26/09/2022
محمد علی جناح سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ گاندھی جی ریل کے تھرڈ کلاس ڈبے میں سفر کرتے ہیں جبکہ آپ ہمیشہ فرسٹ کلاس کوچ میں سفر کرتے ہیں ۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
عرض کیا کہ گاندھی جی تھرڈ کلاس میں بھی سفر عوام کے چندے یعنی پارٹی فنڈ سے کرتے ہیں ۔ جبکہ میں فرسٹ کلاس کا سفر بھی اپنے ذاتی پیسے سے کرتا ہوں ۔
یاد اس لئے آیا کہ میاں شہباز شریف نے ہر بیرونی دورہ اپنے خرچے پر کیا بلکہ اپنے ساتھ گئے وزراء کو بھی اس پر راضی کیا کہ تمام اخراجات وہ اپنی جیب سے کریں اور دورے کا بوجھ عوام کی جیب پر نہ ڈالیں ۔ میاں شہباز شریف دس ھزار ڈالر کرائے والے کمرے میں رہے تب بھی قومی خزانے سے نہیں اپنے ذاتی خرچ پر رہتا ہے ۔ موجودہ دورے پر پچھتر ہزار ڈالر کا خرچ شہباز شریف نے اپنی جیب سے ادا کیا ہے ۔
یہی نہیں میاں شہباز شریف جب وزیر اعلیٰ تھے تب بھی بیرون ملک سرکاری دورے وہ اپنے خرچ پر کرتے تھے ۔ 2012 میں قاف لیگ کی ایک خاتون ایم پی اے نے اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ کے بیرون ملک دوروں کا حساب اسمبلی میں پیش کیا جائے ۔ جس پر اسمبلی میں جواب جمع کرایا گیا کہ وزیر اعلیٰ صاحب نے تمام دورے اپنے ذاتی خرچ پر کیئے ہیں ۔
2014 میں ایک عام شہری نے انفارمیشن ایکٹ کے تحت وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی سرکاری گاڑی کے استعمال اور پیٹرول اخراجات کے بارے میں سوال کیا ۔ تو جواب دیا گیا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف سرکاری گاڑی کی بجائے ذاتی گاڑی استعمال کرتے ہیں اور پیٹرول اور گاڑی کا مینٹیننس بھی اپنی جیب سے کرتے ہیں ۔
عمران خان جب وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے میاں نواز شریف کے سرکاری اخراجات کے گوشوارے لانے کا حکم دیا تا کہ پہلا کیس ہی غیر ضروری اخراجات کا بنایا جائے ، لیکن خان صاحب کو یہ جان کر دھچکا لگا کہ وزیر اعظم ھاؤس کے کھانے پینے کے اخراجات میاں نواز شریف اپنی جیب سے دیتے تھے اور تمام ادائیگیاں چیک سے کرتے تھے جن کا ریکارڈ موجود ہے ۔۔
تو عرض یہ کرنا تھا کہ نیازی دال بھی کھائے تو دوسروں کی جیب سے کھاتا ہے جبکہ میاں دس بیس ڈشیں بھی کھائے تو اپنی جیب سے کھاتا ہے ۔
قاری حنیف ڈار بقلم خود ۔