ISLAM the peaceful Relegion

ISLAM the peaceful Relegion Lets us join hands and strive to become the type of believer that Allah wants. Please like & Share this page
(8)

07/31/2019
02/05/2019

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا '' جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔

( صحیح مسلم 849 )

مانسہرہ کی 12 سالہ گوشی مانسہرہ لاری اڈہ میں رہنے والے خانہ بدوشوں کی بچی تھی ۔ بچی بارہ دسمبر کو مانسہرہ لاری اڈا سے لا...
01/23/2019

مانسہرہ کی 12 سالہ گوشی مانسہرہ لاری اڈہ میں رہنے والے خانہ بدوشوں کی بچی تھی ۔
بچی بارہ دسمبر کو مانسہرہ لاری اڈا سے لاپتہ ہوئی اور تین دن بعد قلندر آباد نالے سے اس کی نعش ملی .
نعش کے ساتھ وہ رومال بھی ملا ہے جس سے بچی کو پھندہ لگا کر قتل کیا گیا ۔ یہ رومال کسی ورکشاپ یا گاڑی میں استعمال ہوتا رہا ۔ بچی کو کسی ویران جھونپڑی میں جہاں بھیڑ بکریاں رکھی گئی ہوں میں لا کر ریپ کیا گیا ۔ .
بلیڈنگ ہونے کی وجہ سے اسکا دھڑ پانی میں ڈال دیا گیا تا کہ ریپ کا پتہ نہ چل سکے ۔ پانی میں رہنے کی وجہ سے دھڑ کی حالت خراب تھی اور بعد ازاں گاڑیوں کے گندے رومال سے پھندہ لگا کر اسے قتل کر کے نعش قلندر آباد کے قریب نکہ پانی پل سے نیچے بوری میں ڈال کر پھینک دی گئی
ہم زینب کو بھی نہیں بھولے۔ یہ سب ہماری بچیاں ہیں۔ تمام دوستوں سے درخواست ہے اس کے لیئے آواز اٹھایئں.
ایبٹ آباد کے ہمارے وکیل دوست عثمان کے مطابق میری پولیس والوں سے بات ہوئی لیکن وہ پولیس والوں کے رویئے سے زیادہ مطمئن نہیں۔ آیئے مل کر اس بچی کے لیے آواز اٹھایئں۔

11/07/2018

اتوار کے روز چکن خریدنے ایک مرغی والے کی دوکان پر گیا
تو عجب منظر دیکھا، لوگوں کا ایک ہجوم لگا ہوا تھا اور کسی چیز کی نیلامی ہورہی تھی، ایک آواز آئی’’پانچ سو‘‘۔۔۔دوسری آئی ’’ایک ہزار‘‘۔۔۔میں نے قریب کھڑے ایک صاحب سے پوچھا کہ کس چیز کی بولی لگ رہی ہے؟ اس نے نہایت عقیدت سے جواب دیا’’ معجزے کی‘‘۔۔۔میں بوکھلا گیا، تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ مرغی والے کے پاس ایک ایسی مرغی ہے جس پر قدرتی طور پر لفظ’’اللہ‘‘ لکھا ہوا ہے، سب لوگ اسے خریدنا چاہ رہے ہیں اور اسی کی بولی لگ رہی ہے۔‘‘ میرا اشتیاق بڑھا، مرغی والا اپناکام چھوڑ کر فخر سے ایک طرف کھڑا تھا اور بڑھتی ہوئی بولی پر نہال نظر آرہا تھا۔ میں نے بمشکل ہجوم میں جگہ بنائی اور آخر اس مقدس مرغی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ ایک درمیانے سائز کی دیسی مرغی تھی جس کے گلے میں مرغی والے نے موتیئے کے ہار ڈال کر اسے الگ سے رکھا ہوا تھا۔ میرے وہاں پہنچتے پہنچے مرغی کی بولی پانچ ہزار تک پہنچ چکی تھی.
میں نے غور سے مرغی کا جائزہ لیا لیکن مجھے کہیں بھی اللہ لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔ مرغی والے سے پوچھا تو اسے غصہ آگیا، اس نے جنگلے کے اندر ہاتھ ڈال کر مرغی کو ایک جھٹکے سے پکڑا اور اس کا دائیاں حصہ میری طرف کرتے ہوئے بولا’’یہ دیکھو‘‘۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر وہاں دیکھا لیکن پھر بھی کچھ نظر نہیں آیا، میں سمجھ گیا کہ ایک گنہگار ہونے کے ناطے میں یہ روح پرور منظر دیکھنے سے محروم ہوں لہذا آہ بھر کر پیچھے ہٹ گیا۔۔۔بولی آٹھ ہزار پر جارہی تھی۔بالآخر ڈیڑھ گھنٹے بعد مذکورہ مرغی پندرہ ہزار میں فروخت ہوگئی۔جن صاحب نے اسے خریدا ان کی خوشی دیدنی تھی، جب وہ مرغی حاصل کرچکے تو میں نے ان سے گذارش کی کہ پلیز ذرا مجھے بھی وہ نام دکھائیں جس کی وجہ سے آپ نے اتنی مہنگی مرغی خریدی ہے۔ انہوں نے نہایت اخلاق سے سرہلایا اور مرغی کی دائیں طرف ایک جگہ انگلی رکھ دی۔ اب کی بار میں نے پوری توجہ سے وہاں دیکھا لیکن کچھ سمجھ نہ آیا۔وہ صاحب بھی غالباً میری مشکل سمجھ گئے تھے لہذا انہوں نے اپنی انگلی سے مختلف پیچ و خم کے بعد ہر لکیر مجھے سمجھائی اور میں نے سر ہلا دیا۔۔۔تاہم یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ خود مرغی والے نے اتنی بابرکت مرغی فروخت کیوں کر دی؟
مجھے اسلامی تاریخ پڑھنے کا بہت شوق ہے تاہم میری کم علمی کہہ لیجئے کہ مجھے بار بار کھنگالنے کے باوجود ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں کسی پھل وغیرہ پر اس طرح سے کوئی نام لکھا ہوا نظر آیا ہو۔میں خدا کی قدرت کے نظارے جابجا دیکھتا ہوں اور ان میں کہیں بھی کوئی سقم نہیں پاتا، رنگ برنگے طوطے دیکھتا ہوں تو ان کے رنگوں میں کوئی جھول نظر نہیں آتا، تتلی کے پروں کو دیکھتا ہوں تو ہر لائن قدرت کی صناعی کی غماز نظر آتی ہے، پہاڑوں سے جھرونوں تک اللہ تعالیٰ کی کاریگری دور ہی سے پہچانی جاتی ہے لیکن میری پتا نہیں جب کوئی مجھے کسی جانور، روٹی یا آسمان پر بادلوں کے جھمگٹے میں ’’اللہ ‘‘یا اس کے رسول ﷺ کا نام لکھا ہوا دکھاتا ہے تو مجھے اپنی ناقص عقل کی وجہ سے اسے پڑھنے اور پہچاننے میں دشواری پیش آتی ہے۔میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو انٹرنیٹ پر سرچ کرتا ہوں تووہ بھی ایسی چیزیں دکھاتے نظر آتے ہیں جن میں ان کے دیوتاؤں کی تصاویر اور نام لکھے ہوتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ایک ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں ایک میاں بیوی کو بطور مہمان بلایا گیا، بیوی کی خاصیت یہ تھی کہ وہ جب بھی روٹی پکاتی تھی تو روٹی پر لفظ’’اللہ‘‘ لکھا ہوا آجاتا تھا اور شوہر کا کہنا تھا کہ اس کی کمر پر کلمہ لکھا ہوا ہے نیز خواب میں اسے حضور ﷺ نے پھول، دودھ کا گلاس اور ایک جائے نماز عطا کی تھی جو جاگنے کے بعد بھی اس کے پاس ظاہری حالت میں موجود رہی۔ مارننگ شو میں نہ صرف یہ ساری چیزیں بھی دکھائی گئیں بلکہ خاتون میزبان نے عقیدت اورآنسوؤں بھری آنکھوں سے ان سب چیزوں کو بوسہ بھی دیا۔
ٹھیک دو ماہ بعد خبر آئی کہ میاں بیوی دونوں جعلساز تھے ، دونوں پولیس کی حراست میں ہیں اور دونوں نے اپنا فراڈ قبول کر لیا ہے۔بیوی روٹی پکاتے ہوئے کچی روٹی پر اپنے بائیں ہاتھ کی پانچ انگلیاں زور سے ثبت کرتی ہے جس کی وجہ سے روٹی کا وہ حصہ دب جاتا ہے اور پکنے کے بعد جب روٹی کو سیدھا کیا جاتا ہے تو چھوٹی انگلی سے انگوٹھے تک جو نشان بنتا ہے چونکہ وہ’’اللہ‘‘ سے مشابہہ ہوتاہے لہذا لوگ ششدر رہ جاتے ہیں۔شوہر صاحب کی چالاکی یہ تھی کہ انہوں نے بازار سے ایک جائے نماز خریدی، دودھ کا ایک گلاس لیا اور کچھ پھول خرید کر انہیں دو دن تک مسلسل عطر میں ڈبوئے رکھا اور اسی دوران ’’ٹیٹو‘‘ بنانے والے سے اپنی کمر پر کلمہ طیبہ کھدوا لیا۔ لوگ چونکہ ایسی باتوں میں جذباتی ہوتے ہیں لہذا نہ کسی میں سچائی جاننے کی ہمت ہوئی نہ کوئی اعتراض ہوا۔دونوں میاں بیوی نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا کہ اس عمل کے بعد نہ صرف ان کی بے روزگاری یکدم ختم ہوگئی بلکہ عقیدت مندوں کے بھی انبار لگ گئے۔
ایسی ہی صورتحال سعودیہ میں بھی پیش آئی تھی جہاں آندھی کے طوفان میں کھلونوں کی ایک دوکان سے ربڑ کا بڑا سا گھوڑا ہوا کی تاب نہ لاتے ہوئے آسمان کی طرف اڑ گیا اور پھر جب لوگوں نے فضاؤں میں گھوڑا اڑتے دیکھا تو بے اختیار سبحان اللہ پکار اٹھے، یہ وڈیو اور اس کی حقیقت بھی انٹرنیٹ پر جابجا موجود ہے۔حال ہی میں ایک مذہبی شخصیت نے ایک بلی کے ماتھے پر مقدس نشان دیکھ کر اسے ’’محترمہ بلی‘‘ کا لقب عطا کیا ہے، شائد آپ تک بھی یہ وڈیو پہنچی ہو۔
ایک گنہگار مسلمان ہونے کے باوجود خدا اور اس کے رسولﷺ میری محبت کا مرکز ومحور ہیں، میں اپنے قارئین اور علمائے کرام سے اپنی رہنمائی کے لیے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا جانوروں، پھلوں اوردیگر چیزوں پر بمشکل پڑھے جانے والے ان ناموں کو خدا اور اس کے رسولﷺ سے منسوب کرکے معجزہ کا نام دینا مناسب ہے؟بادلوں کے ٹکڑے اپنی پوزیشنزتبدیل کرتے رہتے ہیں اور یوں کبھی کبھار حروف کی شکل بھی اختیار کرلیتے ہیں، کیا اس ترتیب کو مظہرِ نورِ خدا سمجھا جائے؟اور جب ایسی چیزیں غیر مسلم بھی پیش کریں تو انہیں کیا جواب دیا جائے؟نیز بعض اوقات ظاہر ہونے والی یہ اشکال کسی غیر مہذب روپ میں بھی نظرآتی ہیں ، اِنہیں کیا کہا جائے اور کس سے منسوب کیا جائے؟کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایسا کوئی ذکر کیا ہے ؟؟؟ کیا جس جانور پر ایسی کوئی حروف بنے ہوئے ہوں اس کے بارے میں کوئی حکم موجود ہے؟کیا ایسی چیزیں باعثِ برکت ہوتی ہیں؟ کیا خدا کوماننے کے لیے اِن چیزوں پر یقین لانا چاہیے؟کیا ایسی چیزیں دیکھنے سے ثواب بھی ملتا ہے؟خدا کے ہونے کا ثبوت قرآن ہے یا یہ چیزیں؟کیا ایسا نہیں ہوتا کہ بعض اوقات گھرمیں سفیدی بھی کرائی جائے تو اس کے چھینٹوں سے کوئی عجیب و غریب شکل بن جاتی ہے تو کیا یہ شکل بھی کوئی خاص اشارہ سمجھا جائے؟کیا ایسی چیزوں سے ان لوگوں کو مدد نہیں ملتی جو دعوے کرتے ہیں کہ ان کے روحانی پیشواکی شکل چاند میں نظر آتی ہے؟؟؟ میں آپ سب کے جوابات کا منتظر ہوں، آپ کی رہنمائی سے میری اور میرے جیسے بہت سے لوگوں کی عقل پر پڑے ہوئے پردے ہٹ سکتے ہیں .
____________________

11/07/2018

جاوید چوہدری کا انتہائی خوبصورت کالم ۔

فرانس میں ایک دن میں ایک کافی شاپ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا کہ میری برابر والی ٹیبل پر ایک داڑھی والا آدمی مجھے دیکھ رہا تھا میں اٹھ کر اسکے پاس جا بیٹھا اور میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ مسلمان ہیں ؟
اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’نہیں میں جارڈن کا یہودی ہوں۔
میں ربی ہوں اور پیرس میں اسلام پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں‘
میں نے پوچھا ’’تم اسلام کے کس پہلو پر پی ایچ ڈی کر رہے ہو؟‘‘
وہ شرما گیا اور تھوڑی دیر سوچ کر بولا ’’میں مسلمانوں کی شدت پسندی پر ریسرچ کر رہا ہوں‘‘
میں نے قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کہاں تک پہنچی؟‘‘
اس نے کافی کا لمبا سپ لیا اور بولا ’’میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور میں اب پیپر لکھ رہا ہوں‘‘
میں نے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کی فائنڈنگ کیا ہے؟‘‘
اس نے لمبا سانس لیا‘ دائیں بائیں دیکھا‘ گردن ہلائی اور آہستہ آواز میں بولا ’’میں پانچ سال کی مسلسل ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی سے محبت کرتے ہیں۔
یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر جاتے ہیں لیکن یہ نبی کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے‘‘
یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا‘ میں نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا‘
وہ بولا ’’میری ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے‘ یہ جب بھی اٹھے اور یہ جب بھی لپکے اس کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی‘ آپ خواہ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں‘ آپ ان کی حکومتیں ختم کر دیں۔ آپ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگا دیں یا آپ ان کا پورا پورا خاندان مار دیں یہ برداشت کرجائیں گے لیکن آپ جونہی ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام غلط لہجے میں لیں گے‘ یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا فرعون یہ آپ کے ساتھ ٹکرا جائیں گے‘‘
میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولا ’’میری فائنڈنگ ہے جس دن مسلمانوں کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں رہے گی اس دن اسلام ختم ہو جائے گا۔
چنانچہ آپ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کومسلمانوں کے دل سے ان کا رسول نکالنا ہوگا‘‘
اس نے اس کے ساتھ ہی کافی کا مگ نیچے رکھا‘ اپنا کپڑے کا تھیلا اٹھایا‘ کندھے پر رکھا‘ سلام کیا اور اٹھ کر چلا گیا
لیکن میں اس دن سے ہکا بکا بیٹھا ہوں‘ میں اس یہودی ربی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کیونکہ میں اس سے ملاقات سے پہلے تک صرف سماجی مسلمان تھا لیکن اس نے مجھے دو فقروں میں پورا اسلام سمجھا دیا‘
میں جان گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کی روح ہے اور یہ روح جب تک قائم ہے اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے‘ جس دن یہ روح ختم ہو جائے گی اس دن ہم میں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا-

10/26/2018

"ﻓَﺎﻧﻜِﺤُﻮﺍْ ﻣَﺎ ﻃَﺎﺏَ ﻟَﻜُﻢ ﻣِّﻦَ ﺍﻟﻨِّﺴَﺎﺀ ﻣَﺜْﻨَﻰ ﻭَﺛُﻼَﺙَ ﻭَﺭُﺑَﺎﻉَ"
(ﭘﺲ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﯾﺎ ﺗﯿﻦ ﯾﺎ ﭼﺎﺭ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ.)

10/13/2018

بسْــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيـــــْــمِ○

اَسْمَآءُالْحُسْنى

هُوَ َاللَّهُ الَّذِي
لَا إِلَهَ إِلاَّ اللّهُ هُوَ
❤الرَّحْمَنُ
❤ الرَّحِيمُ
❤الْمَلِكُ
❤الْقُدُّوسُ
❤ السَّلَامُ
💛 الْمُؤْمِنُ
💛الْمُهَيْمِنُ
💛الْعَزِيزُ
💛الْحَبَّارُ
💛 الْمُتَكَبِّرُ
💚الْخَالِقُ
💚الْبَارِئُ
💚الْمُصَوِّرُ
💚الْغَفَّار
ُ💚 الْقَهَّار ُ
💖 الْوَهَّابُ
💖الرَّزَّاقُ
💖الْفَتَّاحُ
💖الْعَلِيمُ
💖 الْقَابِضُ
💙 الْبَاسِطُ
💙الْخَافِضُ
💙الرَّافِعُ
💙 الْمُعِزُّ
💚الْمُذِلُّ
💜السَّمِيعُ
💜الْبَصِيرُ
💜الْحَكَمُ
💜الْعَدْلُ
💜 اللَّطِيفُ
❤الْخَبِيرُ
❤الْحَلِيمُ
❤الْعَظِيمُ
❤الْغَفُورُ
❤ الشَّكُورُ
💛الْعَلِيُّ
💛الْكَبِيرُ
💛الْحَفِيظُ
💛الْمُقِيتُ
💛الْحَسِيب
ُ💚الْجَلِيلُ
💚الْكَرِيمُ
💚الرَّقِيبُ
💚الْمُجِيبُ
💛الْوَاسِعُ
💖الْحَكِيمُ
💖الْوَدُودُ
💖الْمَجِيدُ
💖الْبَاعِثُ
💖الشَّهِيدُ
💙الْحَقُّ
💙الْوَكِيلُ
💙الْقَوِيُّ
💙الْمَتِينُ
💜الْوَلِيُّ
💜الْحَمِيدُ
💜الْمُحْصِي
💜الْمُبْدِئُ
💚الْمُعِيدُ
❤الْمُحْيِي
❤الْمُمِيتُ
❤الْحَيُّ
💚الْقَيُّومُ
❤ الْوَاجِد
ُ💛الْمَاجِدُ
💛الْوَاحِدُ
💚 الأحد
💛 الصَّمَدُ
💜الْقَادِرُ
💚الْمُقْتَدِرُ
💚الْمُقَدِّمُ
💚الْمُؤَخِّرُ
💙الْأَوَّل
💛الْآخِرُ
💜الظَّاهِرُ
💖الْبَاطِنُ
💖الْوَالِي
💖الْمُتَعَالِ
💚الْبَرُّ
💙التَّوَّابُ
💙الْمُنْتَقِمُ
💙الْعَفُوُّ
💙الرَّءُوفُ
💛مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
💚الْمُقْسِطُ
💜الْجَامِعُ
💚الْغَنِيُّ
❤الْمُغْنِي
❤الْمَانِعُ
💚الضَّارُّ
💛النَّافِعُ
💛النُّورُ
💛الْهَادِي
💛الْبَدِيعُ
💜الْبَاقِي
💚الْوَارِثُ
💚الرَّشِيدُ
💚الصَّبُورُ

🕋

10/13/2018

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
اے اللہ!
ساری دنیا کے مسلمانوں کو اکٹھا کر اور توفیق دے کہ تیری مدد سے دنیا سے کفر کا خاتمہ کردیں.آمین

10/08/2018

ریڈ الرٹ 🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨

*جون 2009 میں شیخوپورہ کے گاؤں اِٹانوالی کی ایک عیسائی خاتون نے مسلمان خواتین کے ساتھ مباحثہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی شان میں نازیبا زبان استعمال کی …
گستاخی کے ارتقاب کے بعد اس خاتون کے گھر پر اہل علاقہ نے حملہ کر دیا …پولیس نے بیچ بچا کر کے اس خاندان کو قتل ہونے سے بچا لیا … اور اہل علاقہ اس کیس کو شیخوپورہ کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں لے گئے ۔ جہاں گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے اور اس عیسائی خاتون کو ’’ نومبر 2010 میں موت کی سزا سنا دی گئی …
اس خاتون کے شوہر ’’ اسحاق مسیح ‘‘ نے فیٓصلہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو ’’ لاہور ہائی کورٹ ‘‘ میں چیلنج کرے گا … ایک ماہ کا گزرنا تھا کہ ’’ گورنر پنجاب سلمان تاثیر ‘‘ نے فیصلہ کیا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو وہ ’’صدارتی معافی کے اختیار ‘‘ کو استعمال کروانے کے لیے صدر آصف علی زرداری سے اس عیسائی گستاخ خاتون کی معافی کے لیے اپیل کرے گا …
اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے اس معافی کی اپیل پر سٹے آرڈر دیا … اور اس عیسائی گستاخ خاتون کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ شیخوپورہ کے جج ’’ محمد نوید اقبال ‘‘ کے فیصلے کو برقرار رکھا … اور اس عیسائی گستاخ خاتون کو ’’ کوٹ لکھ پت جیل لاہور کے 8x10 کے دیتھ سیل میں ڈال دیا گیا…
سلمان تاثیر اپنی گورنری کا اثر و رسوخ استعمال کر جیل میں اس گستاخ لعینہ سے ملاقاتیں کرنے لگا… اور پریس کانفرنس کر ڈالی کہ ایسے کالے قانون کو ہم نہیں مانتے جس سے کسی اقلیتی کی جان کو خطرہ ہو … میڈیا پر اس معاملے میں بحث و مباحثہ ہونے لگا …اور 4 جنوری 2011 کو کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں سلمان تاثیر کے ڈیوٹی گارڈ 26 سالہ ملک ممتاز قادری رحمہ اللہ نے AK-47 کا پورا بریسٹ اسکے جسم میں اتار دیا … دوسری جانب’’ وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی ‘‘ ان کوششوں میں تھا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-c کو تبدیل کر دیا جائے یا ختم کر دیا جائے…
انہی الزامات کی زد میں یہ وزیر بھی آ گیا … اور 2 مارچ 2018 کو اس وزیر کو اس کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا …
16 اکتوبر 2014 میں ایک بار پھر اس عیسائی خاتون کی اپیل کو مسترد کر دیا گیا …20 نومبر2014 کو صدر پاکستان کو پھر معافی کی اپیل کی گئی ۔ 24 نومبر 2014 کو اسحاق مسیح نے پھر اپنی بیوی کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا … اور 22 جولائی 2015 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس عیسائی خاتون کی سزائے موت کی سزا تب تک معطل کر دی جب تک اپیلوں کا فیصلہ نہیں آ جاتا …
26 مارچ 2016 میں دوبارہ ہائی کورٹ میں اپیل کی سماعت مقرر ہوئی ۔ 13 اکتوبر 2016 کو تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا … اسی صبح اسی بینچ کے جج ’’ جسٹس اقبال حمید الرحمٰن‘‘ نے اس کیس کی سماعت سننے سے انکار کر دیا اسی جج نے صدر پاکستان ممنون حسین کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا … اور موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 26 اپریل 2017 کو اسی عیسائی گستاخ خاتون کی اپیل کی درخواست منسوخ کر دی … کیا آپ لوگ جانتے ہیں یہ عیسائی گستاخ خاتون کون تھی …
جی اس کا نام ’’ آسیہ مسیح ‘‘ ہے ۔ اس خاتون کو بچانے کے چکر میں ایک گورنر پنجاب سلمان تاثیر موت کے منہ میں چلا گیا …
اسی ’’آسیہ مسیح ‘‘ملعونہ کو بچانے کے چکر میں ایک وفاقی وزیر موت کے منہ میں چلا گیا …
اسی ’’ آسیہ مسیح‘‘ ملعونہ کے خلاف ممتاز قادری نے پھانسی کا پھندا قبول کر لیا اور لعین سلمان تاثیر اسکے ہاتھوں مارا گیا …
تین لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن توھین رسالت کے قانون 295-c کے تحت ایک ثابت شدہ گستاخ لعینہ کو پھانسی نہ دی جا سکی …
بین الاقوامی این جی اوز ، بڑے بڑے پادری فرانس کے پاپ دوم رومن کیتھولک ساری کمیونٹی ایک فالسے کی کاشت کاری پر مزدوری کرنے والی لعین گستاخ خاتون کو بچانے میں لگے رہے … لیکن حکومتی مشینری بالکل مفلوج ہو گئی … اب 8 اکتوبر 2018 کو چیف جسٹس ثاقب نثار ہی کی قیادت میں 3 رکنی بینچ آسیہ مسیح ثابت شدہ گستاخ ملعونہ کی اپیل کی سماعت کرے گا …
میں پورے پاکستان کے علمائے کرام سے درخواست کرتا ہوں خدارا اس کیس پر کڑی نظر رکھیں … قانونی پیچیدگیوں پر تحقیق کریں … اور اس کیس میں تمام جماعتیں فریق بن کر سپریم کورٹ آف پاکستان کے روبرو پیش ہوں اور مطالبہ کریں کہ کیا وجہ ہے 9 برس بیت گئے ۔ اعلیٰ عدالتوں سے سزا یافتہ گستاخ لعینہ کو سزا کیوں نہیں دی جا سکی… آخر رسول اللہ ﷺ کی توھین کے خلاف یہ قانون کس طرح بے اثر ہو گیا …
اگر اس کو سپریم کورٹ نے بے گناہ ڈکلئیر کر دیا تو عیسائی مشنریاں پولیٹیکل اسائلم دلوا کر اس کو یورپ لے جائیں گی … اور اس خاتون کو ہیرو بنا کر الحاد پھیلانے کا کام لیا جائے گا … یہ اس مظلوم قانون کی داستان کا صرف ایک باب ہے اور اسکو مٹانے کی عالمی طاقتیں بھرپور کوششیں کر رہی ہیں …
خدارا کچھ سوچیئے*

👇
اور درج زیل کاموں کو فی الفور
اپنی روز مرّہ کی تر جیحات میں شامل کیجئے

گستاخ رسولﷺ آسیہ مسیح کی سزا کے خلاف 8 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں پھر سے سماعت ہے

لہذا تمام *سوشل میڈیا* پیجز کے ایڈمنز سے گُزارش ہے کہ اس پہ بھرپور کام شروع کریں اس پر...
پوسٹس کریں
لائیو پروگرامز کریں
ٹوئیٹر اور وٹس ایپ کے ذریعے *8 اکتوبر* سے پہلے پہلے عوام کو اس بارے میں خبردار کریں
اور * اہلسنت عوام* سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنا کردار ہمیشہ کی طرح ادا کریں اور اپنا سارا فوکس گستاخ رسولﷺ آسیہ ملعونہ کو سزا دلوانے کی جانب کریں
جزاک اللہ
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین* *(منقول)*

09/24/2018

‏‎
قرآن پڑھتے ہوئے لگتا ہے -
جیسے وہ دلاسہ دے رہا ہو - میں ہوں نہ تمہارے ساتھ

09/22/2018

‏شب عاشور کے اس پہر ایک التماس!
امام حسین کسی سُّنی کے ہیں نا شیعہ کے، دیوبندی کے ہیں نا اہل حدیث کے ۔۔ وہ ہمیشہ سے رسول اللہ کے تھے، ہمیشہ رسول کے رہیں گے اور ہم سب کو رسول اللہ سے محبت ہے ،اس میں شک نہیں لہذا بس ایک وعدہ ۔۔ہم حسین کے لیے لڑیں گے حسین پر نہیں لڑیں گے(آمین)

09/21/2018

طالبعلم: حضرت جی ۔۔۔ ایک سوال ذہن میں آ رہا ہے۔
ناصبی دانشور: کوئی کفریہ بات تو نہیں؟
طالبعلم: نہیں حضرت جی۔
ناصبی دانشور: چلو پوچھ لو۔
طالبعلم: حضرت جی، کربلا کے میدان میں امام حسین اور ان کے خانوادے کو شہید ۔۔۔۔۔ مم ۔۔۔ میرا مطلب ہے قتل کرنے والے کیا مسلمان تھے؟
ناصبی دانشور: بے شک وہ مسلمان تھے اور ان میں بڑے جلیل القدر تابعی بھی تھے۔
طالبعلم: کیا وہ نماز بھی پڑھتے تھے؟
ناصبی دانشور: بے شک ۔۔۔۔۔ وہ بڑے اونچے درجے والے مسلمان تھے ۔۔۔۔ صوم و صلواۃ کے پابند ۔۔۔۔ با شرع ۔۔۔۔۔
طالبعلم: انہوں نے دس محرم کو بھی نماز پڑھی ہو گی؟
ناصبی دانشور: یقیناً پڑھی ہوگی ۔۔۔۔۔۔ تمہیں ان کی نماز سے کیا تکلیف ہے؟
طالبعلم: تکلیف تو کوئی نہیں لیکن حیرانی ضرور ہے ۔۔۔۔ انہوں نے نماز میں اللھم صلی علیٰ محمد و علیٰ آل محمد بھی پڑھا اور سلام پھیر کر آل محمد کو ذبح بھی کر دیا ۔۔۔۔ یہ کیسے ۔۔۔۔۔۔۔
ناصبی دانشور: دفع ہو جا کمبخت ۔۔۔۔۔۔ تجھ پر رافضیوں کا رنگ چڑھ گیا ہے۔

Address

3580 S George Mason Dr
New Alexandria, VA
22314

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ISLAM the peaceful Relegion posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Videos

Category

Nearby shops

Comments

Assalam o alikum . Dosto say guzaresh hai k ye page like kare es page par app log online quran daliy sun sakty hai Thank you
myre frnd boht zaida critical condition main ha .kindely pry for her.ALLAH usy hosh m ly aye or usy sehat dy ameen.thanku :(