U.A.E online shoping

U.A.E online shoping Typically replies with few minutes

06/11/2019
03/11/2019

بے وفا عورت دو ٹکے کی ہوتی ہے.
دو ٹکے کی عورت پچاس ملین کی ہوتی ہے.
اگر عورتیں دو دو ٹکے کے مرد بیچنے لگیں تو نوے فیصد عورتیں ملینئر ہو جائیں.
😐

29/05/2019

مرد کے کئی روپ

1۔صبح صبح دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ چارپائی سے اٹھے دروازہ کھولا تو سامنے ان کی بڑی بیٹی اپنے دو بچوں سمیت کھڑی تھی۔ "ارے عائشہ تم اس وقت؟ نعمان کہاں ہے؟ چھوڑنے نہیں آیا؟"
"انہوں نے مجھے طلاق دے دی ہے بابا" لڑکھڑاتی ہوئی آواز جیسے ہی ان کے کانوں میں پڑی کچھ لمحوں کے لیے جیسے ان پر سکتہ طاری ہو گیا۔ بیٹی کو گلے سے لگایا۔ کچھ بھی پوچھنے کی بجائے اپنی آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے بولے "بابا ابھی زندہ ہیں میرے بچے بابا ابھی زندہ ہیں۔ ۔ ۔"
جوان بیٹی کی طلاق نے ان باریش بزرگ کی کمر توڑ تو دی تھی مگر وہ اپنے آنسو بیٹی سے چھپا کر اسے تسلیاں دینے میں لگ گئے۔

2۔ سارے راستے وہ یہیں سوچتا آیا کہ کس طرح بیوی کو اپنی ملازمت سے نکالے جانے کا بتائے۔ عید سر پر تھی۔ جیب خالی تھی۔ ملازمت اب پتہ نہیں دوبارہ کب ملنی تھی۔ انہیں پریشانیوں میں گھرا وہ گھر پہنچا۔ "آگئے آپ؟ تھکے ہوں گے۔ آرام کر لیں۔ پھر شام کو شاپنگ کے لیے چلیں گے۔ چند ہی دن رہ گئے ہیں عید سے۔"
اس ایک جملے نے ان تمام جملوں کو مات دے دی جو وہ سارے راستے ذہن میں بناتا آیا تھا۔

چہرے پر مسکراہٹ سجائی اور گویا ہوا
"ہاں کیوں نہیں ضرور۔ شام کو تیار رہنا۔"
اور پھر ایک اور پریشانی نے زہن کو منتشر کر دیا۔ قرض کس سے اٹھاوں اب۔ ۔ ۔

3۔ دوپہر کا وقت تھا۔ شدید گرمی کا مارا ہوا وہ کام سے لوٹتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ زور سے دروازہ بج اٹھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے چھوٹی بہن کھڑی تھی۔ ہاتھ پاوں پھولے ہوئے تھے۔ آنکھیں پانی سے بھری ہوئی اور سانس اکھڑا ہوا۔ اس کا دل زور سے دھڑکا
"کیا ہوا میری شہزادی کو۔ کسی نے کچھ کہا؟"
"بھیا وہ گلی میں۔ ۔ میں کالج سے واپس آرہی تھی۔ تو۔ گلی میں کچھ لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے۔ روزانہ تنگ کرتے ہیں مگر آج تو حد ۔ ۔ ۔ حد ہی کر دی"
اتنا سنتے ہی غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ وہ باہر کی طرف بھاگا۔ گلی میں پہنچا کوئی نہیں تھا۔ وہ واپس آیا۔ بہن کو پانی پلایا اور اس دن سے آج تک وہ کام پہ جانے سے پہلے خود بہن کو کالج چھوڑ آتا ہے اور واپسی پر خود ہی لے آتا ہے۔

4۔ میرے دوست کی ماں کا آپریشن تھا۔ ہسپتال جاتے ہوئے سارے راستے میں یہیں سوچتا رہا کہ آپریشن کے لیے اتنی بڑی رقم کاانتظام کیسے کیا اس نے۔ ہسپتال پہنچا تو وہ ایک طرف کرسی پر نڈھال پڑا تھا۔ ایک لمحے کو مجھے
لگا کہ جیسے آپریشن اس کا ہوا ہے۔ جب نزدیک پہنچا تو وہ مجھے شدید بیمار لگا۔ پیٹ کے ایک طرف ہاتھ رکھے ہو ئے تھا۔
"کیا ہوا ہے یار۔ تم ٹھیک تو ہو؟ "
وہ زبردستی مسکرایا "ہاں میں ٹھیک ہوں"
اسی لمحے کچھ سوچ کر میں لرزا گیا۔ میں نے مشکوک انداز میں اس سے پوچھا
"پیسے کہاں سے آئے؟ کہیں تم نے۔ ۔ ۔"
"ہاں ایک گردہ بیچ دیا ۔ ماں سے بھی بڑھ کر کچھ ہے بھلا۔ ۔ ۔"

ہم اکثر مرد کا ایک ہی روپ ہی دیکھتے ہیں کہ وہ ظالم جابر اور ہوس پرست ہے۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مرد کے اور بھی کئی روپ ہیں۔ وہ باپ بیٹا بھائی اور شوہر کی شکل میں عورت کا محافظ بھی ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں جاہلیت کی وجہ سے مرد کو ہی تمام حقوق حاصل ہیں۔ مرد حاوی ہے۔ عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ مگر اسی معاشرے میں وہ مرد بھی موجود ہیں جو خود کو دھوپ میں رکھ کر اپنے گھر کی خواتین پر چھاوں کیے ہوئے ہیں۔💙💙

29/05/2019

مرد کے کئی روپ💯

1۔صبح صبح دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ چارپائی سے اٹھے دروازہ کھولا تو سامنے ان کی بڑی بیٹی اپنے دو بچوں سمیت کھڑی تھی۔ "ارے عائشہ تم اس وقت؟ نعمان کہاں ہے؟ چھوڑنے نہیں آیا؟"
"انہوں نے مجھے طلاق دے دی ہے بابا" لڑکھڑاتی ہوئی آواز جیسے ہی ان کے کانوں میں پڑی کچھ لمحوں کے لیے جیسے ان پر سکتہ طاری ہو گیا۔ بیٹی کو گلے سے لگایا۔ کچھ بھی پوچھنے کی بجائے اپنی آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے بولے "بابا ابھی زندہ ہیں میرے بچے بابا ابھی زندہ ہیں۔ ۔ ۔"
جوان بیٹی کی طلاق نے ان باریش بزرگ کی کمر توڑ تو دی تھی مگر وہ اپنے آنسو بیٹی سے چھپا کر اسے تسلیاں دینے میں لگ گئے۔

2۔ سارے راستے وہ یہیں سوچتا آیا کہ کس طرح بیوی کو اپنی ملازمت سے نکالے جانے کا بتائے۔ عید سر پر تھی۔ جیب خالی تھی۔ ملازمت اب پتہ نہیں دوبارہ کب ملنی تھی۔ انہیں پریشانیوں میں گھرا وہ گھر پہنچا۔ "آگئے آپ؟ تھکے ہوں گے۔ آرام کر لیں۔ پھر شام کو شاپنگ کے لیے چلیں گے۔ چند ہی دن رہ گئے ہیں عید سے۔"
اس ایک جملے نے ان تمام جملوں کو مات دے دی جو وہ سارے راستے ذہن میں بناتا آیا تھا۔

چہرے پر مسکراہٹ سجائی اور گویا ہوا
"ہاں کیوں نہیں ضرور۔ شام کو تیار رہنا۔"
اور پھر ایک اور پریشانی نے زہن کو منتشر کر دیا۔ قرض کس سے اٹھاوں اب۔ ۔ ۔

3۔ دوپہر کا وقت تھا۔ شدید گرمی کا مارا ہوا وہ کام سے لوٹتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ زور سے دروازہ بج اٹھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے چھوٹی بہن کھڑی تھی۔ ہاتھ پاوں پھولے ہوئے تھے۔ آنکھیں پانی سے بھری ہوئی اور سانس اکھڑا ہوا۔ اس کا دل زور سے دھڑکا
"کیا ہوا میری شہزادی کو۔ کسی نے کچھ کہا؟"
"بھیا وہ گلی میں۔ ۔ میں کالج سے واپس آرہی تھی۔ تو۔ گلی میں کچھ لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے۔ روزانہ تنگ کرتے ہیں مگر آج تو حد ۔ ۔ ۔ حد ہی کر دی"
اتنا سنتے ہی غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ وہ باہر کی طرف بھاگا۔ گلی میں پہنچا کوئی نہیں تھا۔ وہ واپس آیا۔ بہن کو پانی پلایا اور اس دن سے آج تک وہ کام پہ جانے سے پہلے خود بہن کو کالج چھوڑ آتا ہے اور واپسی پر خود ہی لے آتا ہے۔

4۔ میرے دوست کی ماں کا آپریشن تھا۔ ہسپتال جاتے ہوئے سارے راستے میں یہیں سوچتا رہا کہ آپریشن کے لیے اتنی بڑی رقم کاانتظام کیسے کیا اس نے۔ ہسپتال پہنچا تو وہ ایک طرف کرسی پر نڈھال پڑا تھا۔ ایک لمحے کو مجھے
لگا کہ جیسے آپریشن اس کا ہوا ہے۔ جب نزدیک پہنچا تو وہ مجھے شدید بیمار لگا۔ پیٹ کے ایک طرف ہاتھ رکھے ہو ئے تھا۔
"کیا ہوا ہے یار۔ تم ٹھیک تو ہو؟ "
وہ زبردستی مسکرایا "ہاں میں ٹھیک ہوں"
اسی لمحے کچھ سوچ کر میں لرزا گیا۔ میں نے مشکوک انداز میں اس سے پوچھا
"پیسے کہاں سے آئے؟ کہیں تم نے۔ ۔ ۔"
"ہاں ایک گردہ بیچ دیا ۔ ماں سے بھی بڑھ کر کچھ ہے بھلا۔ ۔ ۔"

ہم اکثر مرد کا ایک ہی روپ ہی دیکھتے ہیں کہ وہ ظالم جابر اور ہوس پرست ہے۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مرد کے اور بھی کئی روپ ہیں۔ وہ باپ بیٹا بھائی اور شوہر کی شکل میں عورت کا محافظ بھی ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں جاہلیت کی وجہ سے مرد کو ہی تمام حقوق حاصل ہیں۔ مرد حاوی ہے۔ عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ مگر اسی معاشرے میں وہ مرد بھی موجود ہیں جو خود کو دھوپ میں رکھ کر اپنے گھر کی خواتین پر چھاوں کیے ہوئے ہیں۔💙💙

💯
27/05/2019

💯

 #
26/05/2019

#

24/05/2019

Maher.writes
سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ……..

سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا…..
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے ….

مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا…. ؟یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا …. میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا…..

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا …..

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……….

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کر دیں ……..اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے …..ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا …. ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے…بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا.

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا …..سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو……

ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔ اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں..!!
۔۔

Address

Ras Al Khor

Telephone

+971589826105

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when U.A.E online shoping posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to U.A.E online shoping:

Share