19/09/2025
*🌹 I LOVE MOHAMMED 🌹*
*مسلمانوں کا ایمان، مسلمانوں کا فخر*
ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی(تاراپٹی،نیپال)
آج کا ہندوستان نفرت کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ مذہب کے نام پر سیاست کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، اور مسلمانوں کو دبانے کے لیے نت نئے حربے اپنائے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ "I LOVE MOHAMMED ﷺ" کہنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے۔
لیکن اے ظالمو! سن لو!
یہ عشقِ رسول ﷺ کوئی معمولی جذبہ نہیں، یہ ہمارے ایمان کی بنیاد ہے، یہ ہماری جان کی روح ہے۔ اسے نہ قید کیا جا سکتا ہے نہ مٹایا جا سکتا ہے۔کافروں نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے سینے پر دہکتے ہوئے پتھر رکھے اور کہا: محمد کا نام چھوڑ دو! لیکن بلال کے لبوں سے جو صدا بلند ہوئی وہ تھی عشق کا اور توحید کا اعلان۔ چراغِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ جسے بجھانے کی کوشش کی گئی، وہ بجھنے کے بجائے اور روشن ہوا۔
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو تیر مار کر شہید کیا گیا — صرف اس لیے کہ وہ اپنے دل سے محبتِ رسول ﷺ کو نہیں نکال سکیں۔ انہوں نے اپنی جان گنوائی، مگر نبی ﷺ کی محبت کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔
حضرت عمار بن یاسر، حضرت خباب بن ارت، حضرت صہیب حبشی، حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہم جیسے معزز صحابہ پر بھی ابتدائی دور میں ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ کبھی گرم تیل میں ڈالا گیا، کبھی سولی پر چڑھایا گیا، مکوں اور لاتوں سے زدو کوب کیا گیا مگر ان کے سینوں سے عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو کم نہ ہوئی۔ ان کی زبانوں پر حضور ﷺ کے ترانے گونجتے رہے اور دنیا نے دیکھا کہ جتنا دباؤ بڑھا، اتنا ہی عشق میں اضافہ ہوا۔ ایمان کے قافلے روز بروز لمبے ہوتے گئے اور کفار حیرت و مایوسی میں ڈوب گئے۔
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا، جتنا کہ دبا دو گے
جب عشقِ رسول ﷺ دل و جان میں سرایت کر جائے تو انسان کے لیے کوئی قیمت زیادہ نہیں رہتی۔ عاشق اپنے آقا ﷺ کے لیے صرف ایک جان نہیں، بلکہ دو جہاں بھی قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ دنیا کی دولت، شہرت اور یہاں تک کہ اپنی زندگی کی ہر آسائش بھی اُس کے دل میں کم لگتی ہے۔ دل میں محمد ﷺ کی محبت کا چراغ جلنے لگے تو ہر خوف مٹ جاتا ہے، ہر رکاوٹ چھوٹ جاتی ہے، اور عاشق صرف ایک مقصد کے لیے جیتا ہے: اپنے نبی ﷺ کی رضا اور ان کی محبت میں فنا ہو جانا۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں، دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
جان ہے عشقِ مصطفیٰ، روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ، ناز دوا اُٹھائے کیوں
اے ہندوستان کے تعصب پرست اربابِ اقتدار!
کان کھول کر سن لو! تم چاہے کتنی ہی کوششیں کر لو، اسلام کو مٹانے کے خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوں گے۔ تمہارے ظلم و ستم کے طوفان ناکام و نامراد رہیں گے، مگر عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا چراغ مسلمانوں کے سینوں میں ہمیشہ فروزاں رہے گا۔ تم چاہے زبانوں پر پابندی لگاؤ، مگر ان لبوں پر محبتِ رسول ﷺ کے نغمے گونجتے رہیں گے۔ تم یہ مت بھولو کہ آج تم تختِ اقتدار پر ہو، کل یہ کرسی تمہارے نیچے نہیں ہوگی۔ مگر ہمارے نبی ﷺ کی محبت کا اعلان آج بھی ہے، کل بھی تھا اور صبحِ قیامت تک گونجتا رہے گا۔ یہ محبت کا پرچم ہر سنّی مسلمان کے گھر پر لہراتا رہا ہے اور ہمیشہ لہراتا رہے گا۔
یہی عشق ہماری پہچان ہے، یہ ہمارا فخر ہے، اور ہماری قربانیاں اس کا ثبوت ہیں۔ ظلم کی تاریکیاں چاہیں جتنی گہری ہوں، مگر عشقِ مصطفٰی ﷺ کی روشنی اُن سب کو چیر کر نکلے گی۔
اندھیری رات کو یہ معجزہ دکھائیں گے ہم
چراغ اگر نہ جلا تو دل کو جلائیں گے ہم
ہماری کوہ کنی کے ہیں مختلف معیار
پہاڑ کاٹ کے رستے نئے بنائیں گے ہم
🌹 I LOVE MOHAMMED 🌹 ﷺ 🌹
🌹 عشقِ رسول ﷺ زندہ باد 🌹
🌹 ناموسِ رسالت ﷺ پر جان بھی قربان 🌹
19ستمبر2025