Bahawalnagar Market

Bahawalnagar Market Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bahawalnagar Market, Shopping & retail, Bahawalnagar.

29/03/2026

غربت کی 15 حیران کرنے والی وجوہات۔

ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔

۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔

۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔

۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔

۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔

۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔

۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔

۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔

۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔

۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

۱۰۔ ادھار پر عیاشی
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔

۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all)
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تربیت بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل اور تربیت کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔

۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔

۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔

۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔

اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔

13/03/2022

اسلام علیکم
جب سے یہ پیج بنایا ہے زہادہ تر لوگ ایک ہی سوال کرتے ہیں تھوڑے سے پیسے ہیں کیا کام کیا جائے۔
میں ان سب کو ایک ہی مشورہ دینا چاہتا ہوں۔
کچھ چیزوں کو مدنظر رکھیں۔
1. آپ کس ایریا سے تعلق رکھتے ہیں۔
2. آپ کے پاس کس چیز کا تجربہ یا نالج ہے۔
3. آپ کا دوست اور کوئی تجربہ کار فیملی ممبر آپ کو کام کا اچھا مشورہ دینے والے ہیں۔
4. آپ کے اردگرد کیا کام جو اچھے چل رہے ہیں۔
5. جو اچھے کام چلتے ہیں ان کے قریب ایسا کام کریں جو کے اس کے لیے بھی معاون ثابت ہوتا ہو۔
6. کبھی اپنی جمع پونجی کسی نا تجربہ کار کو دیں۔
7. جس کے مشورے سے آپ کام شروع کر رہے ہیں وہ کتنا کامیاب ہے۔
جتنا کم سرمایا ہے ا تنا ہی چھوٹا کام کا آغاز کریں۔
کام کرنے سے پہلے چھے سے دس ماہ وہ کام کسی کے پاس کریں تو اچھا سٹارٹ آپ کو ملیے گا۔
جو بھی کام کا آغاز کرنا ہے ہے اسے فری کریں زیادہ مشوروں میں ٹائم مت ضایع کریں۔
اللہ پاک آپ کو کامیاب کرے کرے اور اپنی فیملی کا وسیلہ آمین

دوستو ۔۔ گرمیوں کی آمد آمد ہے کیوں نہ آج اپ سے  کون آئس کریم کا اوریجنل فارمولا شیئر کر دیا جاۓ  ویسا تو بہت سی تراکیب  ...
08/03/2021

دوستو ۔۔ گرمیوں کی آمد آمد ہے کیوں نہ آج اپ سے کون آئس کریم کا اوریجنل فارمولا شیئر کر دیا جاۓ ویسا تو بہت سی تراکیب آزمائی جاتی ہیں لیکن جو قابل عمل ہے وہ نہایت سادہ آسان اور کارآمد ہے لیکن افسوس کی بات ہے کوئی کسی کو بتاتا نہیں ۔۔
آپ کے پاس بھی کون آئسکریم بنانے کی کوئی کاروباری ریسپی ہے تو پوسٹ پر تشریف لائیں ۔۔

آؤ جی ۔۔ موسٹ ویلکم ۔۔
کون آئس کریم بنانے کا آسان طریقہ سیکھ لیتے ہیں
ٹوٹل انویسٹمنٹ نیو مشین ۔۔ 150000 روپے
بچت ۔۔تمام اخراجات رینٹ بجلی منہا کر کے ون تھرڈ
۔۔

۔۔ بنیادی اجزاء
1- چینی تین کلو گرام ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 300 روپے
2- خشک دودھ کریمی ½ کلو ۔۔۔315 روپے
3۔ خشک دودھ ہاف کریم ½ کلو ۔۔190 روپے
3- سی ایم سی پاؤڈر 2 چمچ ...600 روپے کلو ہے
4۔ ذائقہ ۔صرف ½ چمچ۔100ml کی بوتل 200 روپے
آپ کوئی بھی فروٹ ذائقہ استعمال کر سکتے ہیں
5۔ عام سادہ پانی ۔۔ 7 کلو گرام ۔۔
لہذا ہماری گیارہ کلو وزنی آئسکریم بالٹی
800 روپے میں تیار ہوگئی ہے ۔۔

نوٹ ۔۔
خشک دودھ کریمی ۔۔ 630 روپے فی کلو ۔۔
خشک دودھ ہاف کریم 380 روپے فی کلو ۔۔

چینی ۔۔
یو ٹیلٹی اسٹور ۔۔ 65 روپے
لوکل مارکیٹ ۔۔۔۔۔ 100 روپے فی کلو ملتی ہے ۔۔

اجزائے ترکیبی
درج بالا اشیاء کو بالٹی میں ڈال کر خوب مکس کرکے ایک کلو پانی میں اچھی طرح حل کریں پھر چھ کلو پانی ڈال دیں بس اتنی سی بات ہے جس کے بعد آپ اس بالٹی کو مشین کے ٹپ میں ڈال کر مشین آن کردیں کچھ دیر بعد آپ سیل شروع کرسکتے ہیں۔۔

مشین سے تین قسم کی کون بھری جاتی ہیں ۔۔
¹۔۔سپر کون ۔۔جو کہ 300 کون کاپیکٹ300کا ملتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فروخت فی قلفی 10 روپے

²۔۔ کارنیٹو کون۔۔ 250 کون کا ڈبہ 600 کا خرید ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فروخت فی قلفی 20 روپے

³۔۔ کپ ۔۔ 100 روپے سینکڑہ ۔۔ فروخت 10 روپے
⁴۔ کپ ۔۔۔ 320 روپے سینکڑہ ۔۔ فروخت 30 روپے

روزانہ آمدن فی بالٹی 1800 روپے بنتی ہے ۔۔

پوسٹ سے متعلقہ آپکا کوئی سوال ہو تو حاضر ہوں
بہرحال
کیا ہی بات ہے کہ ایک شاپ میں چار کارنر چل رھے ہوں ۔۔ مثال کے طور پر ۔۔
∆کون آئیس کریم ۔۔ مشین چل رہی ہو ۔۔
∆ جوس سینٹر ۔۔ ۔۔ آل ٹائپ جوسز
∆ چاٹ مرکز ۔۔ چنا چاٹ فروٹ چاٹ
∆ کولڈ ڈرنکس ۔۔ ڈیپ فریزر میں بوتلیں
بندہ محنتی ہو تو یہ سب کام ایک ہی کر سکتا ہے
ورنہ چار بندے کھپ سکتے ہیں ۔۔

فایدہ ۔۔ چار روزگار ۔۔ رینٹ میں بچت ۔۔
کھانا پینا ایک ۔۔ نوکر کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
اب ایک اور گنجایش نکال کر چاۓ سٹال بھی لگا لیں کیوں کہ پاکستان زیر تعمیر ہے ۔۔

یار جب چند دوست اکٹھے بیٹھتے ہو تو فضول خوش گپیوں کے بجاۓ کچھ کاروباری گپ لگا لیا کریں کہ ہمارے علاقہ میں کیا ڈیمانڈ ہے یہاں کیا نیا چل سکتا ہے آو سوچتے ہیں ۔۔ کوئی مشکل نہیں ۔۔
کیونکہ پاکستان زیر تعمیر ہے ۔۔ رب راکھا ۔۔

اور ہاں ۔۔
اگر اپ گاؤں میں رہتے ہیں تو بھی بزنس کیجیے

کریانہ اسٹور ۔۔ سبزی فروٹ ۔۔ سامان مہیا کریں ۔۔

لوگوں سے بل اکٹھے کر کے شہر جمع کرا دیں یا
اپنے موبائل میں ایزی پیسہ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں ۔۔

گاؤں سے دودھ گھی مکھن لوہا سونا چاندی وغیرہ اکٹھا کریں اور شہر لا کر بیچ دیں ۔۔ مثال دی ہے ۔۔

رکشہ سروس ۔۔ چینگچی ۔۔ بایکیا ۔۔

بس مقصد یہ ہے کہ تبدیلی سرکار عروج پر ہے
فالتو وقت برباد کرنے کے بجاۓ ہنر سکھئیے ۔۔
موقع محل کے مطابق ضرور کچھ کیجیے ۔۔
اپکے ارد گرد بہت سے آئیڈیاز بکھر ے ہوئے ہیں ۔۔

اللّه پاک اپکا حامی و ناصر ہو ۔۔ تمت بلخیر ۔۔

فقط والسلام
آپ کا خیر اندیش
ملک محمد اصغر سیفی

پوسٹ کو لایک ضرور کر دیا کریں
شاید کسی ضرورتمند کے کام آ جاۓ ۔۔

. جنید جمشید نے بتایا کہ جب میں نے مفتی تقی عثمانی صاحب سے کاروبار کے بارے میں مشورہ کیا تو انہوں نے چند نصیحتیں کیں جن ...
06/11/2020

. جنید جمشید نے بتایا کہ جب میں نے مفتی تقی عثمانی صاحب سے کاروبار کے بارے میں مشورہ کیا تو انہوں نے چند نصیحتیں کیں جن میں سے دو میں عوام کے فائدے کیلیے یہاں لکھ رہا ہوں. اگر ان نصیحتوں پر عمل کر لیا جائے تو کاروبار میں برکت پڑےگی اور نقصان سے محفوظ رہے گا.
ایک یہ کہ جو بھی کاروباری معاملات ہوتے ہیں ان کو ایمانداری سے لکھ لیا کرو.
دوسرا یہ کہ اپنے کاروبار میں یہ نیت کر لو کہ میرے اس کاروبار سے دوسرے لوگوں کو فائدہ بھی فائدہ پہنچے. عوام کے فائدے کیلئے اگر سوچیں گے تو کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی کی راہ پر چلے گا.

کچھ نصیحتیں میں بھی اپنی طرف سے شامل کرنا چاہوں گا. وہ یہ کہ
اپنے منافے کی رقم سے 1٪ یا 2٪ یا 5٪ جتنا ہو سکے نیت
کرلیں کہ صدقہ کریں. یاد رکھیں صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے.

اور اپنی عادت بنا لیں کہ چاہے کچھ ہو جائے جھوٹ بول کر کوئی لین دین نہیں کرنا. جب آپ جھوٹ بولتے ہیں تو نظر آتا ہے زیادہ منافع ہوا لیکن اس میں برکت نہیں رہتی. پھر یہی پیسہ کسی بیماری وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے. سچ بول کر شائد منافع کم لگے لیکن حقیقت میں اس میں برکت ہوتی ہے اور اللہ نقصان اور بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے.

تیسرا یہ کہ جو بھی آپ مال بیچیں اس کی خامی بتا کر بیچیں. خامی چھپا کر مال تو شاید بک جائے لیکن منافع میں برکت نہیں رہتی اور جب خریدار کو اس مال کی خامی پتا چلے گی تو اس کے دل سے آہ نکلے گی تو آپ کے کاروبار کیلئے بری خبر ہے. اللہ مظلوم کی دعا رد نہیں کرتا ظالم کے خلاف جب تک کہ وہ خود ظالم نہ ہو.

چوتھی بات یہ ہے کہ کاروبار کی وجہ سے نماز قضا نہ ہونے پائے. قرآن میں ایسے تاجروں کیلئے برے انعام کی خوشخبری دی گئی ہے جن کو ان کی تجارت اللہ کے ذکر سے نہیں روکتی.

جزاک اللہ آپ نے وقت دیا اور اس مضمون کو پڑھا اب افادہ عام کیلئے دوسروں کے ساتھ شئر کریں.

سائیکل معاشیات کی دشمن 🤗🤗  ایک ملٹی نیشنل بینک کےCEO  نے معاشی ماہرین کو سوچ میں ڈال دیا جب اس نے کہا کہ: سائیکل چلانے و...
07/09/2020

سائیکل معاشیات کی دشمن 🤗🤗

ایک ملٹی نیشنل بینک کےCEO نے معاشی ماہرین کو سوچ میں ڈال دیا جب اس نے کہا کہ: سائیکل چلانے والا ملکی معیشت کیلئے تباہی ہے - اس لئے کہ
وہ کار نہیں خریدتا اور کار کا قرض بھی نہیں لیتا - کار انشورنس نہیں خریدتا - ایندھن بھی نہیں خریدتا - اپنی گاڑی سروسنگ اور مرمت کے لئے نہیں بھیجتا - ادا شدہ پارکنگ کا استعمال بھی نہیں کرتا ۔سائیکل چلانے کی وجہ سے صحت مند رہتا ہے موٹا نہیں ہوتا . - !!
مضبوط معیشت کے لئے صحت مند افراد کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ وہ دوائیں نہیں خریدتے ۔ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتے ۔ ملک کے جی ڈی پی میں کچھ شامل نہیں کرتے۔ اس کے برعکس ہر نیا Fastfood آؤٹ لیٹ اپنے ملازمین کے علاوہ کم از کم 30 مزید نوکریاں پیدا کرتا ہے۔ 10 امراض قلب کے ماہر، 10 دندان ساز، اور 10 کینسر سپیشلسٹ.
سمجھداری سے انتخاب کریں: معیشت کے لئے کون بہتر ہےایک سائیکل سوار یا Fastfood outlet۔۔۔

نوٹ:- پیدل چلنے والے معیشت کےلئے اور بھی خطرناک ھیں۔ وہ ایک سائیکل بھی نہیں خریدتے ہیں۔
لیکن سائیکل چلانا آپ کی صحت کیلئے بہترین ہے

اگر آپ کی والدہ، ہمشیرہ ،  زوجہ یا گلی محلے کی خاتون سموسے بنانا جانتی ہیں تو وہ دن میں ۲۰۰ سموسے بنا کر ہاف کک کردیں آپ...
15/02/2020

اگر آپ کی والدہ، ہمشیرہ ، زوجہ یا گلی محلے کی خاتون سموسے بنانا جانتی ہیں تو وہ دن میں ۲۰۰ سموسے بنا کر ہاف کک کردیں
آپ شام اور ویک اینڈ پر صرف ایک کڑاہی اور چٹنی کا برتن رکھ کر سموسے تل کر املی یا آلو بخارے کی چٹنی کے ساتھ اخبار کی ردی کے بنے لفافے میں ڈال کر اور چٹنی پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر دیتے جائیں اور چند گھنٹوں میں 2000
روپے بنا کر مہنگائ کی” پین کی سری “گنگناتے رات کو گھر لوٹ آئیں

01/02/2020
بندے جب خدا بنیں گے تو...آسٹریلوی حکومت نے حال ہی میں ہزاروں جنگلی اونٹوں اورگھوڑوں کو ماردینے کا حکم نامہ جاری کیا تھا ...
20/01/2020

بندے جب خدا بنیں گے تو...
آسٹریلوی حکومت نے حال ہی میں ہزاروں جنگلی اونٹوں اورگھوڑوں کو ماردینے کا حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے مطابق ان کو آسمان سے ہیلی کاپٹرز سے گولیاں برسا کر ماردیا جانا ہے۔ حکومت کے خیال میں ان اونٹوں اور گھوڑوں کے پانی پینے سے انسانوں کے لیےپانی کے ذخائر کوخطرہ تھا۔ شنید ہے کہ
اب تک ہیلیکوپٹرز کے ذریعے نشانے باندھ کرہزاروں بے زبانوں پر آسمان سے موت برسائی گئی ہے۔
المیہ دیکھیے کہ جو پانی اونٹوں سے بچایا جانا تھا اس سے کہیں بڑھ کر آگ بجھانے پر لگ گیا۔
ساتھ ہی آدھی بلین جنگلی حیات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ کئی اقسام کے چرند پرند کیڑے مکوڑے سانپ مویشی اور درندے مارے گئے۔
قیمتی انسانی جانیں الگ تلف ہوئیں۔ کئی گھر جل گئے۔ ملک کی فضا دھوئیں سے کثیف ہو گئی۔ سیٹلائیٹ کی تصویر کے مطابق پورا ملک ایک جلتے کوئلے کا منظر پیش کر رہا ہے۔اس کے ساتھ اخبارات اور دیگر میڈیا نے "جیتی جاگتی دوزخ" کا عنوان لگایاہے۔ فضائیں اتنی کثیف ہوگئی ہیں کہ جانداروں کے لیے سانس لینا مشکل ہو گیا۔۔ محکمہ ء جنگلات تباہ ہو گیا اور لکڑی حاصل کر نے کا ذرائع نیست ونابود ہوگئے
پورے ملک کاموسمی توازن بگڑ گیاہے۔
سنا ہے کہ اس سے قبل چین میں بھی اسی قسم کا مکافاتِ عمل ہوا تھا۔جب وہاں کے فرمانروا نے خدا بنتے ہوئے چڑیوں کی موت کا پروانہ جاری کردیا تھا کہ یہ ہمارے کھیتوں سے اجناس چن کر کھاجاتی ہیں جس سے ہماری عوام کی حق تلفی ہوتی ہے۔
پورے ملک میں اس معصوم جانور کو چن چن کر مارا گیا۔
اس سال فصلوں کو ایسا کیڑا لگا کہ ملک میں بدترین قحط پڑ گیا۔
پھر معلوم ہواکہ وہ چڑیاں جن کو بےدردی سے ماردیا گیا تھا اصل میں قدرت کی طرف سے ایک عطیہ تھیں۔ کیونکہ وہ کھیتوں سے وہ کیڑے بھی کھا جاتی تھیں جو فصلوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔
تو رازق خدا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی ہر مخلوق کا رزق میں حصہ رکھا ہے۔ کسی کومحروم کرو گے تو نہ صرف خود محروم ہو جاو گے بلکہ مجرم بھی ٹھہرو گے
اسی طرح کا ایک اور واقعہ ضمنا لکھتا چلوں کہ ایک بادشاہ نے معاشی اصلاحات کے لیے اپنے محل کے ملازم کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس رات اس نے خواب میں دیکھا کہ اس کے محل کے باہر بیل گاڑیاں کھڑی ہیں اور کچھ لوگ اجناس کی بوریاں اور دوسرا سامان ، کہیں لے جانے کے لیے ان پر لاد رہے ہیں۔
بادشاہ نے پوچھا کہ تم کون ہو اور یہ سامان کہاں لے جارہے ہو؟
انہوں نے بتایا کہ ہمیں خدا نے بھیجا ہے کہ جن لوگوں کو آپ نکال رہے ہیں ان کا رزق وہاں پہنچا دیں جہاں وہ جائیں گے۔
اس پر بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔
تب اس نے ملازموں کو نکالنے کا ارادہ بدل دیا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ رازق خدا ہے۔

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کا واقعہ بھی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ان کی قوم نے بھی اونٹنی کو یہ کہہ کر قتل کردیا تھا کہ یہ ان کا سارا پانی پی جاتی ہے پھر کیا ہوا؟ وہ پوری قوم ﷲ کے عذاب سے ہلاک ہو گئی تھی

بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ جس نے پیدا کیا وہ ہی ان کی خوراک کا ذمہ دار ہے, یہ سب بکواس ہے کہ یہ جانور سارا پانی پی جاتے ہیں, اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو ان کے لیئے پانی اور خوراک کا بھی بندوبست فرمایا ہے لیکن یہ خبیث انسان ان معصوموں کے حصے کا پانی خود استعمال کرتے ہیں اور بے تحاشا ضائع کرتے ہیں, بے چارے جانور تو صرف پانی پیتے ہیں , یہ ظلم ہے اور اس عمل کی حمایت کرنے والے ظالم ترین ہیں کیونکہ ایسا کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے نظام کو چیلنج کر رہے ہیں .

*ٹڈی دل ( locust) سے متعلق چند اہم معلومات.* تحقیق و تحریر*حامد ابراھیم آزاد*( Insect Entomologist)ایگریکلچر آفیسر پنجگو...
20/01/2020

*ٹڈی دل ( locust) سے متعلق چند اہم معلومات.*

تحقیق و تحریر
*حامد ابراھیم آزاد*( Insect Entomologist)
ایگریکلچر آفیسر پنجگور بلوچستان.

Technical name.
_Schistocerca gregaria_

ٹڈی دل اس وقت پاکستان میں براستہ بلوچستان داخل ہو چکا ہے اور اور اپنی تباہی کی کارستانیاں پیچھے چھوڑتا جارہا ہے۔ اس وقت پورے مکران ڈیوژن سمیت خاران،خضدار اور لسبیلہ میں اس کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں 2019 میں مغربی ہوائیں معمول سے زیادہ چلیں جس کی وجہ سے بارشیں بھی زیادہ ہوئیں اور پاکستان کے جنوب مغرب میں موجود ایران و سعودی عرب و دیگر خلیجی ریاستوں میں پہلے سے موجود ٹڈی دل کو پاکستان آنے کا موقع ملا۔

2003 سے 2005 کے درمیان افریقہ میں ٹڈی دل نے تباہی مچائی اور 100 فیصد فصلوں کو تباہ کر دیا، بلآخر انتہائی سخت سردی اور خشک موسم میں 13 ملین ہیکٹرز پر زمینی اور فضائی کیمیکل اسپرے کرکے اس کو ختم کیا گیا جس پر تقریباً 500 ملین ڈالر خرچہ آیا۔
ٹڈیوں کا جھنڈ جتنا بڑا ہوگا اسے کنٹرول کرنا اتناہی مشکل ہوگا، یہ بہت ہی ضروری ہے کہ ایک ہی وقت میں مکمل جھنڈ کو اسپرے کر کے ختم کیا جائے بصورت دیگر یہ ختم نہیں ہوگا۔

*ٹڈی دل ہے کیا؟*
ٹڈیاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں بعض بڑی ہوتی ہیں اور بعض چھوٹی اور بعض سرخ رنگ کی ہوتی ہیں اور بعض زرد رنگ کی اور جبکہ بعض سفید رنگ کی بھی ہوتی ہیں، ٹڈی کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں دو سینے میں دو بیچ میں اور دو آخر میں۔

ٹڈی دل ایک ہجرت کرنے والا کیڑا ہے جس کے پوری دنیا میں 20 اسپیشیز پائے جاتے ہیں۔

صرف 3 عدد ٹڈی دل مل کر چند ہفتوں میں لاکھوں کا جھنڈ بنا سکتے ہیں۔

اس جانور کے انڈے دینے کا طریقہ عجیب ہوتا ہے جب انڈے دینے کا ارادہ کرتی ہے تو ایسی سخت اور بنجر زمین کا انتخاب کر تی ہے, پھر اس زمین پر دم سے اپنے انڈے کے بقدر 4 انچ تک گہرا سوراخ کرتی ہے جس میں وہ انڈا دیتی ہے نیز وہیں رکھے رکھے زمین کی گرمی سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے .

اس کے لائف سائیکل کو incomplete metamorphosis کہتے ہیں جس میں Egg, nymph ,adult اسٹیجیز شامل ہیں۔

ایک بالغ ٹڈی 8 سے 10 ہفتے تک ژندہ رہ سکتا ہے۔

2 ہفتوں کے اندر ہی انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔

ہر مادہ ٹڈی 5 سے 7 دن کے وقفے سے 1 سے 5 پوڈز دے سکتی ہے ،ہر پوڈ میں 30 سے 50 تک انڈے ہوتے ہیں،

ٹڈی کے 5 moulting stages ہوتے ہیں۔

پانچویں اسٹیج کو fledging کہتے ہیں.

Fledging
کے بعد بھی ٹڈی اڑ نہیں سکتی اس دوران وہ مزید 2 ہفتوں تک خوب کھاتی ہے اور اپنے جسم کو مضبوط کرتی ہے اسی دوران اس کے پر نکلتے ہیں اور وہ sexually mature ہو جاتی ہے۔

اگر موسم اور ہوا موافق ہو تو ٹڈی 3000 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہیں۔

یہ زمین اور سمندر دونوں راستوں سے گزر سکتی ہیں۔

حالانکہ ٹڈی دن کو سفر اور رات کو آرام کرتی ہیں پھر بھی براستہ سمندر یہ 10 دن تک سفر کرسکتے ہیں، اصل میں یہ پانی پر اترتی ہیں، جب پہلا جھنڈ پانی میں اُترتا ہے تو وہ ڈوب کے مر جاتے ہیں اور ان کے مردہ جسم سمندر میں تیرنے لگتے ہیں اور بعد میں اترنے والے انہی مردہ ٹڈیوں پر بیٹھ جاتے ہیں،۔

ایک جھنڈ میں کروڑوں کی تعداد میں ٹڈیاں ہو سکتی ہیں۔

ٹڈی 2 کلومیٹر اونچائی تک اڑ سکتی ہیں۔

ایک جھنڈ سینکڑوں مربع کیلومیٹر تک پھیلا ہو سکتا ہے،

ٹڈی ایک دن میں اپنے وزن کے برابر کھانا کھا سکتی ہے۔

*قدرتی کنٹرول*

بہت ہی سخت اور خشک سردی کا موسم ان کو ختم کر سکتا ہے،
میچور ہونے سے پہلے اگر خوب بارش ہو جائے تو تب بھی یہ ختم ہو سکتے ہیں،

پرندے ، رینگنے والے جانور اور بھڑ، ٹڈیاں کھاتے ہیں جس سے قدرتی کنٹرول میں مدد ملتی ہے

*بائیو پسٹیسائیڈ کنٹرول*
Green muscle
نام کی کیمیکل جو کہ افریقہ میں بنائی گئی ہے ٹڈی دل کے کنٹرول میں بہت ہی کارآمد پایا گیا ہے

*کیمیکل کنٹرول*

Fipronil 0.3-1g. a.i /ha

Diazinon 450-500g. a.i /ha (1L/ ha)

Fenitrothion 400-500g.a.i /ha (500g/ha)

ٹڈی دل کے جھنڈ کو کنٹرول کرنے کے لیے اسپرے کرنا ضروری ہے لیکن اس کے لیے مندرجہ ذیل چیزوں کے بارے میں معلومات کا حاصل ہونا ضروری ہے،
لوکیشن۔
لائف اسٹیج۔
جھنڈ کا سائز۔
ٹڈی دل کے حملے کا شدت۔

متعلقہ ادارے جتنی جلدی ہو سکتا ہے ایکشن لیں وگرنہ خداناخواستہ افریقہ کی طرح کا ایک اور تباہی پاکستان کا رخ کر سکتی ہے

*بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔*      وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں ک...
17/01/2020

*بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔*

وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں کامیاب ہو گیا تو فوراً اپنے پشتینی مکان کو خیر باد کہہ دونگا اور یہیں شہر میں قیام کروں گا _ امی اور ابو کی روزانہ کی مغزماری سے جان چھڑا لوں گا ۔!
صبح جاگنے سے لےکر رات کو سونے تک ہونے والی مغز ریزی سے اکتا گیا ہوں ، بیزار ہو گیا ہوں ۔
صبح غسل خانے کی تیاری کرو تو حکم ہوتا ہے :پہلے بستر کی چادر درست کرو پھر غسل خانے جاؤ !
غسل خانے سے نکلو تو فرمان جاری ہوتا ہے: نل بند کردیا _ تولیہ سہی جگہ پر رکھا ہے یا یوں ہی پھینک دیا ؟
ناشتہ کرکے کے گھر سے نکلنے کا سوچو تو ڈانٹ پڑی : پنکھا بند کیا یا چل رہا ہے ؟
کیا کیا سنیں؟؟! یار، نوکری ملے تو گھر چھوڑ دوں گا -

آفس میں بہت سے امیدوار بیٹھے "باس " کا انتظار کر رہے تھے _ دس بج گئے تھے _ اس نے دیکھا ، پیسج کی بتی ابھی تک جل رہی ہے _ امی یاد آگئیں تو بتی بجھا دی ۔ آفس کے دروازے پر کوئی نہیں تھا _
بازو میں رکھے واٹر کولر سے پانی رس رہاتھا ، اس کو بند کردیا _ والد صاحب کی ڈانٹ یاد آگئی _
بورڈ لگا تھا : انٹرویو دوسری منزل پر ہوگا !
سیڑھی کی لائٹ بھی جل رہی تھی _ اسے بند کرکے آگے بڑھا تو ایک کرسی سر راہ دکھائی دی _ اسے ہٹاکر اوپر گیا_ دیکھا ، پہلے سے موجود امیدوار اندر جاتے اور فوراً واپس آجاتے تھے _ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپلیکیشن لے کر کچھ پوچھتے نہیں ہیں ، فوراً واپس بھیج دیتے ہیں ۔

میرا نمبر آنے پر میں نے اپنی فائل مینجر کے سامنے رکھ دی _ تمام کاغذات دیکھ کر مینجر نے پوچھا : کب سے جوائن کر رہے ہو ؟
ان کے سوال پر مجھے یوں لگا ، جیسے آج یکم اپریل ہو اور یہ مجھے 'فول' بنا رہے ہیں -
مینجر نے محسوس کر لیا اور کہا : اپریل فول نہیں ، حقیقت ہے ۔

آج کے انٹرویو میں کسی سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا ہے_ صرف CCTV میں امیدواروں کا برتاؤ دیکھا گیا ہے _ سبھی امیدوار آئے ، مگر کسی نے نل یا لائٹ بند نہیں کی ، سوائے تمھارے _
مبارک باد کے مستحق ہیں تمہارے والدین ، جنہوں نے تمہیں تمیز اور تہذیب سکھائی ہے _
جس شخص کے پاس Self Discipline نہیں ، وہ چاہے جتنا ہوشیار اور چالاک ہو ، مینجمینٹ اور زندگی کی دوڑ میں پوری طرح کام یاب نہیں ہو سکتا _
یہ سب ہو جانے کے بعد میں نے پوری طرح طے کر لیا کہ گھر پہنچتے ہی امی اور ابو سے معافی مانگ کر انہیں بتاؤں گا کہ آج اپنی زندگی کی پہلی آزمائش میں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنے اور ٹوکنے کی باتوں نے مجھے جو سبق پڑھایا ہے ان کے مقابل میری ڈگری کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
*زندگی کے سفر میں تعلیم ہی نہیں ، تہذیب کا بھی اپنا مقام ہے.....
-------------------------------------------------------------

Real humanity ❤ہاتھ میں ٹوٹا ہوا موبائل پکڑے سینیگال سے تعلق رکھنے والا یہ سیاہ فام شخص انگلینڈ کے فٹبال کلب "لیور پول" ...
12/01/2020

Real humanity ❤
ہاتھ میں ٹوٹا ہوا موبائل پکڑے سینیگال سے تعلق رکھنے والا یہ سیاہ فام شخص انگلینڈ کے فٹبال کلب "لیور پول" کا سٹرائیکر اور دنیا کا بہترین طور پر مانے جانے والا فٹبال پلیئر سادیو مانے (Sadio Mane)ہے۔
فٹبال کھیل کر اس کی سالانہ آمدنی 7.8 ملین ڈالر ( 1ارب 57 کروڑ لگ بھگ)ہے لیکن اس کے پاس ہر ہفتے نئے برانڈ کا موبائل خریدنے کے پیسے نہیں۔کیوں کہ اس نے ایک بار کہا تھا کہ
"مجھے دس فراری کاروں کی کیا ضرورت ہے ؟
دس ہیروں والی گھڑیوں کا کیا کرنا اور دو ہوائی جہاز کیوں لوں۔۔۔؟
ان چیزوں سے مجھے اور دنیا کو کیا ملے گا۔۔۔؟
میں بھوکا رہا ہوں،میں نے کھیتوں میں کام کیا ہے،میں ننگے پاؤں کھیلا ہوں اور میں سکول نہیں گیا۔اب میں لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں تو میں سکول بنواوں گا،ایک فٹبال اسٹیڈیم،لوگوں کو کپڑے،جوتے اور کھانا دوں گا جو غربت کی زندگی بسر کر رہے۔میرے پاس تعلیم نہیں اور نہ ہی کوئی چیز لیکن آج جو کچھ کمایا اس کے لیے فٹبال کا شکریہ میں اب اپنے لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں"۔۔

Address

Bahawalnagar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bahawalnagar Market posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share