Urdu Tutorials, Tips and Tricks and Software Reviews

Urdu Tutorials, Tips and Tricks and Software Reviews موبائل سافٹ وئیر اینڈ فلیشنگ + کمپیوٹر سافٹ وئیر سے متع?

24/04/2024

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید ہے سب خیریت سے ہوں گے اور صحت و ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے۔۔
کیا اس پیج کی فین فالوئنگ ابھی تک ایکٹو ہے؟ اگر ہے تو کیا خیال ہے سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جائے؟ ;) :)

-اے ایم

01/11/2017

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ میسیج غلطی سے کسی اور شخص یا گروپ کو چلاجاتا ہے جس پر بسا اوقات شرمندگی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم واٹس ایپ نے اپنے ایک ارب صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کرادیا ہے جس کے تحت آپ دوسروں کو بھیجے گئے پیغامات کو حذف کرسکتے ہیں۔ نئے آپشن کے تحت صارف پیغام بھیجنے کے بعد 7 منٹ کے اندر اندر اسے گروپ یا چیٹ سے ڈیلیٹ کرسکتے ہیں تاہم 7 منٹ بعد اسے ڈیلیٹ نہیں کیا جاسکے گا۔
واٹس ایپ نے ڈیلیٹ فار ایوری ون (ڈیلیٹ سب کے لیے) اور ڈیلیٹ فار می (ڈیلیٹ صرف میرے لیے) کے نام سے دو آپشن متعارف کرائے ہیں۔ پہلے آپشن کے مطابق بھیجا ہوا میسج گروپ میں موجود تمام ممبرز کے پاس سے ڈیلیٹ ہوجائے گا اور اس کی جگہ پر ’یہ میسج ڈیلیٹ کردیا گیا ہے‘ لکھا آئے گا۔ دوسرے آپشن میں میسیج سب کے پاس پہنچ جائے گا اور صرف آپ کے پاس سے ڈیلیٹ ہوجائے گا۔
واٹس ایپ کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ فیچر تمام آئی فونز، اینڈرائیڈ فونزاور ونڈوز فونز کے لیے ہے۔ میسیج ڈیلیٹ کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پیغام بھیجنے والا اور وصول کنندہ دونوں کے پاس واٹس ایپ کا تازہ ترین ورژن انسٹال ہو۔ واضح رہے کہ واٹس ایپ انتظامیہ ایک سال سے اس آپشن پر ایک سال سے کام کررہی تھی۔
میسیج ڈیلیٹ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ واٹس ایپ میں وہ چیٹ کھولیں جہاں سے میسیج ڈیلیٹ کرنا ہو۔ میسیج کو دبا کر رکھیں اور پھر مینیو کے آپشن میں جاکر ’ڈیلیٹ فار ایوری ون‘ یا ’ڈیلیٹ فار می‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ اس سہولت کو حاصل کرنے کے لیے صارفین کو تازہ ترین ورژن انسٹال کرنا ہوگا۔

ایئرکنڈیشنر سے نکلنے والا پانی اتنا صاف ستھرا ہوتا ہے کہ اسے یو پی ایس بیٹری کے لیے ’’بہترین دوا‘‘ تک قرار دیا جاتا ہے۔ا...
19/08/2017

ایئرکنڈیشنر سے نکلنے والا پانی اتنا صاف ستھرا ہوتا ہے کہ اسے یو پی ایس بیٹری کے لیے ’’بہترین دوا‘‘ تک قرار دیا جاتا ہے۔
اگر آپ کے گھر میں یو پی ایس ہے تو آپ کو ہر سال کم از کم ایک مرتبہ اس کی بیٹری ضرور تبدیل کرنی پڑتی ہو گی کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کمزور پڑتی چلی جاتی ہے اور آخرکار بالکل جواب دے جاتی ہے۔
اس دوران جب بیٹری کا پانی خشک ہو جاتا ہے تو عام طور پر کشید کردہ خالص پانی (ڈسٹلڈ واٹر) ڈالا جاتا ہے جبکہ بعض لوگ بد احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نلکے کا پانی تک بیٹری میں ڈال دیتے ہیں جو اس کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے اور بیٹری صرف چند مہینوں ہی میں ناکارہ ہو جاتی ہے۔
بیٹری کی عمر بڑھانے کے لیے معمولی سی تیزابیت کا حامل پانی بھی استعمال کیا جاتا ہے جو مقامی مارکیٹ میں ’’1250 نمبر کے پانی‘‘ کے نام سے دستیاب ہے جبکہ بعض مقامی کمپنیاں ’’بیٹری واٹر‘‘ کے نام سے یہی پانی فروخت کرتی ہیں جو بہت مہنگا ہوتا ہے۔
ایئرکنڈیشنر کا پانی اس سے کہیں زیادہ بہتر اور مفید ہوتا ہے جس کے بارے میں بیٹریاں فروخت کرنے والے مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ یو پی ایس بیٹری کو اچھی حالت میں رکھنے کے لیے موزوں ترین ہے۔ کراچی میں بیٹریوں کی فروخت اور مرمت سے وابستہ کئی دکاندار ایئرکنڈیشنر کے پانی کو باقاعدگی سے خرید کر استعمال بھی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایئرکنڈیشنر کا پانی استعمال کرنے پر بیٹری اپنی اوسط عمر سے تقریباً دو یا تین ماہ تک زیادہ کام کرتی ہے، چاہے وہ یو پی ایس میں نصب ہو یا پھر کسی گاڑی لگی ہوئی بیٹری ہو۔
یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد اگر آپ کو یقین نہیں آرہا تو ایئرکنڈیشنر سے نکلنے والے پانی کے بہترین ہونے کی وجہ بھی جان لیجیے: یہ پانی دراصل ہوا میں موجود آبی بخارات (water vapors) کے ٹھنڈا ہو کر مائع حالت میں تبدیل ہونے کی وجہ سے بنتا ہے اور اسی بناء پر بہت خالص بھی ہوتا ہے۔ اگر اسے احتیاط سے جمع کرلیا جائے تو ڈسٹلڈ واٹر سے بھی زیادہ خالص اور مفید ثابت ہوتا ہے۔

05/07/2017

ایک ٹن، دو ٹن۔۔۔
کیا آپ کو معلوم ہے ایئرکنڈیشنر کی صلاحیت ٹنوں کے حساب سے کیوں جانچی جاتی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مشہور لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ائیرکنڈیشنر ز کی تنصیب کرنے والی ایک کمپنی کے نمائندے نے ایک معمر خاتون کو بتایا کہ ان کے کمرے میں 4 ٹن کا ائر کنڈیشنر لگایا جائے گا، تو معمر خاتون کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا اور وہ کہنے لگیں ” آپ اتنی بھاری چیز میرے کمرے میں کیسے لے کر آئیں گے؟“
ویسے معمر خاتون کی حیرت اتنی بے جا بھی نہیں تھی کیونکہ اکثر لوگ ائر کنڈیشنر کے ٹنوں کو اس کا وزن سمجھ بیٹھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا وزن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو پھر ائیرکنڈیشنر کی کولنگ کی پیمائش ٹنوں میں کیوں کی جاتی ہے، جبکہ یہ تو وزن کی اکائی ہے؟
ویب سائٹ انرجی وینگارڈ کی رپورٹ کے مطابق ائیرکنڈیشنر کی کولنگ کی پیمائش کیلئے ٹن کی اکائی استعمال کرنے کے پیچھے دلچسپ تاریخ ہے۔ قدیم دور میں جب ائیرکنڈیشنر جیسی ٹیکنالوجی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا تو گھروں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے برف کا استعمال کیا جاتا تھا۔ دور دراز پہاڑوں سے لائی جانیوالی اس برف کو امراءکے گھروں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ برف ٹنوں کے حساب سے لائی جاتی تھی، لہٰذا ٹھنڈک کی پیمائش بھی ٹنوں میں کی جانے لگی۔
ائیرکنڈیشننگ کے ماہر ایلی سن ڈیلز بتاتے ہیں کہ ایک ٹن کے ائیرکنڈیشنر سے مراد ایک ایسا ائیرکنڈیشنر ہے جو فی گھنٹہ 12000 برٹش تھرمل یونٹ (BTU ) حرارت آپ کے کمرے سے نکال سکتا ہے۔ ایک بی ٹی یو سے مراد اتنی حرارت ہے جو ماچس کی ایک تیلی کو مکمل طور پر جلائے جانے سے حاصل ہو سکتی ہے۔
اگر آپ کے پاس ایک ٹن برف ہو تو اسے مکمل طور پر پگھلنے کیلئے 286000بی ٹی یو حرارت کی ضرورت ہو گی ۔اگر ایک ٹن برف 24 گھنٹے میں مکمل طور پر پگھلانا ہو تو اسے 286000 بی ٹی یو حرارت 24 گھنٹے کے درمیان فراہم کر نا ہو گی، جو کہ فی گھنٹہ تقریباً 12 ہزار بی ٹی یو بنتی ہے۔ اس حساب سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا ایک ٹن کا اے سی ایک گھنٹے میں تقریباً 12 ہزار بی ٹی یو حرارت کو کمرے سے نکال باہر کرتا ہے، یعنی اتنی حرارت ہے جو کہ ایک گھنٹے میں ایک ٹن برف کو پگھلانے کیلئے کافی ہو گی ۔...........................

05/07/2017

کیو آر کوڈ کیا ہے، اسے کیسے بنایا اور پڑھا جاتا ہے؟
آپ میں کچھ دوستوں نے کیو آر کوڈ Quick Response Code کی اصطلاح ضرور سنی ہوگی۔ کیو آر کوڈ دراصل روایتی بار کوڈ کی ایک قسم ہے جسکی ابتداء جاپان سے ہوئی۔ کیو آر کوڈ بار کوڈ کے مقابلے میں سیدھی لائینوں کی بجائے کالے چوکور خانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مختلف سائز کے یہ چوکور خانے مل کر ایک بڑا چوکور خانہ بناتے ہیں جسکا بیگ گراؤنڈ سفید ہوتا ہے۔

qr code کیو آر کوڈ کیا ہے، اسے کیسے بنایا اور پڑھا جاتا ہے؟
ان چوکور خانوں میں دراصل مختلف قسم کی معلومات سٹور ہوتی ہیں جنہیں عام طور پر سمارٹ فون کیمرہ کی مدد سے سکین کیا جاتا ہے اور سافٹوئیر اسے پڑھ کر آپ کو وہ معلومات سکرین پر انگریزی یا کسی دوسری زبان میں دکھاتا ہے۔

1994 میں ٹویوٹا کی ایک ذیلی کمپنی نے گاڑیوں کی تیاری کے دوران پرزہ جات وغیرہ کے بارے میں بہتر معلومات رکھنے کے لیے یہ نظام متعارف کروایا۔ آج کیو آر کوڈز کا استعمال شاپنگ، انٹرنیٹ اور مختلف اقسام کی مصنوعات کی ٹریکنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ کیو آر کوڈز کو پیسے کی منتقلی اور سائیٹس پر لاگ ان کرنے کے لیے بھی استمعال کیا جاتا ہے۔

code online shopping کیو آر کوڈ کیا ہے، اسے کیسے بنایا اور پڑھا جاتا ہے؟
کمپنیاں اور پروفیشنلز اپنے وزٹنگ کارڈز پر کیوآرکوڈز بھی چھپواتے ہیں جنہیں سکین کر کے آپ یوآرایل لکھے بغیر ہی انکی ویب سائیٹ اور دیگر معلومات ملاحظہ کر لیتے ہیں۔ مارکیٹنگ کمپنیاں مصنوعات کی تشہیر یا خصوصی ڈسکاؤنٹ فراہم کرنے کے لیے بھی کیوآرکوڈ کو پبلک مقامات اور اخبارات میں شائع کرتے ہیں، جس سے صارفین کی دلچسپی میں اضافہ ہوتاہے۔ 2011 میں نیدرلینڈ کے رائل ڈچ منٹ نے کیو آر کوڈ کے حامل سکے بھی جاری کیے۔ کچھ ممالک میں اب قبر کے کتبوں پر مرنے والے کی معلومات کیو آر کوڈ کی شکل میں چسپاں کی جاتی ہیں۔

کیو آر کوڈ بنانا بہت ہی آسان ہے اور روایتی بار کوڈ کے مقابلے میں اس میں ڈھیروں معلومات سٹور کی جاسکتیں ہیں۔ مثلاً آپ اس میں اپنا نام، پتہ اور ٹیلی فون نمبر، فیس بک پتہ، ویب سائیٹ یا پھر کوئی بھی پیغام سٹور کرسکتے ہیں۔ جب آپ کے دوست اسے سکین کریں گے تو انہیں یہ معلومات مل جائیں گی۔ اسکے علاوہ آپ کیوآر کوڈ میں کچھ کمانڈز بھی محفوظ کرسکتے ہیں جیسے کسی خاص نمبر پر کوئی میسج بھیجنا ہوتو اسکا کیوآر کوڈ بنا لیجئے، جو کوئی بھی اسے سکین کرے گا اسکے نمبر سے میسج بھیج دیا جائے گا۔

مفت کیو آر کوڈ بنانے کے لیے یہ ویب سائیٹس ملاحظہ کیجئے:

goqr.me
qrcode.kaywa.com
the-qrcode-generator.com
Qr code generator Android application
کیو آر کوڈ پڑھنے کا طریقہ:
روایتی بار کوڈ کے مقابلے میں کیوآر کوڈ کو پڑھنے کے لیے کیمرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سمارٹ فونز کا استعمال عام ہے جس میں لگا پراسیسر کیمرہ سے لی گئی تصویر کا تجزیہ کرتا ہے اور طے شدہ سٹینڈرز کی مدد سے کیوآرکوڈ سے معلومات حاصل کرتا ہے۔

کیوآرکوڈ پڑھنے کے لیے اینڈرائیڈ ، آئی او ایس ، ونڈوز فون ، بلیک بیری اور دیگر آپریٹنگ سسٹمز کے لیے بہت سی ایپلی کیشنز دستیاب ہیں جن میں سے چند ایک کے لنکس یہ ہیں:

Scan for Android
Qr Reader for iOS
BlackBerry Qr Reader
Windows Phone QR Code Reader
Quick Mark PC

کیو آر کوڈ کا استعمال مفت ہے اور اسکے لیے کسی قسم کے لائسنس کی ضرورت نہیں یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں کیو آر کوڈ کے ساتھ نت نئے تجربے کیے جارہے ہیں۔ تاہم غیر ضروری طور پر کسی بھی کیو آر کوڈ کو سکین کرنے سے گریز کیجئے، کیونکہ ہیکرز کیو آر کوڈ کے ذریعے آپکے کمپیوٹر یا موبائل فون میں موجود خفیہ معلومات تک مکمل رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور آپکے فون میں موجود کیمرہ کو خفیہ نگرانی کے استعمال یا پھر آپکے بیلنس کے ضیائع کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

منقول

04/01/2017

گریوٹی اتنی کمزور فورس کیوں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔
سٹرنگ تھیوری جو ابھی فقط ایک تھیوری ہے اور صرف ریاضی کے فارمولوں کے ذریعے ثابت کی گئی ہے، کے مطابق گریوٹی دراصل کمزور فورس نہیں ہے بلکہ یہ قدرت کی تمام چاروں فورسز کے مقابلے میں سب سے زیادہ طاقتور ہے لیکن چونکہ گریوٹانز اوپن لُوپ سٹرنگز نہیں ہیں بلکہ کلوزڈ لُوپ سٹرنگز ہیں اس لیے گریوٹانز ایک کائنات سے دوسری کائنات میں سِرک جاتے یعنی سلِپ (Slip) ہوجاتے ہیں۔

ہم اپنے مشاہدے سے جانتے ہیں کہ گریوٹی ایک نہایت کمزور، نہایت کمزور، نہایت ہی کمزور فورس ہے۔ ۱۱ فروری دوہزار سولہ کو جو گریوٹیشنل ویو زمین پر ڈی ٹیکٹ کی گئی تھی وہ دو بلیک ہولز کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوئی تھی اور یہاں زمین پر ہم نے اسے ایک بال کی طاقت یا ایک تتلی کے پر پھڑپھڑانے کی طاقت سے بھی کمزور محسوس کیا تھا۔ گریوٹی کے نہایت کمزور فورس ہونے کا ایک اور مشاہدہ جو ہم روز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ آپ لوہے کا ایک کیل زمین پر پھینکیں، پھر اُسے ایک مقناطیس کی مدد سے اُٹھائیں تو وہ اُٹھتا چلا آتاہے۔ مقناطیس میں میگانیٹک فورس ہے جبکہ زمین پر کیل گریوٹی کی وجہ سے پڑاہے۔ پوری زمین کی گریویٹی کے مقابلے میں ایک ننھا سا مقناطیس کیل کو کھینچ کر اوپر اُٹھا لیتاہے۔ ثابت ہوا کہ گریوٹی الیکٹرومیگانیٹک فورس سے بے حد کمزور ہے۔

یہ تو ہے ہمارا مشاہدہ۔ ہمارا مشاہدہ تو یہ بھی ہوا کرتا تھا کہ سُورج زمین کے گرد گھومتاہے پھر ریاضی کے ماہرین نے ہی سب سے پہلے ہمیں حساب کتاب لگا کر بتایا کہ نہیں زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ چنانچہ ہمارا مشاہدہ آج بھی ویسا ہی لاحاصل ہوسکتاہے جیسا کہ گیلیلیو سے پہلے ہوا کرتا تھا۔ پروفیسر ایلن گُوتھ کے بقول سٹرنگ تھیوری اپنی ریاضی کے اعتبار سے آج تک پیش کی جانے والی ہر تھیوری سے زیادہ خوبصورت اور مضبوط ہے۔ انہوں نے اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا وہ ہے ’’ایلی گینٹ‘‘ (Elegant)۔ انہوں نے کہا کہ سٹرنگ تھیوری کی ریاضی آئن سٹائن کی تمام تھیوریز سمیت ، آج تک پیش کی جانے والی ہر سائنسی تھیوری سے کہیں زیادہ ایلی گینٹ اور سالڈ ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر آج تک وہ تمام تھیوریز جو سٹرنگ تھیوری کی میتھ سے کہیں زیادہ کمزور ہوا کرتی تھیں سچی ثابت ہوئی ہیں تو پھر اتنی مضبوط میتھ والی تھیوری کیونکر غلط ثابت ہوسکتی ہے؟

سٹرنگ تھیوری کے مطابق گریوٹی کے بھی ذرات ہوتے ہیں۔ دراصل ہر فورس کی ایک فیلڈ اور ایک ذرّہ ہوتاہے۔ مثلاً الیکٹرومیگانیٹک فورس کی فیلڈ ہے جو پوری کائنات پر محیط ہے اور یہ فورس جن ذرات سے بنی ہے یعنی جو ذرات پوری کائنات میں فیلڈ بن کر پھیلے ہوئے ہیں ان کا نام ہے ، ’’فوٹانز‘‘۔ اسی طرح الیکٹرانک فیلڈ ہے تو الیکٹران اس فیلڈ کا ذرّہ ہے یا جدید دریافت ہونے والی ہِگز فیلڈ ہے تو اس کا ذرّہ ہِگز بازان ہے۔ یعنی جو کوئی بھی فیلڈ ہے اس کا ذرّہ ضرور ہوتاہے۔ چونکہ گریوٹیشنل فیلڈ بھی ایک فیلڈ ہے اور ہم صدیوں سے اس فیلڈ کے بارے میں جانتے ہیں تو عین ممکن ہے اس فیلڈ کا بھی کوئی ذرّہ ہوگا۔ اس ذرّے کا نام ہے ’’گریوٹانز‘‘۔ کائنات میں دریافت ہونے والی کل فورسز چار ہیں۔

۱۔ طاقتور نیوکلیر فورس
۲۔ کمزور نیوکلیئر فورس
۳۔ الیکٹرومیگانیٹک فورس
۴۔ گریوٹیشنل فورس

پہلی تین فورسز کو یکجا کرنے کا کارنامہ پاکستانی سائنسدان عبدالسلام نے سرانجام دیا اور ان کی یونی فکیشن کی۔ لیکن گریوٹیشنل فورس کا راز آج تک نہیں کھل پایا۔ اب سٹرنگ تھیوری نے دعویٰ کیا ہے کہ کائنات ذرّات نہیں بلکہ سٹرنگز سے بنی ہے۔ سٹرنگز دھاگہ نما ہوتی ہیں۔ زیادہ تر سٹرنگز اوپن لُوپ یعنی کھلے ہوئے آزاد سِروں والی ہوتی ہیں جن کے دونوں سرے سپیس ٹائم کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ سٹرنگز ایسی بھی ہیں جو کلوزڈ لُوپ ہوتی ہیں۔ بند سٹرنگز کیسی ہوسکتی ہیں؟ یقینا کسی دائرے یا بیضے وغیرہ کی صورت بند چاہے جتنی بھی بل دار ہو۔ جیسے کوئی بند ربربینڈ ۔ اب چونکہ گریوٹانز کلوزڈ لوُپ سٹرنگز ہیں تو ہوتا یوں ہے کہ ان کے سِرے سپیس ٹائم فیبرک کے ساتھ جُڑے یا بندھے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ آزاد دھاگے ہیں جو اُڑتے پھرتے ہیں۔ جب کبھی کسی کائنات کے سپیس ٹائم فیبرک کو بہت زور کا دھکا لگتاہے یا سپیس ٹائم فیبرک میں کوئی بھونچال تو وہ ایک کائنات سے کسی ساتھ والی کائنات میں جمپ کرجاتی یا سِرک جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین ِ فزکس کو اُمید ہے کہ اگر کبھی ہم نے کسی ایک کائنات سے کسی دوسری کائنات میں سفر کیا یا رابطہ کیا تووہ ضرور گریوٹانز کی مدد سے ممکن ہوگا۔

عام طور پر کسی کائنات سے گریوٹانز کے سرک جانے کے لیے سپیس ٹائم فیبرک کو دھکا لگنا ضروری نہیں ہوتا۔ چونکہ کائناتیں بہت سی ہیں اور پیرالل ہیں اور ساتھ ساتھ واقع ہیں اس لیے گریوٹانز کی ایک بہت بڑی مقدار ہمہ وقت اُن کائناتوں میں سرکتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گریوٹی کمزور فورس کے طور پر ہمارے مشاہدے میں آتی ہے۔ جبکہ فی الاصل ایسا نہیں ہے۔ گریوٹی ایک بہت ہی طاقتور فورس ہے لیکن چونکہ زیادہ تر گریوٹانز دوسری کائناتوں یا دوسری ڈائمنشنز میں سرک جاتے ہیں اس لیے ہمیں جو گریوٹی نظر آتی ہے وہ حد سے زیادہ کمزور نظر آتی ہے۔

ادریس آزاد

17/10/2016

فیس بک اور ہیکنگ
فیس بک صارفین بالخصوص لڑکیوں میں ہیکنگ سے خوف کے کافی زیادہ تاثرات پائے جاتے ہیں.. یہ تحریر بالخصوص ان افراد کے لیے ہی ہے..
کسی بھی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ممبر کی آئیڈی دو طرح سے ہیک کی جاسکتی ہے پہلا طریقہ مطلوبہ ویب سائٹ کے سی پینل تک رسائی حاصل کی جائے.. اور دوسرا طریقہ مطلوبہ فرد کو بدھو بناکر اس سے یوزرنیم اور پاسورڈ حاصل کیا جائے...
فیس بک کی سکیورٹی بیحد مضبوط ہے جسے ہیک کرنا کسی عام ہیکر کے بس کا روگ نہیں اور شاید بڑے بڑے ہیکرز بھی تاحال ناکام ہیں.... اس لیے کسی بھی فیس بک یوزر کی آئیڈی ہیک دوسرے طریقے (یعنی مطلوبہ فرد جو بیوقوف بنا کر پاسورڈ لے لینے) سے ہی ممکن ہے.. اب آپ سوچ رہے ہوں گے کوئی آپ سے آپ کا فیس بک پاسورڈ بنا آپ کی مرضی کے کیسے لے سکتا ہے؟؟؟ بتاتا ہوں
اس کام کے لیے فشنگ پیجز اور کی لاگرز استعمال کیے جاتے ہیں..
فشنگ پیج سے مراد ایک ایسا جعلی پیج جو بالکل اصلی ویب سائٹ کا پیج لگے... فیس بک کا بھی فشنگ پیج بنایا جاسکتا ہے.. یاہو.. جی میل.. ہاٹ میل الغرض تقریباً ہر ویب سائٹ کا فشنگ پیج ممکن ہے... مثال کے طور پر اگر کوئی فیس بک کا فشنگ پیج بناتا ہے تو آپ کے سامنے اصلی فیس بک کا پیج دکھائی دے رہا ہوگا .. یہ پیج ایک ایف ٹی پی کلائنٹ کے ساتھ منسلک ہوتا ہے.. جیسے ہی آپ فشنگ پیج کو اصلی پیج سمجھ کر اس میں اپنا یوزرنیم اور پاسورڈ درج کرتے ہیں.. آپ.کا یوزرنیم اور پاسورڈ فوری ہیکر کے پاس پہنچ جاتا ہے...
فشنگ پیج پہچاننے کا طریقہ کار یہ ہے کہ جو آپ کو لنک سینڈ کیا جاتا ہے اسے بغور دیکھیں.. اس کا ویب ایڈریس قطعی اوریجنل جیسا نہیں ہوگا... مثال کے طور پر فیس بک کا فشنگ پیج ہے تو
اوریجنل فیس بک لاگ ان لنک یہ ہوگا
Http://www.facebook.com/login
جبکہ فشنگ پیج کا لنک اختتام سے قدرے مختلف ہوسکتا ہے مثال کے طور پر کچھ ایسا ہوسکتا ہے
Http://www.facebook.com/login.xyksnh%nsjkly
یہ بھی ہوسکتا ہے اختتام پر کسی ویب سائٹ کا ہی لنک آرہا ہو.. بہرحال باقی لنک ایف ٹی پی سرور کا ہوتا ہے..
دوسری نشانی یہ کہ فشنگ پیج ہمیشہ لاگ ان والا پیج ہوتا ہے... یعنی آپ کو ایسا لگے گا کہ جیسے آپ فیس بک سے لاگ آؤٹ ہیں اور جیسے ہی لاگ ان ہوں گے یہ پیج لاگ ان نہیں ہوگا... بلکہ بلنک کرکے واپس اسی حالت میں آجائے گا...
بچنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ کسی کی طرف سے بھیجے گئے یا شئیر کیے گئے ایسے کسی بھی لنک پر کلک کرکے ہرگز بھی لاگ ان مت کریں..
کی لاگر:
یہ ایک ایسا سافٹ وئیر ہے جو آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال ہونے سے آپ کے کی بورڈ سے ٹائپ کیا گیا ایک ایک ورڈ اور ہر کچھ منٹس بعد کا اسکرین شاٹ اور مکمل ایکٹویٹی بذریعہ ایف ٹی پی ہیکر تک پہنچاتا رہتا ہے.. گوکہ مائیکروسافٹ کی جانب سے کافی حد تک اس پر قابو پا لیا گیا ہے تاہم پھر بھی بڑے ہیکرز اسے ونڈوز کے لیٹسٹ ورژن پر بھی کامیابی سے چلا سکتے ہیں..
بدلتے وقت کے ساتھ کی لاگرز نے بھی کمپیوٹرز سے موبائلز کا رُخ کرلیا ... اب وہی کی لاگر اینڈرائڈ ایپلیکیشن کی صورت آپ کے موبائل میں بھیجا جا سکتا ہے... .. یہ کی لاگر ایک چھوٹی سی فائل.ہوتی ہے جو ہیکر آپ کو بھیجتا ہے... جیسے ہی آپ ہیکر کی باتوں میں آکر اس فائل کو اوپن کرتے ہیں وہ فائل آپ کی ڈیوائس میں انسٹال ہوجاتی ہے... اور ساری معلومات ہیکر تک پہنچانا شروع کر دیتی ہے.. یہ ایپلیکیشن کمپیوٹر یا موبائل ڈسپلے پر دکھائی نہیں دیتی۔۔۔
ان فشنگ پیجز اور کی لاگرز سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ کسی کی جانب سے بھیجا گیا کوئی لنک اوپن کربھی لیں تو غلطی سی بھی اس پر لاگ ان مت کریں... اور اگر کوئی آپ کو فائل بھیجتا ہے اور اوپن کرکے چیک کرنے کا کہتا ہے تو وہ بھی اوپن کرنے کی غلطی نا کریں... گو کہ اینڈرائڈ کی سکیورٹی بھی ونڈوز کی طرح سخت کردی گئی ہے تاہم ابھی تک اینڈرائڈ تقریباً غیر محفوظ ڈیوائس ہی ہے...بنیادی طریقہ کار تو اب تک یہی ہے تاہم موجودہ دور فشنگ پیجز کی جگہ فیس بک ایپلیکیشنز سائن اِن پیجز اور کی لاگرز کی جگہ کسی اور نام سے یہی طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے۔۔ یعنی اس طرح کے مختلف ہتھکنڈے ہیں مگر طریقہ ان سب کا یہی ہے جو فشنگ پیجز اور کی لاگرز کا ہے۔۔

اگر آپ خود کسی فیک پیج / ایپلیکشن سان ان پر اپنا یوزرنیم.اور آئیڈی نا ڈالیں... اور فون میں کسی کی جانب سے بھیجی گئی کوئی بھی غیر ضروری ایپلیکیشن انسٹال نا کریں تو کوئی بھی ہیکر آپ کی فیس بک آئیڈی.. فیس بک گروپ یا آپ کا کوئی فیس بک پیج ہیک نہیں کر سکتا...

از- اے ایم

Inpage 3.2
15/01/2016

Inpage 3.2

MediaFire is a simple to use free service that lets you put all your photos, documents, music, and video in a single place so you can access them anywhere and share them everywhere.

انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ مینجر 6.25 فُل ورژنطریقہ کار:سافٹ وئیر اِنسٹال کریںانٹرنیٹ ڈاون لوڈ مینجر کو بند کریںکریک فائل کو اوریج...
15/01/2016

انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ مینجر 6.25 فُل ورژن
طریقہ کار:
سافٹ وئیر اِنسٹال کریں
انٹرنیٹ ڈاون لوڈ مینجر کو بند کریں
کریک فائل کو اوریجنل فائل کے ساتھ ری پلیس کریں
رجسٹری کیز کو اسٹالیشن فولڈ میں کاپی کرکے رن کریں۔۔
رجسٹریشن مکمل۔۔۔
انجوائے فُل ورژن

MediaFire is a simple to use free service that lets you put all your photos, documents, music, and video in a single place so you can access them anywhere and share them everywhere.

Address

Karkhana Bazar
Arifwala
57450

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Tutorials, Tips and Tricks and Software Reviews posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Tutorials, Tips and Tricks and Software Reviews:

Share