26/11/2024
Youtube link: https://youtu.be/6ETi5dnmi40
سنی سیرت کوئز (اول)چند معروضات
تبصرہ ومعروضہ نگار: ڈاکٹر غلام ربانی فداؔ
مدیر: جہانِ نعت ہیرور،کرناٹک
[email protected]
چند دنوں قبل ۲۰۲۴ میں دیار سیدنا بندہ نواز گیسو دراز علیہ الرحمہ، گلبرگہ شریف پرایک عزیز کے یہاں محفل میلاد النبی ﷺ میں حاضر ی کا اتفاق ہوا انہوں نے محفل کے اختتام پر ایک کتابچہ بنام '' سنی سیرت کوئز (اول)''میرے حوالے کیا۔ اس کتابچہ کے نام سے ہی اس کی نوعیت کا اندازہ ہو گیا،اس طرح کے درجنوں مطبوعہ کتابچے اور کتاب مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔مجھے لگا کہ اس کتابچہ کی ترتیب اور پیشکش میں کچھ جدت ہو گی اس لحاظ سے میں نے اس عزیز سے کتاب کے مرتب کے سلسلے میں جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ اسی شہر میں ایک معروف اور قدیم دینی ادارہ '' دارالعلوم رضائے مصطفیٰ '' کے نام ہے اسی دارالعلوم کے فارغ التحصیل ہیں اور فی الوقت وہیں پر وہ بحیثیت استاد خدمات پر مامور ہیں ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ'' مصباحی'' ہیں ان کی یہ دی گئی معلومات میں نے اس لیے درج کی ہے کہ پوری کتاب کی ورق گردانی کے بعد بھی کہیں سے یہ بات معلوم نہ ہو سکی کہ یہ'' دارالعلوم رضائے مصطفیٰ '' کے استاد ہیں اور'' مصباحی'' ہیں۔اس کتاب میں اپنے نام کے آگے'' مصباحی ''نہ لکھنے یا خود کو ''دارالعلوم رضائے مصطفی ''کا استاد نہ لکھنے کے پیچھے کیا حکمتیں اور مصلحتیں ہو سکتی ہیں وہ مرتب بہتر جانیں! یہاں ایک خاص بات بتا دوں کہ یہ کتاب سوالات و جوابات اردو کے ساتھ ''رومن اردو ''پر بھی مشتمل ہے لہذا سر ورق پر بھی اس کتابچہ کا نام اردو کے ساتھ ساتھ'' رومن اردو ''میں بھی درج کیا گیا ہے جبکہ مرتب کا نام اردو میں نہیں بلکہ فقط '' رومن اردو'' میں MOHAMMED ANWARULJUNAIDI M,A(History)درج ہے اس کتاب کے ناشر کے طور '' البلاغ دارالاشاعت'' سلطان میڈیکل، ابوبکر کالونی، گلبرگہ شریف ،کرناٹک درج ہے جبکہ تقسیم کارمیں'' برکاتی بک ڈپو''عمران گیسٹ ہاؤس،عقب خواجہ بازار، گلبرگہ شریف ،کرناٹک کانام درج ہے۔کتاب کے اندرونی صفحہ پر حسب فرمائش میں جناب شیخ محمد مقصود صاحب رحمت نگر گلبرگہ شریف مخیر دارالعلوم رضائے مصطفیٰ کا نام درج ہے'' مخیر'' یہاں پر نہ جانے کس معنی کر کے مرتب نے استعمال کیا ہے یہ انہی کو معلوم لغت میں '' مخیر'' کا معنی نہایت نیک،خیرات کرنے والا، سخی، فیاض درج ہے۔کتاب ملنے کے پتے میں'' المصباح کتاب گھر ''گلبرگہ اور''مکتب جنیدیہ شیخ روضہ گلبرگہ اور'' مدرسہ فیض نوری'' جیلان آباد گلبرگہ کا نام درج ہے۔
پیش لفظ میں مرتب نے اس بات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کا دو تہائی حصہ صرف محبت کے باب پر مشتمل ہے اور اس ضمن میں انہوں نے چند آیتیں درج کی ہیں جو حب سے تعلق رکھتی ہیں مرتب نے مطلقا لکھ دیا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کا دو تہائی حصہ محبت پر مشتمل ہے لیکن انہوں نے نوعیت کو واضح نہیں کیا ہے کتاب سیرت کوئز پر مشتمل ہے تو بہتر یہی تھا کہ ان آیات کو درج کرتے جس کا تعلق محبت رسول ﷺ سے ہو لیکن ایسا نہ کرکے ان آیات کو درج فرمایا ہے جن میں فقط لفظی تعلق و مماثلت مل گئی ہے۔ وہ چاروں آیت کریمہ جو درج ہے وہ کچھ اس طرح ہے جسے پڑھنے کے بعد آپ اندازہ کرسکیں گے کہ ان آیات کا یہاں درج کرنا کتنا مناسب تھا اورکیا مناسبت تھی۔
۱۔ قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ (سوروئہ بقرہ ۳۱)
۲۔ الَّذِینَ ئَامَنُوٓا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّہِ(سو رئہ بقرہ ۱۶۵)
۳۔ وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَیٰ حُبِّہِ(دہر۸)
۴۔ لَن تَنَالُواالْبِرَّ حَتَّیٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران ۹۲)
پہلی آیت مبارکہ کا تعلق اطاعت رسول ﷺ سے ہے جو لوگ خدا کی محبت کا دعوی کرتے تھے ان سے اطاعت رسول کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری آیت مبارکہ کا تعلق بھی اللہ کی محبت سے ہے ۔تیسری آیت کا تعلق بھی بعض تفسیر کے مطابق اللہ کی محبت سے ہے۔ چوتھی آیت کا تعلق اپنی محبوب ترین چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہے۔
پتہ نہیں مرتب کس قسم کی محبت سمجھاناچاہ رہے رہیں پھر اس ضمن میں انہوں نے جو احادیث درج کی ہے اور ساری کی ساری احادیث مبارکہ محبت رسول علیہ الصلوۃ والسلام پر مشتمل ہے اور وہ چار حدیث مبارکہ کچھ اس طرح ہے۔
لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ و ولدہ و الناس أجمعین.
یا رسول اللہ، لانت احب إلی
ان یکون اللہ ورسولہ احب الیہ مما سواھما
ادبوا اولادکم علی ثلاث خصال حب نبیکم وحب اھل بیت وقرأۃ القراٰن۔
لہذا مرتب کا اس ضمن میں کہ '' تعلیمات اسلام کا دو تہائی حصہ صرف محبت کے باب پر مشتمل ہے '' ساری حدیثوں کو محبت رسول کے متعلق پیش کرنا اور آیات مبارکہ کو عموم رکھنا یہ تطبیق مجھ پر واضح نہیں ہو سکی۔
اس کتاب کے متعلق مرتب نے ''کتاب کی تفصیلات'' کے تحت چند باتوں کا اظہار کیا ہے اسی ضمن میں لکھتے ہیں:
ا''اردو سے واقف طلبہ کے علاوہ غیر اردو داں طلبہ تک سیرت النبی کی معلومات پہنچانے کے لیے سوالات و جوابات کو رومن انگلش میں بھی لکھ دیا گیا ہے تاکہ وہ بھی حضور کی سیرت سے واقف ہو سکیں۔ ''
مرتب کو ''رومن انگلش'' کے بجائے ''رومن اردو'' لکھنا چاہیے تھا شاید باریک فرق پر توجہ نہ دی ہو۔
'' کتاب کی تفصیلات ''کے ضمن میں تاریخ 10/ نومبر 2019ء درج ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب بہت پہلے ترتیب پا گئی تھی اور کافی دنوں سے زیورطباعت سے آراستہ ہونے کی منتظر تھی۔
جہاں تک کتاب میں سوال و جواب میں مستعمل الفاظ و تراکیب کی بات ہے تو اسے حتی المقدورسہل اور آسان رکھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن بعض جگہوں پر تذکیر و تانیث میں چوک ہو گئی ہے اسی طور پر’’سنی سیرت کوئز‘‘کی مناسبت سے بعض سوالات اضافی یا مقصد سے ہٹ کر معلوم ہوتے ہیں اور بعض سوالات کے الفاظ میں ترمیم کیے جا سکتے تھے یا سوالات کی نوعیت کو بدلا جا سکتا تھا۔
مثال کے طور پر سوال نمبر (7)کو دیکھیں'' ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دادی جان کا کیا نام ہے؟
(ج)حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا یہاں پر حضرت فاطمہ بنت عمروکر دیا جاتا تو زیادہ مناسب تھا کیونکہ حضور کی صاحبزادی کا نام بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا ہے اور زیادہ معروف ہیں جس کی بنیاد پر کم عمر بچوں کو ایک طرح سے شبہ ہو جاتا ہے کہ ایسا تو نہیں ہے کہ جواب یہاں پر غلط درج کیا گیا ہے۔
اسی طرح سوال نمبر(14) کو دیکھیں۔''حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کس مہینے کی کس تاریخ کو ہوئی؟
(ج) بارہ ربیع الاول کو ہوئی۔
جواب تو درست ہے مگر سوال کی ترتیب کے اعتبار سے جواب کو کچھ اس طرح تیار کیا جانا چاہیے تھا کہ ماہ ربیع الاول کی ۱۲ تاریخ کو ہوئی۔
اسی طرح سوال نمبر(17) کو دیکھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت کیا ظاہر ہوا؟
(ج)ایک ایسا نور ظاہر ہوا جس سے مکہ والوں کو شام کے محلات نظر آنے لگے۔
سوال کے ضمن میں یہ جواب نا کافی ہے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ صرف نور ظاہر ہوا اور اس نور کی روشنی میں شام کے محلات ظاہر ہو گئے بلکہ حضور کی ولادت کے وقت بہت ساری علامتیں ظاہر ہوئیں لہذا سوال کو اس نوعیت سے تیار کیا جانا چاہیے تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت ظاہر ہونے والے چند علامات یا خرق عادات چیز کو بیان کریں۔
اسی طرح سوال نمبر(21)کو دیکھیں کہ'' نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سب سے پہلے کہاں ہوئی؟
(ج) ہندوستان کی سرزمین[ سراندیپ]پر۔
جواب کو واضح کرنا چاہیے تھا کہ اس سرزمین پر حضور کے نور کی آمد کس شکل میں ہوئی جواب انتہائی مبہم اور غیر واضح ہے لہذا یا تو سوال کی نوعیت کو بدلنا چاہیے تھا یا پھر جواب کو واضح طور پر لکھنا چاہیے تھا۔ دوسری بات یہ کہ یہاں پر سرزمین کے لیے سراندیپ کے لیے قوسین مربع کا استعمال بھی درست نہیں ہے اور قوسین مربع بھی درست نہیں دیا گیا ہے۔
اسی طرح سوال نمبر 23 اور 24 کو دیکھیں کہ(23)'' حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کتنی بار چاک کیا گیا؟
(ج)چار بار۔
سوال (24)کن کن مواقع پر کیا گیا؟
(ج)جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حلیمہ کے گھر میں تھے (۲) دس سال کی عمر میں (۳)غار حرا میں (۴) شب معراج میں۔
مناسب ہوتا کہ مزید سوال قائم کرتے کہ ان مواقع پر حضور کے سینے چاک کیوں کیے گئے اور اس کا جواب بھی درج کر دیا جاتا تو بہت ہی بہتر ہوتا۔
اسی طرح سوال نمبر ون ۲۹ اور۳۰ کو دیکھیں ''ہمارے نبی کی کتنی بیویاں تھیں؟
(ج) گیارہ بیویاں تھیں۔
سوال(۳۰) کیا آپ ان سب کے نام بتا سکتے ہیں؟ جی ہاں۔
اب یہاں پر حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی ارواج مطہرات کے اسما شمار کرائے گئے ہیں لیکن حضور کی زوجیت میں جس ترتیب سے آئیں اس ترتیب کی رعایت نہیں کی گئی ہے کیا ہی بہتر ہوتا کہ نام شماری کے وقت اس ترتیب کا بھی خیال رکھا جاتا۔
اسی طرح سوال نمبر (34) ہمارے نبی کے کتنے نام ہیں؟
(ج) 1400 نام ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ حضور کے نام دو ہی ہیں احمد اور محمد بہتر ہوتا کہ یہاں پر یہ بتا دیا جاتا کہ چودہ سو نام کی کیا نوعیت ہے یہ بات ہم نے اس لیے لکھ دی کہ خود سوال نمبر 161 میں ہے کہ ''حضور کے ذاتی نام کتنے ہیں؟(ج) دو ہیں۔ محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم
لہذا ایک طرف یہ سوال کرنا کہ حضور کے ذاتی نام کتنے ہیں اور اس کا جواب درج کرنا دوسری طرف یہ سوال کرنا کہ ہمارے نبی کے نام کتنے ہیں اور پھر 1400 بیان کرنا تو کہیں نہ کہیں ذہن کو یہ خلجان میں ڈال دیتا ہے لہذا سوالات اور جوابات کے نوعیت میں قدر تبدیلی لانی چاہیے اور اس کی وضاحت کی جانی چاہیے۔
اسی طرح سوال نمبر(35)''زمین و آسمان میں ہمارے نبی کا کیا نام ہے؟
(ج) زمین میں'' محمد'' آسمان میں'' احمد'' اور زمین کی نیچے ''محمود'' صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
جواب میں زمین کی نیچے حضور کے'' محمود'' نام ہونے کو بھی بیان کیا گیا ہے جبکہ سوال میں ایسی کوئی بات نہیں پوچھی گئی ہے لہذا مناسب یہ تھا کہ سوال کی نوعیت کو بدل دیا جاتا کہ ہمارے حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو کہاں کہاں کس کس نام سے پکارا جاتا ہے یا جواب لکھنے میں سوال پر اکتفا کیا جاتا۔
اسی طرح سوال نمبر (36) قرآن مجید میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے نام آئے ہیں؟
(ج) میں سات نام شمار کرائے گئے ہیں محمد، احمد، طہ، یاسین، مزمل مدثر، عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔یہاں پر بھی نام شمار کرانے میں ذاتی اور صفاتی نام کے درمیان امتیاز نہیں برتا گیا ہے ورنہ قرآن پاک میں حضور کو شاہد،مبشر نذیر،سراج وغیرہ کہہ کر کے بھی پکارا گیا ہے جو حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے صفاتی اسما میں سے ہیں لہذا یہاں پر بھی یا تو سوال کی نوعیت کو بدلنا چاہیے تھا یا جواب کی وضاحت کرنی چاہیے تھی ۔ ان اسما میں ایک اسم ''عبداللہ'' بھی شمار کرایا گیا ہے ہم نے بڑی کوشش کی کہ قرآن پاک میں کہیں لفظ عبداللہ مل جائے لیکن یہ نام ہم کوشش کے باوجود بھی نہ پا سکے۔
اسی طرح سوال نمبر (36) اور سوال نمبر (161) اور(162)پر آپ غور کریں گے تو الجھن میں پڑ جائیں گے کہ صحیح ہے کیا۔ سوال نمبر(36)میں پوچھا گیا کہ'' قرآن مجید میں حضور کی کتنے نام آئے ہیں؟تو اس کے جواب میں سات نام شمار کرائے گئے۔ محمد، احمد، طہ، یاسین، مزمل مدثر، عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سوال نمبر (161) میں پوچھا گیا کہ'' حضور کے ذاتی نام کتنے ہیں؟''(ج)دو احمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم پھر سوال نمبر (162) میں پوچھا گیا کیا ''قرآن مجید میں یہ نام آئے ہیں''(ج) جی ہاں چار جگہ محمد اور ایک جگہ احمد نام آیاہے۔ اب دیکھیں کہ سوال نمبر(36) میں پوچھا جا رہا ہے کہ قرآن مجید میں حضور کے کتنے نام آئے ہیں تو اس کے جواب میں سات نام شمار کرائے گئے اور پھر (162) نمبر سوال میں پوچھا گیا کہ کیا قرآن مجید میں حضور کے نام آئے ہیں تو جواب میں یہ کہا گیا کہ چار جگہ محمد اور ایک جگہ احمد آیا ہے۔لہذا سوالات کی نوعیت یا نام کے نوعیت کی وضاحت نہ ہونے کے سبب بڑا شبہ ہو جاتا ہے۔
اسی طرح بعض سوالات و جوابات میں بڑا ابہام بھی موجود ہے جسے واضح کرنا چاہیے تھا مثال کے طور پر سوال نمبر(65) ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کون سا کام کیا کرتے تھے؟(ج)تجارت کیا کرتے تھے۔
جواب سے ایک شبہ ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی پوری زندگی تجارت کی ہے جبکہ اعلان نبوت کے بعد حضور کے تجارت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے لہذا اس سوال کی نوعیت کو بدل کر لکھا جانا چاہیے تھا تاکہ واضح ہو جاتا کہ حضور کی تجارت کا تعلق اعلان نبوت سے پہلے ہے اور اس مدت کب تک ہے۔
سوال نمبر(120)علم کسے کہتے ہیں؟(ج) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جاننے کا نام علم ہے۔
یقینا یہ جواب اطمینان بخش نہیں ہے لہذا حضور کے جاننے کا نام علم کی نوعیت کیا ہے اس کو یہاں پر واضح کرنا چاہیے تھا۔
سوال نمبر(153)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کملی والا کیوں کہا جاتا ہے؟ (ج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کندھے پر اکثر کمبل ڈالا کرتے تھے اس لیے آپ کو کملی والا کہا جاتا ہے۔
اس سوال و جواب پر دو باتیں ایک تو یہ کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو عموماََ کملی والا نہیں بلکہ کالی کملی والا کہا جاتا ہے دوسری بات یہ کہ اس نوعیت کے سوال کوشامل نہیں کیا جانا چاہیے جس لفظ میں علما کا اختلاف ہو لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کالی کملی والا کہنے یا نہ کہنے میں علما کا شدید اختلاف پایا جاتا ہے لہذا مناسب یہ ہوتا کہ اس طرح کے سوالات کو نظر انداز کر دیا جاتا۔
یہ چند باتیں ہیں جو ہم نے بطور نمونہ یہاں پر رکھی ہیں ورنہ کتاب کے بیشتر سوالات اور جوابات سے اطمینان نہیں کیا جا سکتا ہے کہیں کہیں احساس ہوتا ہے کہ سوالات کی نوعیت کو بدلہ جانا چاہیے تھا کہیں پر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جواب کی نوعیت کو بدلاجانا چاہیے تھا بعض سوالات و جوابات کے پڑھنے کے بعد اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ اس سوال کے جواب کے بعد مزید سوالات قائم کر کے اس کی وضاحت کی جانی چاہیے۔لہذا کیا ہی مناسب ہوتا کہ کتابچہ کو ترتیب دئیے جانے کے بعد کسی اہل نظر سے اور اہل تحقیق سے دکھا لیا جاتا تو یہ جو کمیاں یا خامیاں رہ گئی ہیں اس سے یہ کتابچہ محفوظ ہو جاتا۔
چند باتیں اردو زبان کے حوالے سے بھی جان لیں کہ پوری کتاب میں مرتب نے جدید اردو رسم الخط کی بالکل بھی رعایت نہیں کی ہے مرتب پر یہ ضروری تھا کہ جدید اردو رسم الخط کی رعایت کرتے تاکہ اردو اپنے صحیح رسم الخط کے ذریعے قارئین تک پہنچتا بالخصوص چھوٹی عمر کے بچے تک جو اردو خواں ہیں ورنہ وہ اس طرح کے رسم الخط کو دیکھنے کے بعد یہ محسوس کریں گے کہ غالبایہی درست ہے جبکہ جدید رسم الخط کے اعتبار سے یا تو وہ غلط ہے یا موزوں نہیں ہے مثال کے طور پر پوری کتاب میں ''کیے'' کو ''کئے'' لیے''کو ''لئے'' لکھا گیا ہے اسی طور پر بیشتر مقام پر ترکیب اضافی اور ترکیب توصیفی کی جدید رسم الخط میں رعایت نہیں کی گئی ہے یا ہر جگہ ایک ہی رسم الخط کا التزام نہیں کیا گیا ہے۔ مثلاً بعض مقام پر '' انبیا ے کرام'' تو بعض مقام پر '' انبیاء کرام '' لکھے گئے ہیں۔اسی طرح سے بعض سوالات اور جوابات میں مشتمل اردو الفاظ بھی جو کہ بعض مقام پر رومن اردو کے قالب میں ڈھالے گئے ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں مرتب نے تلفظ درستگی پر توجہ نہیں دی ہے یا عین ممکن ہے کہ ابھی تک اس لفظ کی درستگی ان پر بھی واضح نہیں ہے۔مثال کے طور پر سوال نمبر(57) کتنی عمر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا؟ اس سوال میں ایک لفظ نبوت کا استعمال کیا گیا ہے نون پر پیش کے ساتھ صحیح تلفظ ہے جس کورومن اردو میں ''Nubuwwat'' لکھا جانا چاہیے لیکن ’’Nabuwwat‘‘ لکھا گیا ہے جو کہ غلط ہے ۔
اسی طرح بہت سارے سوالات اور جوابات میں قدر عمومیت پیدا کر دی گئی ہے جس سے لگتا ہے کہ اس سوال کو اس نوعیت سے ترتیب دیا جانا چاہیے تھا کہ جس کا تعلق سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو یا پھر اس سوال کو اگر نہ بھی ڈالا جاتاتو کتابچہ کے نام کی مناسبت سے تو کوئی حرج نہ تھا مثال کے طور پر سوال نمبر (71) ابلیس جنت سے کیوں نکالا گیا تھا؟جواب کیونکہ اس نے حضرت آدم کو سجدہ نہیں کیا تھا اور نبی کی توہین کی تھی۔
اس سوال اور جواب کا تعلق سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ رہ کر سیرت آدم علیہ السلام سے ہو جاتا ہے اسی طور پر سوال نمبر(72 )کس نبی نے چاند کے ٹکڑے کیے تھے؟ سوال نمبر (73 )کس نبی نے ڈوبے سورج کو واپس پلٹایا؟ اب ان دونوں سوالوں پر غور کریں تو ان دونوں سوالوں کی نوعیت کو بدل کر اس انداز میں پوچھا جا سکتا تھا کہ اس کا تعلق بلاواسطہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے ہو جاتا مثال کے طور پر حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے کس موقع سے چاند کے دو ٹکڑے کیے تھے،حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈوبے ہوئے سورج کو کس موقع سے واپس لایا تھا وغیرہ تو سوال میں تخصیص پیدا کرنے کی بجائے عمومیت پیدا کر دی گئی ہے بہتر ہوتا کہ ان سوالات میں تخصیص اس طرح سے پیدا کر دی جاتی کہ سوال کو پڑھنے کے بعد ہی سمجھ میں آ جاتا کہ اس کا تعلق حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت سے ہے۔
اسی طرح سے یہ سنی سیرت کو ئز کے آگے اول بھی لکھا ہوا ہے مناسب یہ ہوتا کہ سوالات اور جوابات کو اس انداز میں ترتیب دئیے جاتے کہ حضور کی سیرت کا ایک ہی پہلو اولا سوال و جواب کی شکل میں ہو پھر دوسرا پہلو سوال و جواب کی شکل میں ہو۔
� مناسب ہوتا کہ ہر سوال و جواب کے نیچے حوالے درج کر دیے جاتے ۔ بجائے اس کے انہوں نے بطور ماخذ و مصادر کے قرآن مجیدکے علاوہ نو کتابوں کے نام آخیر میں شمار کرا دئیے ہیں ان ماخذو مصادر میں بھی انہوں نے مصنف کا نام درج نہیں کیا ہے اور نہ ہی مطبع لکھا ہے کیا ہی مناسب ہوتا کہ حوالے کو مکمل طور سے واضح کر دیا جاتا کہ ان کتابوں کے مصنف کون ہیں اور اس کی طباعت کہاں سے ہوئی ہے اور کس سن میں ہوئی ہے تاکہ اگر قارئین رجوع کرنا چاہے تو انہیں آسانی ہو سکے۔
پھر بھی میں اس کوشش پر مولانا انور جنیدی کو مبارکبادی دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اپنی اس ترتیب پر نظر ثانی فرمائیں گے اور جو کچھ ان سے چونک ہوگئی ہے یا ایک کتابچہ کی معنویت میں جن پہلوؤں سے کمی رہ گئی ہے ائندہ ایڈیشن میںاس کو پوراکرنے کی کوشش کریں گے