ،اور قلم کو ہی اپنا قانون بنایا ہے ۔وہ اپنے قلم سے عدل کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔حیاتِ انسانی کے لیے ،نئے مسائل کو دیکھتے ہوئے قانون ،بلکہ قوانین وضع کرتے دکھائی دیتے ہیں ،اور اِسی قلم کو بہ طور ہتھیار اور بہ طور قانون استعمال کرتے ہیں۔معاشرے میں پھیلی بے انصافیوں ،بے اعتدالیوں کے تن آور درختوں کو جڑ سے کاٹنے کے لیے اپنے قلم کو کام میں لاتے ہیں ۔
فی زمانہ قلم کا استعمال کم کم ہی ہونے لگا ہے ۔لوگ لکھنے کے لیے کی بورڈ ،یا موبائل فون استعمال کرنے لگے ہیں ،بعض لکھنے والے اَب بول کر بھی لفظ ٹائپ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔گوگل نے جہاں بہت سی علتوں کو فروغ دیا ہے وہاں بہت سی سہولتیں بھی فراہم کی ہیں ۔۔مگر یہ سب ٹولز ہیں ۔۔طریقے ہیں ۔۔جیسے قلم ٹول ہے ۔
اللہ نے قلم کی حرمت کی قسم کھائی ہے ۔۔یہاں قلم استعارہ ہے ،مراد بال پوائنٹ ،روشنائی والاقلم ۔۔یا لکڑی کا قلم نہیں ۔۔مراد وہ ٹول ہے ،جس سے انسان ،جو سوچتا ہے ،جو سمجھتا ہے ،سمجھانا چاہتا ہے ،بتانا چاہتا ہے ۔۔اُس کا اظہار کرتا ہے ۔۔یعنی اللہ نے قلم کو استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔لکھنے والاجو بھی طریقہ اختیار کرے ،مراد وہ " متن " ہے جوسوچنے والا،سمجھنے والا،سمجھانے اور سکھانے کے لیے " ڈلیور " کرے گا ۔سوچنے پر مجبور کرے گا۔ عادل علی بھی اس کام کو نہایت ایمان داری سے سر انجام دے رہے ہیں ۔کسی تساہل سے کام نہیں لے رہے ۔جو سیکھ چکے ،وہ سکھا رہے ہیں ،جو سمجھ چکے وہ سمجھا رہے ہیں ۔جو سوچتے ہیں،اُسے بتا کر سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔
پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم تھا ۔۔لکھنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔۔مگر سمجھنے والے جانتے ہیں کہ جو لکھا جائے گا وہی پڑھا جائے گا ۔پڑھنے کا عمل پہلے ہے ،لکھنے کا بعد میں۔۔جو لکھا نہ جائے اُسے پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔
مالک کائنات نے وہ پڑھنے کا حکم دیا،جو اُس نے لکھ کر اُتارا، یعنی ،یہ لکھنا اور انسانوں کو پڑھنے کے لیے تحریر فراہم کرنا ۔۔ خدائی وَصف ہے ۔خدا نے انسانوں کوودیعت کیا ہے ۔۔مگر یہ ہر کس وناکس کے بس کی چیز نہیں ،ہر فرد لکھنے کی صلا حیت لے کر پیدا نہیں ہوتا،کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں ،جنہیں خدا منتخب کرتا ہے ۔
خدا جنہیں خود لکھ کر بھیجتا ہے ،اُنہیں پیغمبر کہا جاتا ہے ۔۔اور جنہیں لکھنے کی صلاحیت دیتا ہے ،میں انہیں پیغام بر کہتا ہوں ۔لکھنے والاوہی لکھتاہے جو پیغام کی صورت دوسروں کو پہنچانا چاہتا ہے ۔ عادل علی بھی کوئی پیغام بر ہے ،جو اپنے تجربات سے کشید شدہ خیالات سب تک پہنچا نے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔
عادل سے میری ملاقات ایک عجیب اتفاق کے سبب ہوئی ۔۔اور عجیب اتفاق جلد ہی حسین اتفاق بن گیا کہ میرے ادارے سے ان کی پہلی کتاب " عادلیات " منظر عام پر آرہی ہے ۔عادلیات وہ فلسفہ ہے ۔۔جو عام الفاظ میں ،عام انسانوں کے لیے ایک خاص انسان نے لکھا ہے ۔آج کے مشینی ،جدید اور فری میڈیا عہد میں۔۔سب کے پاس،پڑھنے سے زیادہ سب کچھ ۔۔یا کچھ بھی دیکھنے کا وقت ہے ۔معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ اب دیکھنے وا لے پڑھتے نہیں ہیں۔۔اور پڑھنے والے دکھائی نہیں دیتے ۔
اس قحط الرجالی میں عادل علی کا دَم غنیمت ہے کہ وہ کھلی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتے ہیں ،اسے صرف دیکھتے نہیں ،اس پر سوچتے بھی ہیں ،اور ان سوچوں کو الفاظ کا روپ دے کر آگے منتقل کر دیتے ہیں ۔وہ اپنی زندگی کے تجربات سے فلسفہ حیات کو صرف سمجھتے نہیں ،سمجھانے کی کو شش بھی کرتے ہیں ۔چھوٹی چھوٹی تحریروں میں بڑے بڑے فلسفے بتانے کی کوشش کرتے ہیں ۔بات یہ ہے کہ انہیں بات سمجھ کر،بات کہنی اور سمجھانی آتی ہے ۔
عادلیات ۔۔عادل علی کا نقش اوّل ہے ۔۔نقش اوّل بھی ایسا عمدہ کہ دل بے اختیار" واہ" کہہ اُٹھے،اور بات واہ سے ۔۔واہ واہ تک جا پہنچے تو سمجھ لو بات عادل علی کی ہو رہی ہے ۔
شاباش عادل علی

(ابن آس محمد)
۔۔۔۔۔۔۔
۔
عادل علی کی " عادلیات " شایع ہو گئی ہے ۔
قیمت : 2000 روپے
ڈاک خرچ فری
۔۔۔۔۔۔۔
دیے گئے نمبر پر رابطہ کرکے براہ راست
آٹو گراف کاپی منگوائی جا سکتی ہے ۔
رابطہ : 03352886113
۔۔۔۔۔
۔
آس پبلی کیشن
اردو بازار کراچی

شاہانہ خٹک کی کہانیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہانہ خٹک کی کتاب "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" بچوں کے ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جس میں انہوں...
09/09/2024

شاہانہ خٹک کی کہانیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہانہ خٹک کی کتاب "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" بچوں کے ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جس میں انہوں نے نہایت دل چسپ اور سبق آموز کہانیاں پیش کی ہیں۔ اس کتاب میں شامل دس کہانیاں نہ صرف بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کے بنیادی اصولوں سے بھی روشناس کرواتی ہیں۔
کتاب میں شامل ہر کہانی ایک خاص سبق پر مبنی ہے جو بچوں کو اچھائی اور برائی، سچ اور جھوٹ، محنت اور سستی کے فرق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح کی کہانیاں بچوں کی اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔
یہ کہانیاں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتی ہیں۔ وہ کہانیوں کے کرداروں سے متاثر ہوکر خود بھی کہانیاں تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ان کے ذہنی ارتقاء کے لیے بہت مفید ہے۔
شاہانہ خٹک نے اپنی کہانیوں میں عام زندگی کے تجربات کو سادہ اور پرکشش انداز میں پیش کیا ہے۔ اس سے بچوں کو زندگی کی مختلف صورتوں اور مسائل کا سامنا کرنے کا ہنر آتا ہے۔
شاہانہ خٹک پاکستان کی ممتاز بچوں کی ادیبہ ہیں، جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور بچوں کی نفسیات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے بچوں کے ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی کہانیاں معصومیت، سادگی، اور گہری فکر سے بھرپور ہوتی ہیں۔ شاہانہ خٹک نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف بچوں کو تفریح فراہم کی ہے، بلکہ ان کی کہانیوں میں چھپے اخلاقی اور تعلیمی پہلو بچوں کی شخصیت سازی میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر ایسا ہے جو بچوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور انہیں ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں سچائی، بہادری، اور کردار کی مضبوطی جیسے اوصاف اُبھرتے ہیں۔

شاہانہ خٹک کے قلم میں وہ جادو ہے جو بچوں کے دلوں کو چھو لیتا ہے اور انہیں پڑھنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ ان کی کہانیاں بچوں کی عام زندگی کے تجربات کو ایسے پیرائے میں پیش کرتی ہیں کہ وہ ان میں خود کو پہچان سکیں اور ان سے کچھ سیکھنے کا جذبہ پیدا ہو۔ ان کی کہانیوں کا اسلوب سادہ مگر دلکش ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ہر عمر کے بچے ان کی تحریروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ادبی دنیا میں شاہانہ خٹک کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، اور ان کا کام نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی سراہا جاتا ہے۔ ان کی تحریریں مختلف تعلیمی نصابوں کا حصہ بھی رہی ہیں، جو ان کی علمی حیثیت کا ثبوت ہیں۔

شاہانہ خٹک کی کہانیوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی معنوی گہرائی اور سادگی ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں بچوں کے ذہن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں جو بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اُبھارتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں کردار کی مضبوطی، انسانی قدریں، معاشرتی مسائل اور بچوں کی دل چسپی کے موضوعات جیسے کہ دوستی، ایمان داری، بہادری اور محبت جیسے موضوعات کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ان کے اسلوب میں مزاح اور سنجیدگی کا حسین امتزاج ہے، جو کہانیوں کو مزید دل کش اور متاثر کن بناتا ہے۔ وہ بچوں کو صرف نصیحتیں نہیں دیتیں، بلکہ اپنی کہانیوں کے ذریعے ایسے سبق آموز پیغامات پیش کرتی ہیں جو بچوں کے دل و دماغ میں رچ بس جاتے ہیں۔

شاہانہ خٹک کی کہانیوں کا یہ مجموعہ "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" ان کی ادبی مہارت اور بچوں کے ادب سے ان کی محبت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

بچوں کے ادب میں اچھی کتابیں پڑھنے سے ان کی زبان و بیان کی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔ شاہانہ خٹک کی کہانیاں سادہ اور آسان زبان میں لکھی گئی ہیں، جو بچوں کی زبان کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ یہ کتاب اپنے بچوں کے لیے خریدیں کیونکہ اس سے بچوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ علم اور تربیت بھی ملتی ہے۔ آج کل کے دور میں، جب بچے زیادہ تر وقت ٹی وی اور موبائل فون پر صرف کرتے ہیں، ایسی کتابیں ان کے لیے ایک بہترین متبادل فراہم کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتی ہیں بلکہ ان میں مثبت سوچ اور اخلاقیات کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

کہانیوں کے ذریعے بچوں میں اعلیٰ کردار کی تعمیر ہوتی ہے، وہ بہتر انسان بننے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

کہانیوں کے کرداروں کی مشکلات سے نمٹنے کے انداز کو دیکھ کر بچے خود بھی مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بنتے ہیں، جس سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کہانیاں بچوں کی سوچ کو وسعت دیتی ہیں اور انہیں نئے تصورات سے روشناس کرواتی ہیں، جو ان کی تعلیمی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔**شاہانہ خٹک کی کہانیاں: ایک تعارفی مضمون**

شاہانہ خٹک پاکستان کی معروف بچوں کی ادیبہ ہیں، جن کا نام بچوں کے ادب کی دنیا میں نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی کہانیاں نہ صرف بچوں کی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں بلکہ ان میں پنہاں اخلاقی اور معاشرتی پیغامات بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شاہانہ خٹک کی تحریریں بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی ہیں، اور ان کی کہانیوں میں سادہ زبان، دلچسپ موضوعات، اور بچوں کی زندگی سے متعلق مسائل کو انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

شاہانہ خٹک کا یہ وصف ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں بچوں کے روزمرہ مسائل، خوابوں، اور خیالات کو بہت ہی مؤثر طریقے سے بیان کرتی ہیں، جس سے بچے نہ صرف اپنی زندگی کی صورتحال کو سمجھتے ہیں بلکہ ان مسائل کا حل بھی پاتے ہیں۔ ان کی کہانیاں کبھی ہنساتی ہیں، کبھی رلاتی ہیں، اور کبھی بچوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

شاہانہ خٹک کا کہانیوں کا مجموعہ "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" بچوں کے ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس کتاب میں کل دس کہانیاں شامل ہیں، جو ہر لحاظ سے منفرد اور دل چسپ ہیں۔ ان کہانیوں میں بچوں کے لیے وہ تمام عناصر موجود ہیں جو ان کی دل چسپی کو بڑھاتے ہیں، جیساکہ مزاح، معصومیت، مہم جوئی، پراسراریت، اور سبق آموز واقعات۔

کتاب میں شامل کہانیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1: ایک تھی رانی ایک تھا راجا
یہ کہانی ایک میاں بیوی کے قصے پر مبنی ہے جس میں رانی اور راجا کے درمیان ہلکی پھلکی نوک جھونک اور محبت کے لمحات کو نہایت دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی بچوں کو خاندان کے رشتوں کی اہمیت سکھاتی ہے۔

2: بدی کی منزل
یہ کہانی جرم و سزا کے موضوع پر لکھی گئی ہے، جہاں بچے بدی کے نتائج اور اس سے بچنے کی ترغیب حاصل کرتے ہیں۔ کہانی کا موضوع بچوں کو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

3: میں بہت پریشان ہوں
یہ کہانی ایک بچی کے گرد گھومتی ہے جو جنگ اور بچوں کی حالت زار کو محسوس کرتی ہے۔ کہانی دنیا کے ظلم و ستم اور بچوں کی مشکلات کو انتہائی حساس انداز میں بیان کرتی ہے۔

4: آخری شکست
کرکٹ کے پس منظر میں لکھی گئی اس کہانی میں ایک بچے کی جدوجہد اور محنت کے بعد کامیابی کی داستان ہے۔ یہ کہانی بچوں کو سکھاتی ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے بعد بھی کامیابی ممکن ہے، بس ہار نہ مانیں۔

5: ڈراؤنا اور ڈراؤنی
یہ ایک پراسرار کہانی ہے جو بچوں کو خوف اور بہادری کے درمیان ایک انوکھا رشتہ سمجھاتی ہے۔ کہانی میں شامل خوف کے پہلو بچوں کو بہادری سیکھنے اور اپنے ڈر پر قابو پانے کا سبق دیتی ہے۔

6: ٹک ٹاک، ٹک ٹاک
یہ کہانی گھڑی کی سوئیوں کی ہے جو ایک دن اپنی ترتیب سے انحراف کرتی ہیں اور کہانی میں مزاح اور حیرانی پیدا کرتی ہیں۔ بچوں کو وقت کی پابندی اور نظم و ضبط سکھانے والی یہ کہانی انتہائی دلچسپ انداز میں پیش کی گئی ہے۔

7: کول کی گلابی جوتیاں
یہ کہانی ایک بچی کی ہے جسے گلابی جوتیوں سے عشق ہوتا ہے۔ کہانی بچپن کی معصومیت اور خوابوں کی اہمیت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔

8: چالاک اجنبی
یہ کہانی ایک چالاک اجنبی کی ہے جو دیہاتیوں کو بے وقوف بنا کر ان کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ کہانی بچوں کو ہوشیار اور ذہین رہنے کا درس دیتی ہے، تاکہ وہ زندگی میں چالاک لوگوں کے فریب سے بچ سکیں۔

9: ناکام جادوگر
ایک جادوگر کی کہانی جو مسلسل ناکام ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کہانی میں مزاح کے ساتھ بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ ناکامی کبھی کبھار زندگی کا حصہ ہوتی ہے اور ہر بار جیتنا ضروری نہیں۔

10: کومل کی پہلی شرارت
یہ کہانی ایک بچی کومل کی ہے جو اپنی پہلی شرارت کرتی ہے۔ کہانی بچوں میں معصومیت، کھیل اور شرارت کے عناصر کو بیان کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو حدود کا شعور بھی سکھاتی ہے۔

کتاب کی قیمت اور اہمیت
۔۔۔۔۔۔۔۔
"شاہانہ خٹک کی کہانیاں" کی قیمت صرف 400 روپے ہے، جو کہ اس معیار کی کتاب کے لحاظ سے انتہائی مناسب ہے۔ والدین کے لیے یہ کتاب ایک خزانہ ہے جو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے، ان کے اخلاق کو سنوارنے اور ان کی شخصیت کو مثبت انداز میں ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ کتاب بچوں کی پسندیدہ بننے کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی اطمینان کا باعث بنے گی، کیونکہ اس میں نہ صرف تفریح ہے بلکہ بچوں کے لیے اہم اخلاقی سبق بھی ہیں۔

یہ کتاب بچوں کے لیے کیوں ضروری ہے؟
یہ کتاب ہر بچے کے اسکول بیگ کا حصہ ہونی چاہیے کیونکہ:
- یہ کہانیاں بچوں کی اخلاقی تربیت میں مدد دیتی ہیں۔
- کہانیوں کا انداز نہایت دلچسپ ہے جو بچوں کو بوریت محسوس نہیں ہونے دیتا۔
- ہر کہانی میں ایک سبق پوشیدہ ہے جو بچوں کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- بچوں کے تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں یہ کہانیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آخر میں، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسی کتابیں فراہم کریں جو ان کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما میں مددگار ثابت ہوں، اور "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" اس سلسلے میں بہترین انتخاب ہے۔
۔
تحریر : ادارہ
۔
آس پبلی کیشن
اردو بازار کراچی ۔۔۔
رابطہ : 03212043587
قیمت 400 روپے ۔ ڈاک خرچ فری ( پاکستان پوسٹ)
۔۔۔۔۔۔
کوریر ( ٹی سی ایس ) سے :
700 روپے ( کیش آن ڈلیوری)

رخسانہ افضل کی شاعری کا پہلا مجموعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "دھیان کے دریچے" اردو ادب میں ایک نہایت اہم اضافہ ہے۔ 2023 میں شائع ہونے و...
02/09/2024

رخسانہ افضل کی شاعری کا پہلا مجموعہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"دھیان کے دریچے" اردو ادب میں ایک نہایت اہم اضافہ ہے۔ 2023 میں شائع ہونے والا یہ مجموعہ نہ صرف اپنے موضوعات کی گہرائی کی بنا پر قابلِ ذکر ہے بلکہ اس کی زبان میں جو لطافت اور شائستگی ہے، وہ بھی اس کو ممتاز بناتی ہے۔

رخسانہ افضل کا تعلق کراچی سے ہے، اور ان کا شعری انداز عصرِ حاضر کی روایتی شاعری سے کچھ مختلف ہے۔ "دھیان کے دریچے" کی نظمیں ایک ایسے فکری سفر کا احاطہ کرتی ہیں جو قاری کو اندرونی اور بیرونی دنیا کے رازوں میں غوطہ زن کرتی ہیں۔ ہر نظم میں ایک فلسفیانہ فکر موجود ہے جو قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

رخسانہ کی شاعری میں محبت، وجود، اور انسانیت جیسے موضوعات پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی نظموں میں جو الفاظ کا انتخاب ہے، وہ ایک منفرد لسانی اور فکری بصیرت کا عکاس ہے۔ ان کے اشعار میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مشرقی ادبی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔

رخسانہ افضل کی نظموں میں ایک خاص قسم کی روحانیت کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ایک طرح کی گہرائی ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں فکر و فلسفہ کی آمیزش اس قدر خوبصورت ہے کہ قاری اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

"دھیان کے دریچے" کی قیمت 600 روپے رکھی گئی ہے، جو کہ ایک مناسب قیمت ہے اس قیمتی ادبی سرمایہ کے لیے۔ یہ مجموعہ فروخت کے لیے دستیاب ہے اور اسے اردو ادب کے شائقین کی خاصی پذیرائی ملی ہے۔

رخسانہ افضل کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنے کلام میں نہ صرف جدید دور کے مسائل کو اجاگر کیا ہے بلکہ روایتی اقدار اور افکار کو بھی بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قاری اپنی ذات کے کئی پہلوؤں کو دیکھ سکتا ہے۔

آخر میں، "دھیان کے دریچے" کو اردو ادب کے نئے افق کا حامل قرار دینا کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ یہ مجموعہ نہ صرف رخسانہ افضل کی تخلیقی صلاحیتوں کا عکاس ہے بلکہ اس میں اردو زبان کی خوبصورتی اور لطافت بھی بھرپور انداز میں جھلکتی ہے۔
۔۔۔۔۔
رابطہ : 03212043587
آپ کی کی کسی بھی قسم کی کتابوں کی اشاعت کے لیے
سب سے معتبر ۔۔۔ سب سے بہترین اشاعتی ادارہ
۔
آس پبلی کیشن ۔ اردو بازار کراچی
فون : 03212043587

چار بہترین شعری مجموعے اور ان کا تعارف ۔۔۔۔۔۔۔دھیان کے دریچے ۔۔۔۔ از رخسانہ افضل ۔۔۔۔۔۔۔رخسانہ افضل کی شاعری کا پہلا مجم...
02/09/2024

چار بہترین شعری مجموعے اور ان کا تعارف
۔۔۔۔۔۔۔
دھیان کے دریچے ۔۔۔۔ از رخسانہ افضل
۔۔۔۔۔۔۔
رخسانہ افضل کی شاعری کا پہلا مجموعہ "دھیان کے دریچے" اردو ادب میں ایک نہایت اہم اضافہ ہے۔ 2023 میں شائع ہونے والا یہ مجموعہ نہ صرف اپنے موضوعات کی گہرائی کی بنا پر قابلِ ذکر ہے بلکہ اس کی زبان میں جو لطافت اور شائستگی ہے، وہ بھی اس کو ممتاز بناتی ہے۔
رخسانہ افضل کا تعلق کراچی سے ہے، اور ان کا شعری انداز عصرِ حاضر کی روایتی شاعری سے کچھ مختلف ہے۔ "دھیان کے دریچے" کی نظمیں ایک ایسے فکری سفر کا احاطہ کرتی ہیں جو قاری کو اندرونی اور بیرونی دنیا کے رازوں میں غوطہ زن کرتی ہیں۔ ہر نظم میں ایک فلسفیانہ فکر موجود ہے جو قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔
رخسانہ کی شاعری میں محبت، وجود، اور انسانیت جیسے موضوعات پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی نظموں میں جو الفاظ کا انتخاب ہے، وہ ایک منفرد لسانی اور فکری بصیرت کا عکاس ہے۔ ان کے اشعار میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مشرقی ادبی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
رخسانہ افضل کی نظموں میں ایک خاص قسم کی روحانیت کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ایک طرح کی گہرائی ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں فکر و فلسفہ کی آمیزش اس قدر خوبصورت ہے کہ قاری اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
"دھیان کے دریچے" کی قیمت 600 روپے رکھی گئی ہے، جو کہ ایک مناسب قیمت ہے اس قیمتی ادبی سرمایہ کے لیے۔ یہ مجموعہ فروخت کے لیے دستیاب ہے اور اسے اردو ادب کے شائقین کی خاصی پذیرائی ملی ہے۔
رخسانہ افضل کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنے کلام میں نہ صرف جدید دور کے مسائل کو اجاگر کیا ہے بلکہ روایتی اقدار اور افکار کو بھی بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قاری اپنی ذات کے کئی پہلوؤں کو دیکھ سکتا ہے۔

آخر میں، "دھیان کے دریچے" کو اردو ادب کے نئے افق کا حامل قرار دینا کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ یہ مجموعہ نہ صرف رخسانہ افضل کی تخلیقی صلاحیتوں کا عکاس ہے بلکہ اس میں اردو زبان کی خوبصورتی اور لطافت بھی بھرپور انداز میں جھلکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
باد صبا ۔۔۔۔۔ از طاہرہ مسعود
۔۔۔۔
طاہرہ مسعود، جو بیرونِ ملک مقیم ہیں، اردو ادب کی ایک منفرد اور معتبر شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ "بادِ صبا" حالیہ عرصے میں شائع ہوا ہے اور یہ مجموعہ اردو ادب کے شائقین میں بہت مقبول ہوا ہے۔ "بادِ صبا" میں شامل غزلیں اور غیر مطبوعہ کلام طاہرہ مسعود کے فکری اور شعری سفر کی ایک عمیق جھلک پیش کرتا ہے۔
"بادِ صبا" میں طاہرہ مسعود کی غزلیں اردو کی روایتی شاعری کی جمالیاتی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک نئی تازگی اور فکر انگیزی سے مزین ہیں۔ ان کے اشعار میں عشق، غم، اور زندگی کی پیچیدگیوں کا بیان اس قدر مؤثر انداز میں کیا گیا ہے کہ قاری ان کی گہرائی میں ڈوب جاتا ہے۔ طاہرہ کے الفاظ میں جو لسانی خوبصورتی اور فکری بلند پروازی ہے، وہ اس بات کی غماز ہے کہ وہ نہایت گہرائی سے کلاسیکی اور جدید شاعری کا مطالعہ کرتی ہیں۔
"بادِ صبا" کی اشاعت 2023 میں ہوئی اور اسے سال کے بہترین شعری مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں شامل غیر مطبوعہ کلام طاہرہ مسعود کی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور عکاس ہے۔ ان کی شاعری میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا خوبصورت استعمال ان کے فن کی اعلیٰ مہارت کا مظہر ہے۔
طاہرہ مسعود کی شاعری میں جو بنیادی عناصر پائے جاتے ہیں، ان میں ایک خاص قسم کی روحانی بصیرت اور وجودی فکر شامل ہیں۔ ان کی غزلیں قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور ان کے اشعار میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا نہایت دل نشین انداز میں بیان ملتا ہے۔ طاہرہ کی شاعری میں مشرقی ثقافت اور روایات کی جھلک نمایاں ہے، جو ان کے اشعار کو ایک منفرد رنگ عطا کرتی ہے۔
"بادِ صبا" کی قیمت 800 روپے مقرر کی گئی ہے، جو اس قیمتی ادبی شاہکار کے لیے نہایت موزوں ہے۔ یہ مجموعہ اب فروخت کے لیے دستیاب ہے اور ادب کے شائقین کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔
آخری بات، طاہرہ مسعود کی شاعری کا مجموعہ "بادِ صبا" اردو ادب میں ایک نئی روح پھونکتا ہے۔ یہ مجموعہ نہ صرف طاہرہ مسعود کے شعری سفر کا اہم سنگ میل ہے بلکہ اس میں اردو زبان کی لطافت، خوبصورتی اور بلاغت بھی بھرپور انداز میں جلوہ گر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
درد کی چھاؤں ۔۔۔۔ از احمد منہاج
۔۔۔۔۔۔
احمد منہاج، جو کراچی کے ممتاز قلم کار اور شاعر ہیں، نے حال ہی میں اپنے پہلے شعری مجموعے "درد کی چھاؤں میں" کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ یہ مجموعہ گزشتہ بائیس برسوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، جس میں شامل نظمیں اردو شاعری کی جدید اور منفرد انداز کی بہترین مثالیں ہیں۔
"درد کی چھاؤں میں" کی نظمیں احمد منہاج کی گہری فکری اور جذباتی تجربات کا آئینہ دار ہیں۔ ان کی شاعری میں جو موضوعات نمایاں ہیں، ان میں درد، تنہائی، عشق، اور انسانی جذبات کی مختلف کیفیات شامل ہیں۔ ان کی نظموں میں جو لسانی چابک دستی اور خیالات کی گہرائی ہے، وہ قاری کو حیرت زدہ کر دیتی ہے۔ احمد منہاج کے اشعار میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا حسن ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
احمد منہاج کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی نظموں میں انسانی زندگی کی پے چیدگیوں کو نہایت سادہ لیکن مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں موجود درد اور کرب کا احساس قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، اور اس کا دل و دماغ ان کی فکر کی گہرائی میں اتر جاتا ہے۔
احمد منہاج نے اپنی شاعری میں مشرقی روایات اور جدید دور کے مسائل کو یکجا کیا ہے، جس سے ان کی شاعری میں ایک نیا رنگ اور تازگی پیدا ہوتی ہے۔
"درد کی چھاؤں میں" کی اشاعت 2023 میں ہوئی اور یہ مجموعہ سال کے بہترین شعری مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی قیمت 700 روپے رکھی گئی ہے، جو کہ اس اعلیٰ ادبی کاوش کے لیے نہایت مناسب ہے۔ یہ مجموعہ اب فروخت کے لیے دستیاب ہے اور اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک نایاب تحفہ ثابت ہو رہا ہے۔
احمد منہاج کی شاعری کا یہ مجموعہ نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ اردو شاعری کے میدان میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔ "درد کی چھاؤں میں" اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جو قاری کو انسانی جذبات اور فکر کے مختلف رنگوں سے روشناس کراتا ہے۔ اس مجموعے کی نظمیں دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ "درد کی چھاؤں میں" احمد منہاج کی فکری گہرائی اور لسانی مہارت کا شاہکار ہے، جو اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک لازوال خزانہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
شیریں سخن ۔۔۔۔ از طاہرہ مسعود
۔۔۔۔۔۔۔
طاہرہ مسعود، اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ، اپنی نادر تخلیقی صلاحیتوں کی بہ دولت آج دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم ہونے کے باوجود، ان کی شاعری میں وطن کی محبت، زبان کا حُسن اور ثقافتی رنگ نمایاں طور پر موجود ہیں۔ ان کا تیسرا شعری مجموعہ شیریں سخن" نہایت موزوں نام کے ساتھ، ان کی فن کارانہ مہارت اور جذباتی نزاکت کا آئینہ دار ہے۔
"شیریں سخن" کی غزلیں، جہاں روایتی عشقیہ مضامین کو اپنی انفرادیت سے نوازتی ہیں، وہیں عصرِ حاضر کے مسائل اور انسانی حیات کی پے چیدگیوں کو بھی انتہائی باریک بینی سے اُجاگر کرتی ہیں۔ طاہرہ مسعود کی شاعری کا خاصہ ان کا فارسی اور عربی زبان کے الفاظ کا خوش اسلوبی سے استعمال ہے، جو ان کے اشعار کو ایک لافانی چاشنی عطا کرتا ہے۔ ان کے کلام میں جہاں محبت کی شیرینی ہے، وہیں درد کی تلخی بھی ایک منفرد انداز میں جلوہ گر ہے۔
"شیریں سخن" کی اہمیت صرف اس کی غزلوں میں ہی نہیں، بلکہ اس میں شامل غیر مطبوعہ کلام میں بھی ہے، جو ان کے شعری سفر کی ابتدا سے لے کر حال تک کے تجربات اور احساسات کو محفوظ کرتا ہے۔ یہ مجموعہ 2023 کے بہترین شعری مجموعوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، جو طاہرہ مسعود کی شعری عظمت کا ثبوت ہے۔
اس کی قیمت 900 روپے ہے، جو اس کی ادبی وقعت اور قیمتی مواد کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے۔ **"شیریں سخن"** ہر اُس قاری کے لیے ایک لازوال خزانہ ہے جو اردو غزل کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کا خواہاں ہو۔ یہ مجموعہ نہ صرف طاہرہ مسعود کی شاعری کا سنگِ میل ہے، بلکہ اردو ادب کی ثروت میں بھی ایک گراں قدر اضافہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ادارہ
آس پبلی کیشن
۔۔۔۔۔۔
رابطہ : 03212043587
۔۔۔۔۔۔
اپنی کتابوں کی ،بہترین اشاعت کے لیے
معتبر ترین ادارہ ۔
آس پبلی کیشن ۔اردو بازار کراچی

"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" ابن آس محمد کے قلم سے  بچوں کے لیے سنسنی خیز اور دلچسپ جاسوسی کہانیاں۔۔۔۔۔ابن آس...
31/08/2024

"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا"
ابن آس محمد کے قلم سے
بچوں کے لیے سنسنی خیز اور دلچسپ جاسوسی کہانیاں
۔۔۔۔۔
ابن آس کے ناول "سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" بچوں اور نوجوانوں کے لیے انتہائی پرلطف اور دل چسپ جاسوسی ناول ہیں، جو تجسس کے تانے بانوں سے بُنے گئے ہیں۔ ان ناول کی کہانیوں میں تین ننھے، مگر ذہین بچے—بنٹی، ڈبو اور شبو—مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جو اپنی بےپناہ عقل و شعور اور دلیری کے ذریعے چھوٹے چھوٹے جرائم کی تحقیقات کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں ان بچوں کے حوصلے اور اجتماعی کوششوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں، جو قارئین کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان میں مسائل کا سامنا کرنے اور انہیں حل کرنے کی قوت پیدا کرتی ہیں۔
۔
"سرمد کا اغوا" کی داستان کا مرکزی نقطہ سرمد کا اغوا ہے، جسے بنٹی، ڈبو اور شبو اپنی ذہانت، اجتماعی بصیرت اور شجاعت کے ذریعے حل کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یہ داستان قاری کو ایک نہ ختم ہونے والے تجسس میں مبتلا کرتی ہے، جہاں بچے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرتے ہوئے مجرموں کے چہرے سے نقاب اُتارتے ہیں۔ سرمد کی اصل حقیقت کہانی کو ایک نیا اور حیرت انگیز موڑ دیتی ہے، جو قاری کو چونکا دیتا ہے۔
ابن آس کا یہ ناول نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ بچوں کی تخلیقی سوچ اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔ کہانی کے پیچیدہ موڑ اور دلچسپ حالات بچوں کے ذہنوں کو مصروف رکھتے ہیں اور انہیں اپنی توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مزید برآں، بنٹی، ڈبو اور شبو جیسے کردار بچوں کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے اور اپنی ذہانت کو بروئے کار لانے کی تحریک دیتے ہیں۔
بچوں کے لیے جاسوسی ناول نہایت ضروری ہیں کیونکہ یہ ان کی تخیل کی پرواز کو بلند کرتے ہیں اور ان میں تفکر اور استدلال کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ ایسی کہانیاں بچوں کی ذہنی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ یہ کہانیاں انہیں منطقی استدلال، تجسس کے تسلسل اور مسائل کے حل کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ناول بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرتے ہیں اور ان کے تجسس کو زندہ رکھتے ہیں، جو کہ ان کی علمی اور اخلاقی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
۔
"کاوش صدیقی کا اغوا"
ابن آس کا ایک اور شاہکار، "کاوش صدیقی کا اغوا"، بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک پُراثر جاسوسی کہانی ہے جو قاری کو ابتدا سے لے کر انتہا تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ اس کہانی میں تین ننھے جاسوس۔۔۔ بنٹی، ڈبو، اور شبو—کی جرات مندی اور ذہانت کو مرکزیت دی گئی ہے، جو ایک مشہور ادیب کاوش صدیقی کے اغوا کے پیچیدہ معمہ کو حل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔
"کاوش صدیقی کا اغوا" کی کہانی میں اس معروف شخصیت کے اچانک غائب ہونے کی وجوہات کا پتہ لگانا ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ بنٹی، ڈبو، اور شبو نے پہلے بھی کئی چھوٹے جرائم کو حل کیا ہوتا ہے، لیکن اس بار انہیں ایک بڑے اور سنجیدہ معاملے کا سامنا ہے۔ ان بچوں کی کاوش کہ وہ اغوا کے معمہ کو حل کریں اور کاوش صدیقی کو بچا سکیں، کہانی کو نہایت سنسنی خیز اور دلچسپ بنا دیتی ہے۔
"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" جیسے جاسوسی ناول بچوں کے لیے نہایت مفید ہیں، کیونکہ یہ انہیں تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں بچوں کو نہ صرف مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں سکھاتی ہیں بلکہ انہیں انصاف کے لیے کھڑا ہونے اور صحیح و غلط کی تمیز کرنے کی اہمیت بھی سکھاتی ہیں۔
ابن آس کے یہ ناول ہر اس بچے کے لیے پڑھنے کے لائق ہیں جو تجسس، سنسنی، اور عقل و دانش سے بھرپور کہانیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں ان کی ذہنی نشوونما اور علمی ترقی میں بے حد معاون ثابت ہوں گی۔
تحریر: ادارہ
آس پبلی کیشن ۔۔اردو بازار ۔کراچی ۔
رابطہ کے لئے واٹس ایپ کریں:
0316 2608616
03212043587
Kitab Ghar Online

فنا فی العشق ۔۔۔۔۔۔۔سونیا لطیف کا منفرد اور انوکھا ناول۔۔۔۔۔۔۔ناول "فنا فی العشق" از سونیا لطیف ایک ایسے جذبے کا آئینہ د...
27/08/2024

فنا فی العشق
۔۔۔۔۔۔۔
سونیا لطیف کا منفرد اور انوکھا ناول
۔۔۔۔۔۔۔
ناول "فنا فی العشق" از سونیا لطیف ایک ایسے جذبے کا آئینہ دار ہے ،جو عشق حقیقی کی بلندیوں کو چھوتامحسوس ہوتا ہے۔ یہ ناول اپنی نوعیت میں ایک منفرد تخلیق ہے، جو بین المذاھب محبت کی داستان کو بڑے ہی خوب صورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ ناول کی کہانی ایک کرسچن ہیرو اور ایک مسلم لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جن کا عشق مشکلات اور تضادات کا شکار ہوتا ہے، مگر اپنی روحانی اور جذباتی شدت سے پڑھنے والوں کو جکڑ لیتا ہے ۔کو مسحور کر دیتا ہے۔
سونیا لطیف نے مختصر عرصے میں اپنے منفرد اسلوب اور دلکش کہانیوں کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ وہ پہلے سوشل میڈیا پہ لکھتی تھیں ، یہ ان کا وہ ناول ہے جو ہزاروں لوگوں نے پڑھا اور پسندیدگی کی سند سے نوازا ۔ان کی تحریروں میں معاشرتی حقائق کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات کی گہرائی اور شدت کو بڑے فن کارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سونیا لطیف کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ پےچیدہ موضوعات کو نہایت سادہ اور موثر انداز میں پیش کرنے کا ہنر رکھتی ہیں۔ ان کے ناولوں میں عموماً رومانویت، محبت، اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے، جس سے وہ قارئین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔
جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ "فنا فی العشق" ناول ایک بین المذاھب محبت کی کہانی ہے، جس میں دو مختلف مذاھب کے پیروکاروں کے درمیان جنم لینے والی محبت اور اس کی مشکلات کو نہایت گہرائی سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کہانی جہاں محبت کے جذبات کو اعلیٰ مقام دیتی ہے، وہیں اس میں عشق حقیقی کا تصور بھی نمایاں ہے۔ ٹوئسٹ اور ٹرن ایسے ہیں کہ پڑھنے والا سوچتا رہ جائے کہ اب کیا ہونے والا ہے ۔
ناول کا پلاٹ پیچیدہ مگر دل چسپ ہے، جو قاری کو آغاز سے اختتام تک باندھے رکھتا ہے۔ سونیا لطیف نے نہایت مہارت سے کہانی کے کرداروں کی نفسیاتی کشمکش، مذہبی تضاد ، مسائل ، اور عشق کی روحانی جہتوں کو پیش کیا ہے۔
ناول کا سب سے منفرد پہلو بین المذاھب محبت کا موضوع ہے، جو نہ صرف اردو ادب میں کم پڑھنے کو ملتا ہے بلکہ اس کو پیش کرنے کا انداز بھی نادر ہے۔ سونیا لطیف نے مذہبی اختلافات اور ان کے اثرات کو بڑی حقیقت پسندی کے ساتھ بیان کیا ہے۔
ناول میں عشق حقیقی کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ یہ کرداروں کی روحانیت اور ان کے اندرونی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ سونیا لطیف نے عشق کے اس پہلو کو بیان کرنے کے لئے جو زبان استعمال کی ہے، وہ نہایت ہی خوبصورت اور دلکش ہے۔
سونیا لطیف کے کردار جان دار اور حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے مرکزی کرداروں کے ساتھ ساتھ ضمنی کرداروں کو بھی بڑی محنت اور محبت سے تراشا ہے، جس سے کہانی کی گہرائی اور تاثیر بڑھ جاتی ہے۔
سونیا لطیف کی یہ تخلیق اس بات کی غماز ہے کہ وہ ایک بے مثل کہانی کار ہیں۔ ان کا ناول "فنا فی العشق" نہ صرف ادب کے دلدادہ افراد کے لیے بلکہ عام قارئین کے لئے بھی ایک لازوال تحفہ ہے۔ اس ناول کی مقبولیت اس بات کی دلیل ہے کہ سونیا لطیف کے اس ناول نے رومانوی ادب میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ ان کی تحریریں قارئین کو نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کے اہم سبق بھی دیتی ہیں۔
"فنا فی العشق" ایک ایسا ناول ہے جو اپنی کہانی، پلاٹ، اور کرداروں کے اعتبار سے اردو کے رومانوی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ سونیا لطیف نے اس ناول کے ذریعے نہ صرف محبت اور عشق کے پےچیدہ جذبات کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے بلکہ بین المذاھب محبت کے حساس موضوع کو بھی کام یابی سے پیش کیا ہے۔ یہ ناول بلاشبہ سونیا لطیف کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، اور اردو رومانوی ادب کے قارئین کے لئے ایک بیش بہا سرمایہ ہے۔
سونیا لطیف کے ناول "فنا فی العشق" کی یک خاص بات یہ بھہ ہے کہ یہ ناول محبت کی عظیم طاقت اور اس کی تباہ کن اثرات کو بڑی گہرائی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس ناول میں محبت کا تصور محض ایک رومانوی جذبے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ عشق حقیقی کے ذریعے انسان کی روحانی ترقی اور ذات کی تکمیل کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ ناول کی کہانی مذہب اور ثقافت کے درمیان موجود فرقوں کے باوجود محبت کی وحدت پر زور دیتی ہے، اور یہ دکھاتی ہے کہ حقیقی عشق کسی بھی رکاوٹ کو پار کر سکتا ہے۔
بین المذاھب محبت کا موضوع ہمیشہ سے عالمی ادب میں ایک اہم مقام کا حامل رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی بین الاقوامی ناولز اور کہانیاں موجود ہیں جو سونیا لطیف کے "فنا فی العشق" سے موضوعی اور اسلوبیاتی مماثلت رکھتے ہیں۔
"دی انگلش پیشنٹ"( از مائیکل اونڈاچی)
یہ ناول دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک زخمی انگریز سپاہی اور اس کی نرس کے درمیان محبت کی کہانی بیان کرتا ہے، جہاں مذہب اور ثقافت کے اختلافات بھی موجود ہیں۔ ناول میں جنگ کی ہولناکیوں کے پس منظر میں محبت کے پے چیدہ اور دل دوز جذبات کو بیان کیا گیا ہے۔
"اے تھاؤزنڈ سپلنڈڈ سنز" (از خالد حسینی)
یہ ناول افغانستان کے پس منظر میں دو خواتین کے درمیان محبت اور دوستی کی کہانی ہے، جن کی زندگیوں میں مذہب اور ثقافت کا فرق اہم کردار ادا کرتاہے۔ سونیا لطیف کے ناول کی طرح، یہ ناول بھی محبت کی قوت اور اس کے نتائج کو بڑی گہرائی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
"دی گارڈن آف لاز" (از امیتاوا گھوش)
یہ ناول بھارت میں 18ویں صدی کے دوران ایک مسلمان عورت اور ایک انگریز آدمی کے درمیان محبت کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس ناول میں بھی بین المذاھب محبت اور اس کی مشکلات کو دکھایا گیا ہے۔.
سونیا لطیف کے "فنا فی العشق" اور بین الاقوامی ادب میں مذکورہ ناولوں کے درمیان کئی موضوعاتی اور فنی مماثلتیں ہیں۔ جہاں مائیکل اونڈاچی اور خالد حسینی کے ناولز میں محبت اور جنگ، یا محبت اور ثقافتی فرق کو بیان کیا گیا ہے، وہیں سونیا لطیف نے اپنے ناول میں مذہبی تفاوت اور روحانی عشق کو مرکزی حیثیت دی ہے۔
سونیا لطیف کے ناول کی ایک اور خصوصیت اس کی زبان کی خوب صورتی اور بیان کی سادگی ہے، جو اسے بین الاقوامی ادب کے نمایاں نمونوں کے برابر کھڑا کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی کہانی کو نہایت ہی سادہ مگر پُرتاثیر انداز میں بیان کیا ہے۔

"فنا فی العشق" اپنی نوعیت کا ایک منفرد ناول ہے جو بین الاقوامی ادب کے مقابلے میں بھی ایک مضبوط اور مؤثر تخلیق قرار دیا جا سکتا ہے۔ سونیا لطیف نے جس طرح بین المذاھب محبت کے موضوع کو پیش کیا ہے، وہ نہ صرف اردو ادب کے لئے ایک بیش بہا اضافہ ہے بلکہ اس موضوع کو عالمی سطح پر مزید آگے بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
فنا فی العشق" بلاشبہ سونیا لطیف کے تخلیقی سفر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے، جو نہ صرف اردو ادب کے دائرے میں بلکہ عالمی ادب کے مقابلے میں بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس ناول کی اہمیت اس کے موضوع، پلاٹ اور کرداروں کی گہرائی میں مضمر ہے، اور سونیا لطیف نے اپنے منفرد انداز میں اسے ایک لازوال تخلیق میں ڈھالا ہے۔ ان کا یہ ناول نہ صرف اردو قارئین بلکہ بین الاقوامی ادب کے دل دادہ افراد کے لئے بھی ایک اہم اور دل چسپ مطالعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔
تبصرہ : ادارہ
آس پبلی کیشن ۔اخبار مارکیٹ ۔اردو بازار کراچی
۔۔۔۔۔۔۔
ناول کی قیمت : 900 روپے ۔( ڈاک خرچ فری )
۔۔۔۔
گھر بیٹھے منگوانے کے لیے :
واٹس ایپ کیجیے ۔
۔03212043587 ( جیز کیش اکاؤنٹ)
۔03162608616 ( واٹس ایپ )
۔۔۔۔۔

Address

کتاب گھر آن لائن، اردوبازارکراچی
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kitab Ghar Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kitab Ghar Online:

Share

Category